جامعہ ۱سے فراغت کے معا ًبعد ہمارے لئے اب ایک نئے دور کا آ غاز ہوا۔ ہماری کلاس چھ طلبہ پر مشتمل تھی۔ (۱) صاحبزادہ مرزا حنیف احمدصاحب ۲ (۲) سید عبدالحی صاحب ۳ (۳) برادرم سلطان محمود انور صاحب ۴ (۴)برادرم بشیر احمد صاحب شاد ۵ (۵) شیخ رشید احمد صاحب ۶ اور خاکسار فضل الٰہی انوری۔ ان میں سے تین طلبہ صدرانجمن ۷ کے لئے مخصوص کئے گئے تھے۔ اور مؤخرالذکر تین انجمن تحریک جدید کے لئے۔ اس اعتبار سے گویا خاکسار منجملہ دیگر دو طلبہ کے تحریک جدید کے ماتحت تھا۔ چنانچہ جامعہ کی اس وقت کی آخری کلاس درجہ رابعہ کا امتحان دینے کے بعد ہم تینوں دفتر وکالت دیوان کے توسط سے دفتر وکالت تبشیر میں بھجوا دئے گئے۔ اب ہم گویا باقاعدہ ،،مبلغ،، بن چکے تھے یا یہ کہ ،،مبلغ،، کہلائے جانے کے مستحق قرار پا چکے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ دفتر وکالت تبشیر میں میرے دونوں دوستوں کے سپرد کیا کام ہوا، مگر میرے سپرد جو پہلا کام کیا گیا وہ یہ تھا کہ میں جا کر ڈاکخانہ سے تبشیر کی ڈاک لے آؤں۔ غالباً مددگار کارکن جو بھی تھا کسی اور کام کے لئے گیا ہوا تھا۔ اس وقت دفتر تبشیر تو اپنی مستقل موجودہ عمارت میں آ چکا تھا مگر ڈاکخانہ ابھی تک اپنی پرانی ، سب سے پہلی کچی اینٹوں سے تعمیر شدہ عمارت میں ہی تھا۔ جو تقریباً اس جگہ واقع تھی جو دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ (حال پاکستان) کے سامنے ہے اور جہاں اس وقت انس مارکیٹ بنی ہوئی ہے۔
وکالت تبشیر کا عملہ اس وقت وکیل التبشیر (مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) اور دو نائبین پر مشتمل تھا جن میں سے ایک حسن محمد خان صاحب (حال امریکہ) اور دوسرے مولوی بشارت احمد صاحب (المعروف سندھی) سابق مبلغ مغربی افریقہ تھے۔ ان میں سے اول الذکر یورپین اور امریکن مشنوں کے نگران تھے اور ثانی الذکر افریقن اور انڈونیشین مشنوں کے نگران تھے۔ ہمارے زیادہ تر مشن انہی ممالک میں تھے۔ میرے وکالت تبشیر میں پہنچنے کے چند دن بعد ہی میری تعیناتی غانا میں ہو گئی۔ تحریراً جو حکم ملا وہ تو صرف اتنا تھا کہ میں غانا جانے کے لئے تیار ہو جاؤں۔ زبانی یہ بھی علم ہوا کہ وہاں کوئی عربی سکول ہے جس کا میں نے وہاں جا کر چارج لینا ہے۔ چونکہ تفصیل نہیں بتائی گئی تھی اس لئے طبعاً مجھے تجسس پیدا ہوا کہ معلوم کروں وہ کس قسم کا سکول ہے۔ کہاں ہے۔ اس کا کیا معیار تعلیم ہے۔ کیا صرف عربی کی تدریس کے لئے مخصوص ہے یا کوئی اور مضمون بھی نصاب میں شامل ہو گا، وضیرہ۔ چنانچہ خاکسار نے یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ایک چٹھی مکرم وکیل التبشیر صاحب کو لکھی۔ اس کا جواب ملا کہ وہ سکول غانا میں بمقام ،،سویڈرو،، (swedro) ہے۔ باقی تنصیلات میں دفتر میں خود پہنچ کر حاصل کروں۔جب اس غرض کے لئے میں دفتر میں پہنچا تو مجھے مکرم مولوی بشارت احمد بشیر صاحب سے ملنے کو کہا گیا۔ ان سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ دیکھیں وہ سکول سویڈرو میں ہے۔ وہ بڑی اچھی جگہ ہے۔ وہاں پر ہماری جماعت بھی قائم ہے۔ اور باقی سکول کے متعلق آپ کو وہاں پہنچ کر سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ یہ تھیں ،،تفصیلات،، جو مجھے دفتر میں دی گئیں۔ دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا، خود دفتر کو بھی اس سے زیادہ کچھ علم نہ تھا۔ بہر حال مجھے جلد سے جلد سفر کی تیاری کے لئے کہہ دیا گیا۔ اسی دوران دفتر تبشیر نے مجھے سفر کے سلسلے میں ایک اضافی اطلاع دی۔ یہ کہ میں غانا (مغربی افریقہ) پہنچنے سے پہلے ۶ ماہ دمشق میں ٹھہروں گا تا کہ وہاں عربی زبان میں مہارت پیدا کروں۔ یہ کہ کراچی سے دمشق تک کا سفر خشکی کے راستہ ہو گا، جس کے لئے مجھے ایران اور عراق میں سے بذریعہ بس یا ریل کرنا ہوگا۔ اس کے لئے سارا انتظام کرنے کے لئے کراچی میں متعین مبلغ انچارج صاحب کو لکھا جا رہا ہے۔ یہ راستہ میرے لئے کیوں تجویز کیا گیا۔،نہ اس کے بارہ میں مجھے کچھ بتایا گیا، نہ مجھے دریافت کرنے کی جرائت ہوئی۔ میں واقف زندگی تھا اور مجھ سے امید کی جاتی تھی کہ میں سمعاً و طاعۃً کا نمونہ پیش کروں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ثا لثہ کے دور میں حدیقۃ المبشرین کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے یہ صورت نہیں رہی۔
میرے بیرون ملک جانے کے اس پروگرام کی اطلاع میرے والدین (جو ابھی تک بھیرہ میں مقیم تھے) میرے بھایئوں ، بہنوں، میرے اہل خانہ کے علاوہ میرے دوستوں اور اہل محلہ سب کو ہو گئی۔ اور یہ سب اپنے اپنے رنگ میں مجھے الوداع کہنے کی تیاری کرنے لگے۔ سب سے پہلی الوداعی پارٹی جو اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی تھی کہ اس میں حضرت المصلح الموعودؓ نے بھی شرکت فرمائی، جامعۃ المبشرین کی طرف سے تھی۔یہ پارٹی جو دریائے چناب کے پل کے پاس اس کے مغری کنارے کے اوپر ریتلے حصہ پر منعقد ہوئی، دراصل ایک پکنک کی صورت میں تھی جو اس وقت کے پرنسپل جناب مولٰنا ابوالعطائ صاحب جالندھری (مرحوم) کی خواہش اور انتظام کے مطابق دریائے چناب پر منعقد ہونی قرار پائی۔ دراصل اس پکنک کا پروگرام بہت پہلے سے طے قرار پا چکا تھا اور مکرم پرنسپل صاحب کا خیال یہ تھاکہ یوں ایک کھلی فضا میں جامعہ کے طلبہ کو جن کے سر پر مستقبل قریب میں دنیا کی قوموں کی اصلاح کا بار رکھا جانے والا ہے، حضرت المصلح الموعودؓ کے جسمانی اور روحانی قرب کا موقع میسر آ جائے۔ جب خاکسار کے بیروں ممالک روانہ ہونے کے پروگرام سے مکرم پرنسپل صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ تم بھی آ جانا،یوں تمہاری الوداعی پارٹی بھی ہو جائے گی۔
اس پارٹی کے پروگرام کی تفصیل تو اس وقت ذہن سے محو ہو گئی ہے مگر اس قدر یاد ہے کہ تکلفات سے بالکل مبرا ۳۔۴ گھنٹے کا یہ مرنجان مرنج قسم کا پروگرام ادب و مزاح کا ایک حسین امتزاج اپنے اندر رکھتا تھا۔ ْفجی(؟) کے ایک طالبعلم جمن بخش نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو زبان میں چند ایک لطیفے سنائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ چین میں لوگ اپنے بچوں کے نام کیسے رکھتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو تین لوہے کی سلائیاں آگ میں رکھ دیتے ہیں۔ جب وہ اچھی طرح گرم ہو کر لال ہو جاتی ہیں تو انہیں پکڑ کر پانی میں ڈبوتے ہیں۔ پھر جس قسم کی آواز ان میں سے نکلے وہی نام نچے کا رکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً چوں، چاں، چی وغیرہ۔ یہ لطیفہ سنانے کا مقصد دراصل ایک چینی طالبعلم برادرم عثمان چینی صاحب ۱ کے ساتھ مزاح کرنا تھا۔ طلبہ تو خیر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ حضور بھی خوب تبسم فرماتے رہے۔ اسی طرح خود عثمان چینی صاحب سے اردو میں ایک تقریر کروائی گئی۔ چونکہ ان کا اردو کا مخصوص تلفظ جو سننے والے کے لئے ایک عجیب حظ پیدا کرتا تھا، بجائے خود ایک لطیفہ تھا۔ ان کی ساری تقریر جملہ حاضرین کے لئے ہنسی کا گول گپا ثابت ہوئی۔ جن دوستوں نے انہیں دیکھا ہوا ہے وہ جانتے ہوں گے کہ وہ ابھی تک، گ، اور، ڑ، ادا نہیں کر سکتے۔ ان کی تقریر کا موضوع غالباً ،،دعا،، تھا۔، جس میں،، گڑ گڑانے،، کا لفظ بار بار آتا تھا۔ مگر ان کی زبان سے ،کرکرانا،،ہی نکلتا تھا۔ جس نے خوب حظ پیدا کیا۔ سب سے زیادہ دلچسپ حصہ برادرم قریشی ناصر احمد (شہید مرحوم) کی ایک تقریر تھی جس میں انہوں نے بعض علمائے سلسلہ کی تقریروں کے حصے خود انہی کے مخصوص لب و لہجہ میں بول کر سنائے۔ اور اس مہارت سے سنائے کہ خود بخود معلوم ہو جاتا تھا کہ کن صاحب کی تقریر ہے۔ ان میں مکرم حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ ، جامعہ کے بعض اساتذہ اور خود پرنسپل صاحب کے علاوہ خود حضرت المصلح الموعودؓ کی تقریر کے حصے (حضور کی اجازت سے) شامل تھیں، جنہیں حضور بھی سن کر بہت محظوظ ہوئے اور قریشی صاحب کی مہارت کی تعریف کی۔
دوران پروگرام ہی کسی وقت مکرم پرنسپل صاحب نے حضورؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ (خاکسار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) عنقریب دمشق کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔ حضور نے اس موقع پر جو نصائح فرما ئیں ان میں سے عربی زبان سیکھنے کے بارے میں فرمایا کہ ایک تو اپنے لوگوں (مراد اپنے اردو یا پنجابی بولنے والوں سے) نہ ملنا بلکہ زیادہ سے زیادہ عربوں کے ساتھ میل جول رکھنا ،ورنہ سالہا سال بھی رہو گے تو تمہیں زبان نہیں آئے گی۔ دوسرے، بڑی بڑی ادبی کتابوں کی بجائے ہلکی پھلکی قسم کا لٹریچر از قسم قصص پڑھنا۔یہ کہ ادبی کتاب ذہن کو جلدی تھکا دیتی ہے مگر قصہ پڑھتے ہوئے انسان نہیں تھکتا۔ تیسرے ،ایسی کتابوں کو صرف ایک دفعہ پڑھنا کافی نہ ہوگا بلکہ کئی کئی بار پڑھنا۔ پہلی دفعہ تو انسان دلچسپی
کی خاطر پڑھتا ہے، لیکن دوسری، تیسری اور چوتھی دفعہ زبان کی خاطر پڑھنا ضروری ہے۔ اسی طرح تمہیں زبان کے محاوروں سے اطلاع ہو جائے گی۔ اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نے ایک انگریزی کا ناول اٹھارہ دفعہ پڑھا۔ چوتھے فرمایا کہ بولنے کی کوشش کے ساتھ عربی میںسوچنے کی مشق پیدا کرنی چاہئے ۔
حضور کی یہ قیمتی نصائع خاکسار کے لئے عربی زبان اور بعد میں جرمن زبان سیکھنے میں بہت ممد ثابت ہوئیں۔
دوسری الوداعی تقریب اہل محلہ (دالالبرکات) کی طرف سے تھی۔ خاکسار اپنے محلہ کا واحد فارغ التحصیل ہونے کے علاوہ محلہ کا جنرل سیکریٹری اور مجلس خدام الاحمدیہ محلہ دارالبرکات کا پہلا زعیم تھا۔ (مجلس خدام الاحمدیہ دارالبرکات کا قیام خاکسار کی ہی کوشش سے عمل میں آیا)۔ یہ تین الگ الگ تقریبات تھیں۔ اہل محلہ کی طرف سے ،مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے اور مجلس اطفال الاحمدیہ کی طرف سے۔ صدر محلہ راجہ ضیائ الدین صاحب ۱ مرحوم و مغفورخاکسار کا واقف زندگی ہونے کی وجہ سے بہت احترام کرتے تھے۔ انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ ایک دعوت طعام منعقد کر کے مجھے اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ اسی طرح دوسری دونوں پارٹیاں بھی اس وقت کے خدام و اطفال محلہ کی محبت اور عقیدت کی آئینہ دار تھیں۔
روانگی سے چند دن قبل جو ماہ فروری ۱۹۵۶ئ کی کسی تاریخ کو ہوئی، دو بزرگان سلسلہ نے مجھے خاص طور پر اپنے ہاں بلا کر اپنی مخلصانہ دعاؤں اور نصائح سے نوازا۔ ان میں سے پہلے بزرگ مکرم چوہدری محمد شریف فاضل، سابق مبلغ فلسطین بعدہى حال پروفیسر جامعہ احمدیہ تھے اور دوسرے مکرم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی سابق مبلغ بلاد عربیہ تھے۔ دونوں کو ملک شام میں کچھ عرصہ ٹھہرنے اور وہاں جماعت سے متعارف ہونے کی سعادت نصیب تھی۔ہر دو اصحاب نے مجھے اپنے اپنے رنگ میں بعض نصائح بھی فرمائیں اور میرے سفر میں کامیابی کے لئے دعا بھی کے جس کے لئے میں ان بزرگوں کا تہ دل سے ممنون ہوں۔
خاکسار کی سالہا سال تک ہونے والی جدائی کا تصور جہاں خاکسار کے والدین اور اہلیہ کے لئے بہت صبر آزما تھا وہاں ایک اور بزرگ شخصیت کے لئے بھی ایک روحانی صدمہ سے کم نہ تھا۔ ان کا نام پروفیسر اخوند عبدالقادر ہے۔ اخوند صاحب مرحوم کو شروع سے ہی یعنی جب سے خاکسار قادیان میں تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہوا ،بہت محبت تھی، جس کا کسی قدر بیان خاکسار اپنے دور طالبعلمی کے ضمن میں کر چکا ہے، محبت اور پیار کا یہ تعلق کالج کے لاہور آ جانے اور مؤخر پر ربوہ آ جانے کے بعد بھی قائم رہا، گو ۱۹۵۰ئ مین بی ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد خاکسار کا عملاً ٹی وآئی اے کالج سے رشتہ ختم ہو چکا تھا مگر اخوند صاھب مرحوم خاکسار کو اب بھی اسی محبت سے پیش آتے تھے۔ کالج کی مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد اکثر خاکسار کے مکان، جو محلہ میں صرف ایک کوٹھے سے عبارت تھا، پر پہنچ کر مجھے آواز دیتے اور پھر مجھے اپنے ساتھ جانے کو کہتے۔ ہم کبھی کالج کے کسی موضوع پر، کبھی ان کی عائلی زندگی کے کسی پہلو پر اور کبھی کسی علمی، سیاسی یا جغرافیائی موضوع پر بات کرتے جاتے۔ اکثر میرا ردل سامع کا ہی ہوتا۔ ان کا مطالعہ، تبحر علمی اور معلومات عامہ کا اس قدر دائرہ وسیع تھا کہ میں ان کی اس محبت کو ایک غنیمت سمجھتے ہوئے ان سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا۔ ان کا مقصد بھی اپنے اظہار محبت کے علاوہ میری معلومات میں اضافہ کرنے کا ہوتا۔ چلتے چلتے ہم کبھی کسی ٹی سٹال پر پہنچ جاتے اور آمنے سامنے بیٹھ کر گھڑیوں چائے سے لطف اندوز ہوتے رہتے۔ کبھی سیر کی خاطر ربوہ کی مختلف آبادی (جو اس وقت زیادہ تر ھلقہ جات ا ۔ ب اور ج پر مشتمل تھی اور قریباًساری کی ساری ریلوے لائن اور لائلپور۔ سرگودہا والی پکی سڑک کے درمیان پہاڑی کے جانب غرب واقع تھی) سے باہر نکل کر کھیتوں کی طرف نکل جاتے۔ یہ ہمارا قریباً روزمرہ کا مشغلہ تھا۔ میری روانگی کا پروگرام بنتے ہی وہ بہت مغموم رہنے لگ گئے۔ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ انہوں نے الفاظ میں اپنی اس کیفیت کا اظہار کیا ہو مگر میں ان کی گفتار سے بخوبی اندازہ لگا رہا تھا کہ ان کے دل کی کیا کیفیت ہے۔
سب سے بڑھ کر صبر و رضا اور استقامت کا نمونہ اس خاتون نے دکھایا جو میرے ساتھ سب سے زیادہ جسمانی اور روحانی تعلق رکھتی تھی، یعنی
میری رفیقہ حیات ۱، جس کی زندگی کا واحد سہارامیں ہی تھا ،مگر اس اللہ کی بندی نے کبھی ایک بار بھی نہ کہا کہ اب میرا کیا بنے گا۔ بلکہ جو کہا وہ زبان حال و قال سے اس صالح خاتون کے الفاظ کی ترجمانی تھا جس نے اپنے بزرگ شوہر سے یہ سن کر کہ وہ اسے اور اس کے جگر گوشے کو محض اللہ کی خاطر ایک بے وآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، کہا ،،تو پھر اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا،،۔ ہماری حفصہ بیٹی اس وقت صرف چار سال کی تھی ۔ ماں باپ کے نازو نعمت سے برابر کے حصہ کی پرورش اور نگہداشت پانے والی اس معصوم بچی کی ذمہ واری بھی اب کلیتاً اس کی ماں پر پڑنے والی تھی۔میرے والدین اور میرے بھائیوں یا بہنوں میں سے کوئی بھی اس وقت ربوہ میں موجود نہ تھاکہ ان کے سہارے کی امید ہوتی اور نہ ہی ان کے حالات انہیں ربوہ آنے کی اجازت دیتے تھے۔ رہے میرے سسرال تو ان میں سے کوئی فرد ایسا نہ تھا جو ہمارے ان حالات میں ہمارا ساتھ دے سکتا۔ کیو نکہ اول تو وہ جیسے بھی تھے دور افتادہ ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ پھر وہ انپڑھ ، مصیبت زدہ، بے گھر اور بے سہارا تھے۔ بھائی تو شروع سے کوئی تھا ہی نہیں۔ ایک ہی چھوٹی بہن تھی جو چھوٹے چھوٹے چھ بچوں کی ماں تھی۔ اس کا اپنی ذمہ واریوں سے سبکدوش ہونا ایک الگ مسئلہ تھا۔ اس کی والدہ یعنی میری خوشدامن البتہ ایک ایسا وجود تھی جس کی طرف مادی سہارے کی تلاش کے وقت ہم دونوں کی آنکھیں اٹھتیں۔ جب انہیں خط لکھا گیا، وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے ہاں ہی رہتی تھیں، وہ چند دنوں میں ربوہ پہنچ گئیں۔ جب انہیں بتایا گیا کہ میں ایک لمبے سفر پر جا رہا ہوں، جہاں سے میرے لئے چار پانچ سال سے پہلے واپس وطن آنا مشکل ہو گا، تو وہ دم بخود ہو کر رہ گئیں۔دیہات کی رہنے والی، زمانے کے اتار چڑھاؤ سے ناواقف، ادھیڑ عمر کی اس خاتون کو صرف اتنی سمجھ آ سکی کہ میرا داماد کسی دور دراز ملک میں نوکری پر جا رہا ہے اور یہ کہ اس پروگرام کو بدلنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ وہ جو اپنی ساری زندگی میں خود مصیبتوں کے پہاڑ جھیلتی رہی، اپنی بیٹی کے لئے ایک اور مصیبت سہنے کے لئے تیار ہو گئی۔ چونکہ اس کے لئے اپنی چھوٹی بیٹی کو بھی کلیۃً چھوڑ کر آ جانا ممکن نہ تھا، اس لئے انہوں نے یہ وعدہ تو نہ کیا کہ اب وہ ربوہ میں ہی رہیں گی، نہ ہم نے ان حالات کے پیش نظر ان سے یہ وعدہ لیا۔ پس زبانی زبانی یہی طے پایا کہ وہ جو پہلے اپنی اس بیٹی کی ذمہ واریوں سے کلیۃً آزاد تھی اس کے پاس بھی آتی رہے گی۔
میری روانگی سے پہلے پہلے میرے والدین اور بھائیوں، بہنوں کے علاوہ بھیرہ سے میرے ننہیال کے کچھ لوگ بھی رخصت کرنے کیلئے پہنچ چکے تھے۔ گویا گھر میں ایک اچھی خاصی رونق اورچہل پہل سی ہو گئی جس نے وقتی طور پر ہم دونوں میاں بیوی کی عنقریب ہونے والی جدائی کا غم ہلکا کر دیا۔ میری بیوی کو بس ایک ہی فکر تھا کہ میرا یہ سفر جس کی دشوار گذاری کا پورا تصور اسے نہ تھا، آرام اور خیریت سے طے ہو۔ گھر کی چیزوں میں سے جو بھی اس کے خیال میں مجھے سفر میں کام آ سکتی تھی، مجھے دینے لگی۔ ،،حفصہ کے ابا، یہ بھی رکھ لو اور وہ بھی رکھ لو،،۔ حٹٰی کہ بہت سی قیمتی اشیائ جو اسے جہیز میں ملی تھیں، مجھے دے دیں۔ ان میں سے بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو گئیں۔ مجھے سب سے زیادہ افسوس ۳ ماہ کی پیشگی تنخواہ بھی حفصہ کی والدہ کے اصرار پر ساتھ لے جانے کا ہے، جو اس وقت کے تحریک کے قواعد کے مطابق ہر باہر جانے والا مبلغ پیشگی حاصل کر سکتا تھا۔ بالخصوص اس لئے کہ چند ہفتوں بعد ہمارا دوسرا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ خود مجھے بھی خیال نہ آیا کہ رقم کی زیادہ ضرورت تو میری نسبت خود حفصہ کی والدہ کو ہو گی۔ بنک بیلنس تو تھا نہیں، نہ اس قسم کی چیز سے ہم آشنا تھے۔ رہا ماہانہ الاؤنس (ایک واقف زندگی کو ملنے والی تنخواہ کا دوسرا نام)تو اس کی یہ کیفیت تھی کہ باوجود ہر قسم کی کفایت شعاری کے مہینہ ختم ہونے سے پہلے پہلے نہ صرف ختم ہو چکا ہوتا تھا بلکہ اس کے برابر قرض ہو جایا کرتا تھا۔ گویا الاؤنس قرضوں کی ادائیگی میں ختم ہو جاتا اور پہلی تاریخ سے نیا قرض شروع ہو جاتا۔ وہ پیدائش کا وقت جو میرے جانے کے قریباً ایک ماہ بعد ہی آ گیا، کیسے کٹا، مجھے آج تک معلوم نہیں۔
اس وقت مبلغین کی روانگی کا منظر ایک خاص اہتمام اپنے اندر رکھتا تھا۔ جس دن مبلغ نے روانہ ہونا ہوتا تھا، اس سے ایک آدھ دن پہلے وکالت تبشیر کی طرف سے مسجدوں میں یہ اعلان ہو جاتا کہ آج یا کل فلاں مبلغ صاحب اعلائ کلمۃ اللہ کے لئے بیروں پاکستان روانہ ہو رہے ہیں، احباب اپنے اس مجاہد بھائی کو ریلوے سٹیشن پر دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں۔
خاکسار کی نسبت بھی ایسا ہی اعلان ہونے کا دن آن پہنچا۔ روانگی عموماً چناب ایکسپریس پر ہوتی جو ۹ اور ۱۰ بجے صبح کے درمیان ربوہ سے برائے کراچی کے لئے روانہ ہوتی تھی۔ ان دفتری اوقات میں تمام دفاتر کے کارکنان اور اہالیان محلہ ریلوے سٹیشن پر پہنچ جاتے۔ اور قطاریں بنا کر اپنے مبلغ بھائی سے مصافحہ یا معانقہ کرتے جاتے۔ موسم کی مناسبت سے پھولوں کے ہار بھی پہنائے جاتے۔ پھر گاڑی پہنچنے سے پہلے پہلے حاضرین میں سے کوئی بزرگ دعا کروا دیتے۔ گاڑی پہنچنے پر نعرہ ہائے تکبیر اور اسلام زندہ باد ، احمدیت زندہ باد۔ وغیرہ سے فضا گونج اٹھتی۔ یہ جملہ نظارہ گاڑی میں سوار مسافروں کے لئے اچھی خاصی توجہ کا مرکز بن جاتا اور جلد ہی انہیں معلوم ہو جاتا کہ کوئی مجاہد اسلام کسی بیرون ملک کے لئے روانہ ہو رہے ہین۔ یہ سماں گاڑی کی روانگی تک جاری رہتا۔ اور یوں ایک مبلغ اپنی بیوی بچوں سے چار پانچ سال کے لئے جدا ہو جاتا۔
مجھے رخصت کرنے کے لئے دفتری کارکنان، اہالیان محلہ جات اور دیگر دوستوں اور احباب کے علاوہ جامعہ کے جملہ طلبہ اور تعلیم الاسلام کالج کے بہت سے طلبہ، جن میں سے میں کسی کو جانتا تک نہ تھا، پھولوں کے ہار لے کر پہنچے ہوئے ہوتے۔یہ سب پروفیسر ، اخوند محمد عبدالقادر صاحب مرحوم کی مہربانی سے تھا۔ ملاقاتیوں میں سے جس کی ملاقات نے جملہ حاضرین کو بے حد متاثرکیا وہ پروفیسر اخوند صاحب کی ملاقات تھی۔ وہ ایسے ،،گھٹ،، کر ملے اور اتنی دیر تک بغلگیر رہے کہ سب دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ اکثر کو بلکہ شاید کسی کو بھی ہمارے باہمی تعلقات کا علم نہ تھا اور ہوتا بھی کیسے۔ میں ایک نامعلوم سا جامعہ کا طالبعلم ، کالج چھوڑے مجھے ۶ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ کالج کے پروفیسران میں سے سوائے چند ایک کے جن کا میںشاگرد رہ چکا تھا، باقی سب نئے تھے۔ اور جو پرانے پروفیسران تھے ان کو یہ تو علم تھا کہ میں اخوند صاحب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے ہوں مگر میں خود ان کے عزیز ترین شاگردوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس لئے ان تعلقات کو جو اخوند صاحب مرحوم ناور میرے درمیان بے لوث محبت پر مبنی تھے، سوائے میرے اور اخوند صاحب مرحوم کے اور کوئی نہ چانتا تھا۔
یوں پھولوں سے لدا پھاندا فضل الٰہی انوری مسکراتے ہوئے چہروں کے درمیان تکلف آمیز مسکراہٹ چہرے پر بکھیرے ہوئے چناب ایکسپریس پر سوار ہوا۔ اسے کچھ علم نہ تھا کہ حفصہ کی والدہ پر کیا گذررہی ہے۔ اس حالت کا کسی قدر نقشہ ان خطوط میں کھینچا ہوا تھا جو ام حفصہ کی طرف سے مجھے دمشق میں پہنچ جانے کے بعد ملنے شروع ہوئے اور یا چار سال کے بعد واپس گھر پہنچ جانے پر خود اسی کی زبانی معلوم ہوا جو یہ قریباً قریباًیہ تھا۔
،،آپ کے گاڑی پر سوار ہو جانے کے بعد میری حالت ایسی ہو گئی گویا جان میں جان نہیں۔۔۔۔ بڑی مشکل سے گھر پہنچی۔۔۔شام سے پہلے پہلے رشتہ داربھی اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔ دوسرے دن پھوپھی جی (یعنی خاکسار کی والدہ) بھی بھیرہ چلی گئیں۔۔۔اب ماں تھی، میں تھی یا میری بیٹی حفصہ..... ماں نے کھانا پکایا ہوا تھا۔۔۔مجھے تو بھوک ہی نہ تھی۔ ویسے ہی سو گئی۔۔۔حفصہ سارا دن مجھے چمٹی رہی۔۔۔دوسرے دن بھی قریباً یہی حالت رہی۔۔۔میری یہ حالت دیکھ کر ماں کہنے لگی ،تم غم کروگی تو بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے،۔ مگر میں تھی کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتی تھی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ۔حفصہ بھی بالکل خاموش ہو گئی۔۔۔ کبھی پوچھ لیتی: امی ابو کب آئیں گے۔۔۔میرے پاس اس سوال کا جواب ہوتا تو دیتی۔ سوال کا جواب دینے کی بجائے میری آنکھوں سے چند آنسوں ٹپک پڑتے،،
ادھر میںچناب ایکسپریس سے سفر کرتے ہوئے میں دوسرے دن کراچی پہنچ گیا۔ ریلوے سٹیشن پر مکرم مولٰنا عبدالمالک خان صاحب ۱ (مرحوم و مغفور) مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ میں احمدیہ ہال پہنچ گیا۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ مجھے خشکی کے راستے جانا ہے تو وہ بہت حیران ہوئے۔خود ہی فرمانے لگے،تم بحری جہاز سے کیوں نہیں جاتے،میں نے کہا ،مجھے تو کوئی اعتراض نہیں، تبشیر کو کوئی اعتراض نہ ہو۔ انہوں نے جواب دیا ،تبشیر سے میں خود بات کر لوں گا،۔ میں نے خاموش رہ کر ان سے اتفاق کر لیا ۔اور اس طرح انہوں نے کسی ٹریولنگ ایجنسی سے رابطہ کر کے کراچی سے بصرہ تک بحری جہاز کی ۔ بصرہ سے بغداد تک ریلوے کی اور بغداد سے دمشق تک ایک خاص کوچ کی سیٹیں بک کروا لیں۔ گویا اب مجھے عراق سے ہوتے ہوئے ملک شام (السوریہ)پہنچنا تھا۔
ویزا میرے پاس ان میں سے کسی ملک کا نہ تھا، نہ تبشیر کی طرف سے اس قسم کی کوئی کوشش کی گئی تھی۔ غالباً اَس وقت ایک پاکستانی کے لئے ان ملکوں میں سے گذرنے کے لئے قبل از وقت ویزا کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ تاہم چونکہ دمشق میں میرا۶۔۷ ماہ رکنے کا پروگرام تھا اس لئے میں نے ملک شام کے ویزا کی ضرورت کے بارے میں ربوہ سے چلنے سے پہلے وکالت تبشیر سے بات کی تھی جس پر مجھے جواب دیا گیا کہ میں اس سلسلے میں مکرم ملک مبارک احمد صاحب ۱ (مرحوم) سے بات کروں کیونکہ مڈل ایسٹ کے لئے وہ ہمارے مشیر ہیں۔ (مکرم ملک صاحب اس وقت ایک عرصہ دمشق میں گذار کر حال ہی میں پاکستان پہنچے تھے)۔ میں جب مکرم ملک صاحب سے ملا تو وہ کہنے لگے ،کوئی ضرورت نہیں۔ السید منیر الحصنی صاحب ۲ وہاں سب کچھ کر لیں گے۔ گویا میرے پاسپورٹ پر ویزا کی قسم کی کوئی چیز نہ تھی۔ غالباً مکرم مولانا عبدالمالک صاحب کا بھی دھیان اس طرف نہ گیا کہ کم از کم ملک شام کے ویزا کے بارے میں تسلی کر لینی چاہیے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وقت کم ہو اور مجھے دوسری رسومات از قسم امیگریشن سے اجازت وغیرہ ابھی ادا کرنی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں کراچی میں جتنے دن بھی ٹھہرا مولانا صاحب موصوف مجھے لے کر ادھر ادھر پھرتے ہی رہے۔
سفر کے سلسلے میں تمام رسومات مکمل ہو جانے کے بعد میں کراچی سے بحری جہاز پر سوار ہوا۔ مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب (مرحوم) شروع سے آخر تک سیرے ساتھ رہے اور جہاز پر سوار کرانے کے بعد مجھے الوداع کہہ کر واپس تشریف لے گئے۔
کراچی سے بصرہ تک یہ نو دن کا سفر ایسا تھا جس کے دوران مجھے گھر والوں کی یاد مسلسل ستاتی رہی۔ جہاز کے اندر مجھے کوئی ایسا واقف کار بھی نہ ملا جس کے ساتھ مل بیٹھ کر میں وقت گذار سکتا۔ میں زیادہ تر وقت مطالعہ میں گذارتا۔ سیر روحانی کی دو جلدیں میں نے اپنے ساتھ رکھ لی تھیں۔ وہ پڑھتا رہتا۔ کبھی جہاز کے بالائی کھلے حصہ پر جا کر سمندر کا نظارہ کرنے لگتا۔ شام کو سونے سے قبل میں دن بھر کے مشاہدات کو قلمبند کر لیتا۔ پس روزمرہ کا قریباً یہی مشغلہ تھا۔ جہاز کا نام مجھے یاد نہیں۔ مگر اس قدر یاد ہے کہ ایک تیل بردار جہاز تھا جو راستے میں کسی مقام پر رک کر اس میں کئی گھنٹوں تک تیل بھرتا رہا۔ میرے پاس deck(عرشہ جہاز) کا ٹکٹ تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی معین سیٹ نہ تھی۔ لہٰذا یہ سارا سفرویسے بھی نہایت بے آرامی میں گذرا۔ مجھے صرف ایک تسلی تھی کہ بصرہ میں مجھے کوئی صاحب لینے آئیں گے جن کو کراچی سے ہی جہاز کا نام، اس کے پہنچنے کی تاریخ اور میرے نام وغیرہ سے اطلاع دے دی گئی تھی۔ یہ سارا انتظام از راہ نوازش مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب (مرحوم) نے ہی کیا تھا۔
جہاز کے بصرہ میں لنگرانداز ہوتے ہی کوئی صاحب میرا نام پوچھتے پوچھتے عرشہ جہاز پر آ گئے۔ نہ میں انہیں جانتا تھا نہ وہ مجھے پہنچانتے تھے۔ پس شکل و صورت سے انہوں نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ فضل الہی انوری میرا نام ہی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی بولے ۔ آپ انوری صاحب ہیں۔ یہی میرے میزبان تھے، جن کو کراچی سے میرے بصرہ پہنچنے کی اطلاع مل چکی تھی۔ یہ صاحب جن کا نام افسوس ہے ،مجھے بھول کیا ہے، پاکستانی تھے اور بصرہ میں کسی بہت بڑی تجارتی کمپنی کے مالک تھے۔ انہوں نے میرا پاسپورٹ پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ وہ تو جہاز کا کوئی اہلکار سب پاسپورٹ اکٹھے کر کے لے گیا ہے۔ انہیں میرا پاسپورٹ تلاش کرنے میں بڑی دقت پیش آئی، کیونکہ دو اڑھائی صد سبز جلد والے ایک ہی شکل و صورت کے پاسپورٹوں میں سے کوئی ایک تلاش کرنا آسان نہ تھا۔ بہرحال انہوں نے ڈھونڈ ہی لیا۔ اور پھر مجھے ساتھ لے کر باقی مسافروں کو لمبی قطاروں میں چھوڑتے ہوئے جہاز سے باہر لے آئے۔ جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ان کا افسران بندرگاہ کے ساتھ اچھا اثر و رسوخ ہے۔
بصرہ میں پہنچ کر اور میزبان کے مکان پر تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد میں ذرا بازار کو نکلا۔ پہلے ڈاکخانہ میں گیا تا کہ اپنی گذشتہ نو دن کی قلمبند کردہ روئداد سفر اپنے اہل خانہ کے نام ارسال کروں۔ اس کے بعد بصرہ کے گلی کوچوں میں سے ہوتا ہوااس تاریخی شہر کی سیاحت کرتے ہوئے ایک چائے خانہ میں پہنچ گیا۔ عربی تو مجھے آتی ہی تھی، آخر چار سال سکول میں اور چار سال جامعہ میں پڑھی تھی۔ تفاسیر قرآن الکشاف وغیرہ اور کتب احادیث صحاح
ستہ کے علاوہ بڑی بڑی ادبی کتب از قسم المتنبی، الحماسۃ ، سبعۃ معلقات، العبرات، النظرات پر عبور حاصل تھا۔ دوکان کے اندر داخل ہوتے ہی چائے طلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱ پروفیسر جامعہ احمدیہ ۲ (مر حوم) ملک شام کے باشندے اور وہاں کے آنرری مبلغ اور امیر جماعت تھے)
کی۔ یہ تو بصرہ پہنچتے ہی معلوم ہو گیا کہ عربی میں چائے کو الشائِ کہتے ہیں۔ چنانچہ تھوڑی دیر بعد شیشے کی ایک چھوٹی سی پیالی میں جو پیالی سے زیادہ گلاسی کا رنگ رکھتی تھی، چائے آ گئی۔ دیکھا تو نہ اس مین دودھ تھا نہ چینی۔ خیر چینی تو ،،سکر،، کہہ کر میں نے منگوا لی۔ دودھ مانگا تو دوکاندار میرا منہ دیکھنے لگ گیا۔ میں نے پھر کہا ،،اللبن،، چاہیے۔ وہ پھر میرا مونہہ تکنے اور مسکرانے لگا۔ ادھر میں حیران تھا کہ کس قسم کا عرب ہے جسے ،،لبن،، کی سمجھ نہیں آ رہی۔ ایک دو اور صاحب بھی دوکان میں بیٹھے اسی قسم کی گلاسیوں میں دودھ کے بغیر چائے پی رہے تھے۔ وہ بھی دلچسپی لینے لگ گئے۔ مجھے عربی میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے مگر کچھ سمجھ نہ آ ئی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کافی تردد اور اشاروں کنایوں سے کام لے کر آخر میں انہیں سمجھانے کے قابل ہو گیا کہ مجھے کیا چاہیے۔ اس پر ان لوگوں نے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا ،،الحلیب،، ۔ چنانچہ دودھ آگیا۔ وجہ یہ تھی کہ عرب ممالک میں دودھ کو ،،الحلیب،، کہتے ہیں۔ ،،اللبن،، کا لفظ دہی کے لئے بولا جاتا ہے۔ میں نے جب کہا کہ مجھے چائے میں ڈالنے کے لئے ،،البن،، چاہیئے تو وہ حیران تھے کہ کیا چائے میں دہی ڈالی جاتی ہے۔ تو یہ تھا ہماری عربی کا پہلا امتحان۔ گویا پہلے ہی دن عربی دانی کی ساری قلعی کھل گئی۔
بصرہ میں میرا قیال زیادہ لمبا نہیں تھا۔میں غالباً دوسرے یا تیسرے روز بغداد جانے کے لئے گاڑی پر سوار ہو گیا۔ بغداد کے ریلوے سٹیشن پر بغداد میں رہنے والے ایک احمدی تاجر الحاجی عبدالطیف صاحب میرے استقبال کو پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے میری رہائش کا انتظام ایک اور احمدسی بزرگ مرزا برکت علی آف ابادان کے ساتھ ایک مکان پر کیا ہوا تھا۔ یہاں بعض اور پاکستانی احمدی دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی جن کے نام اس وقت ذہن سے محو ہو چکے ہیں۔
بغداد ایک لمبے عرصہ تک حکومت عباسیہ کا پائہ تخت اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہ چکا ہے۔ پھر بغداد کی تاریخ
بغداد میں میرا قیام چار روز رہا۔ وہاں سے دمشق تک کا سفر حسب پروگرام بغداد سے دمشق جانے والی ایک سپیشل کوچ کے ذریعے ہوا۔ چند گھنٹوں کے اس سفر کی تفصیلات تو ذہن سے محو ہو چکی ہیں۔ مگر اس قدر یاد ہے کہ یہ ایک نہایت آرام دہ قسم کی بس تھی جو ایک خاص ٹریولنگ کمپنی کی طرف سے بغداد اور دمشق کے درمیان چلتی تھی اور جس میں مسافروں کی تمام سفری سہولتوں از قسم خورونوش اور قضائ حاجت وغیرہ کا لحاظ رکھا گیا تھا۔ میں ظہر کے وقت کے قریب اپنی پہلی منزل مقصود دمشق میں پہنچ گیا۔ اور پھر وکالت تبشیر کے دیئے ہوئے پتہ پر پہنچنے کے لئے ایک ٹیکسی کے ذریعے زاویۃ الحصنی، الشاغور، میں پہنچ گیا۔
مجھے یاد نہیں کہ السید منیر الحصینی صاحب سے میری ملاقات کیسے ہوئی۔کیاوہ اس وقت زاویہ میں موجود تھے یا مجھے ان کا کچھ انتظار کرنا پڑا۔ یہ بھی یاد نہیں رہا کہ آیا انہیں ربوہ سے میرے پہنچنے کے بارے میں کوئی اطلاع مل چکی تھی لیکن میری طرف سے میرے پہنچنے کے بارے میں معین اطلاع انہیں با لکل یہ تھی۔ چنانچہ جب میں انہیں ملا تو وہ بہت حیران ہوئے اور افسوس کرنے لگے کہ میں نے بصرہ یا بغداد سے کیوں کوئی اطلاع نہین بھیجی تا کہ وہ میرے استقبال کو آتے۔ زیادہ افسوس انہیں حاجی عبدالطیف صاحب پر ہوا کہ انہیں ان کا ایڈریس وغیرہ معلوم تھا اور یہ بھی کہ میں مرکز سے آ رہا ہوں اور ایک مبلغ ہوں۔ انہیں چاہیے تھا کہ کم از کم میرے وہاں سے چل پڑنے کے بعد انہیں فون ہی کر دیتے۔
السید منیر الحصنی صاحب کو میں نے پہلی بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ غالباً ۱۹۴۵ئ میں پہلی بار قادیان تشریف لائے تھے۔ میں اس وقت تعلیم الاسلام کالج کا فرسٹ ایئر کا طالبعلم تھا۔ السیدالحصنی صاحب قادیان میں کم و بیش ایک سال رہے تھے۔ ان سے اکثر مسجد مبارک میں ملاقات ہوتی ۔ ملاقات صرف مصافحہ کی حد تک ہی تھی کیونکہ وہ عرب تھے اور اردو میں گفتگو نہ کر سکتے تھے۔ میں اگر چہ سکول میں چار سال عربی پڑھ چکا تھا مگر ،،کیف حالک،، سے زیادہ عربی بولنی نہ آتی تھی۔ بس ملاقات کے وقت ہم مصافحہ کے بعد ان سے عربی میں ان کا حال پوچھتے ۔ وہ الحمدللہ کہتے اور ہم سمجھ لیتے کہ ملاقات کا مقصد پورا ہوگیا۔ اگرچہ اس ملاقات کو دس گیارہ سال ہو چکے تھے۔ مگر ان کی شکل و صورت کا ایک ہلکا سا تصور جو میرے ذہن میں اب تک موجود تھا اس کے پیش نظر ان سے ملتے وقت کسی قسم کی اجنبیت کا احساس یہ ہوا۔ ادھر حصینی صاحب سے قادیان میں قیام کے دوران اردو پڑھنا اور بولنا سیکھ لیا تھا۔ اس اعتبار سے افہام و تفہیم میں کافی آسانی رہی۔
میرے پہنچنے کے جلد بعد ہی دمشق کی جماعت کے دوستوں سے بھی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ان دوستوں میں سے جن کے ساتھ میرا سب سے زیادہ رابطہ رہا وہ الحصنی صاحب کے بڑے بھائی کے بیٹے السید ابو الفرج الحصنی صاحب تھے۔ اس وقت ان کی عمر ۲۱ یا ۲۲ سال تھی اور وہ فوج میں لازمی سروس کا معین عرصہ پورا کر رہے تھے۔ لازمی ڈیوٹی دینے کے بعد وہ اکثر وقت زاویہ میں ہی گذارتے ۔ اکثر باتوں میں وہی میری رہنمائی کرتے۔ ان کے ساتھ گفتگو کرنے میں مجھے ایک آسانی یہ تھی کہ وہ میرے ساتھ فصیح زبان میں گفتگو کرتے جب کہ دوسرے دوست فصیح زبان کے ساتھ عامی زبان کے الفاظ بھی ملا دیتے، جن کو شروع شروع میں میرے لئے سمجھنا بہت مشکل تھا۔ پھر ان کے پاس وقت بھی ہوتا۔ اس طرح پر میں نے ان کی رفاقت سے بہت فائدہ اٹھایا۔زاویہ الحصنی جو السید منیر الحصنی صاحب کے خاندان کی ذاتی ملکیت تھا ایک بہت بڑے ہال اور چند اوپر نیجے چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل کمروں پر مشتمل تھا۔ ان میں سے ایک کمرہ (یا غالباً دو کمرے)بطور مسجد استعمال ہو رہے تھے۔ ایک کمرہ السیدالحصنی صاحب بطور کچن استعمال کرتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کمرہ جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا صحن بھی تھا، میرا کچن بنا۔ یہی کمرہ مجھ سے قبل مکرم ملک مبارک احمد صاحب کا بھی کچن رہ چکا تھا۔ باقی کمروںمیں فلسطین سے آئی ہوئی چند احمدی فیمیلیاں رہی تھیں۔
چونکہ کوئی کمرہ فارغ نہ تھا اس لئے زاویہ الحصنی کا ہال جو دراصل ایک بہت بڑی لائبریری تھی، میرے اٹھنے، بیٹھنے اور سونے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ دن کے وقت یہی ہال ملاقات گاہ کے طور پر استعمال ہوتا۔ جماعت کے چھوٹے بڑے اجلاس بھی یہیں منعقد ہوتے اور جمعہ کی نماز کے علاوہ یہی ہال باقی ماندہ نمازوں کے لئے استعمال ہوتا۔
اس وقت دمشق میں ایک اچھی خاصی جماعت تھی جو قریباً سب کی سب اچھے تعلیم یافتہ دوستوں پر مشتمل تھی۔ ان میں سے ایک حصہ تو وہ تھا جو فلسطین سے آکر بطور پناہ گزین یہاں آباد ہو چکا تھا اور باقی سب کے سب شامل عرب احمدی تھے۔ ان میں سے بعض جن کے نام میرے ذہن سے محو نہیں ہوئے ، یہ تھے:
۱۔ السید محمد الحصنی۔ السید منیر الحصنی صاحب کے بڑے بھائی اور السید ابو الفرج کے والد جو اگرچہ احمدی نہیں تھے مگر مخالف بھی نہیں تھے، عمر ۷۰ کے لگ بھگ ہو گی۔
۲۔ السید بدر الحصنی۔ السید منیر الحصنی صاحب کے چھوٹے بھائی جو دمشق میں کپڑے کے ایک بہت بڑے تاجر تھے۔ یہ خود اور ان کی ساری اولاد احمدی تھی۔
۳۔ السید محمد الشوا۔ یہ اور ان کی ساری فیملی جو غالباً ایک بیوی اور دو بچوں پر مشتمل تھی، احمدی تھی۔
۴۔ السید زکریا الشوا۔ یہ السید محمد الشوا کے چھوٹے بھائی پولیس میں ملازم تھے۔
۵۔ السید ابراھیم الجبان۔ یہ سکول ٹیچر تھے۔
۶۔ السید یحیٰ نو لائتی
۷۔ السید ابو عادل ۔ یہ ایک ادھیڑ عمر کے مخلص احمدی تھے۔
۸۔ السید الحصنی صاحب کے بڑے بھائی السید محی الدین الحصنی مرحوم کی اولاد جو پانچ لڑکوں (اور شاید لڑکیوں پر) مشتمل تھی۔
۹۔ السید محمود ربانی اور اس کا بھائی محمد ربانی ۔ ان دونوں نوجوانوں کے والد بڑے مخلص احمدی تھے جو میرے دمشق پہنچنے سے قبل وفات پا چکے تھے۔ ان دونوں بھائیوں کی ایک بہن بشریٰ ربانی کے ساتھ حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا نکاح ہواجس کی تفصیل اگلے صفحات میں درج کی گئی ہے۔
یہ سب شامی احباب تھے۔ فلسطینی احمدیوں میں سے دو کا نام یاد رہ گیا ہے۔ایک محمد القزق صاحب جومع اپنی فیملی کے زاویۃ الحصنی کے ایک حصہ میں رہ رہے تھے۔دوسرے السیدرشدی البسطی صاحب جو شام کی طرف ہجرت کرنے سے قبل فلسطینی جماعت کے امیر رہ چکے تھے۔
میرے اندازے کے مطابق اس وقت بچوں کو ملا کر احمدیوں کی کل تعداد جو زیادہ تر دمشق میں ہی مقیم تھے، ۲۰۰ اور ۳۰۰ کے لگ بھگ تھی۔
شروع شروع میں میرے لئے زبان کا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، بالخصوص اس لئے کہ تمام لوگ عامی زبان بولتے تھے اور عامی زبان اگرچہ عربی زبان کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے مگر اصل زبان سے اس قدر مختلف ہے کہ اگر ایک اچھی خاصی مدت گزار کر اس سے واقفیت نہ حاصل کرلی جائے تو کچھ پلے نہیں پڑتا۔ دوسرے ایک یہ بھی مشکل تھی کہ کئی سال تک سکول اور پھر جامعہ میں عربی پڑھنے کے باوجودمجھے عربی بولنے کی مشق نہیں تھی اور اگر چہ صحیح عربی زبان (جسے العربیۃ الفصٰحی کہتے ہیں) بولے جانے پر میں اس کا ۹۰ فیصد حصہ سمجھ لیتا تھا تاہم شروع شروع میں میرے لئے عربی میں گفتگں کرنا مشکل تھا ۔ اسی طرح اخبارات کی بھی ایک خاص زبان ہوتی ہے جس میں ایک بہت بڑا حصہ ان الفاظ کا ہوتا ہے جو غیر زبانوں سے مستعار لے کر عربی میں ڈھالے گئے ہوتے ہیں۔ تاہم جوں جوں وقت گزرتا گیا مجھے عربی میں گفتگو کرنے کی بھی مشق ہونے لگی۔اسی طرح عامی عربی زبان کے کثیر الاستعمال الفاظ سے واقفیت ہو گئی۔ عربی اخبارات پڑھنے سے اخباری زبان پر بھی عبور حاصل ہوتا گیا ۔
دمشق پہنچنے کے جلد بعد ہی میرے لئے وہاں ویزے کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ابھی ایک دو دن ہی گزرے تھے کہ السید الحصنی صاحب نے دریافت فرمایا کہ آیا میں ویزا لے کر آیا ہوں۔ میں نے کہا نہیں۔ وہ تو ملک مبارک احمد صاحب کہتے تھے کہ السیدالحصنی صاحب خود ہی انتظام کر لیں گے۔ اس پر وہ بہت ہی خفا ہوئے اور کہنے لگے کہ انہیں اچھی طرح پتہ تھاکہ یہاں پہنچ کر ویزا لینے کی کتنی مشکل ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ غلط مشورہ کیوں دیا۔ اور واقعی وہ مشکل کھل کر میرے سامنے بھی آ گئی۔ بات یہ ہے کہ ایران، عراق، شام ، لبنان وغیرہ کے اس وقت کے قوانین کے مطابق ایک پاکستانی کے لئے ملک میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ بارڈر پر داخل ہونے پر سفری ویزا (tourist visa)لگا دیا جاتا تھا جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ۲۴ یا ۴۸ گھنٹوں کے اندر اندر اگلی سرحد پار کر لی جائے۔ ملک میںٹھہرنے کے لئے بہرحال باقاعدہ ویزے کی ضرورت تھی جو حسب قواعد ملک کا سفارت خانہ جاری کرتا ہے۔ اب سفری ویزے کو قیام کے ویزے میں تبدیل کرانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ السید منیر الحصینی صاحب کو اس مشکل کا بخوبی اندازہ تھا۔ اسی لئے انہوں نے اچھی خاصی پریشانی کا اظہار کیا۔ ان کی پریشانی کی ایک اور وجہ جو بعد میں معلوم ہوئی ،یہ تھی کہ حکومت کے علم میں تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا مرکز پاکستان میں ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنے خصوصی عقائد کی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ اس لئے حکومت ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی تھی۔ چنانچہ جماعتی اجتماعات اور اجلاسات وغیرہ ایسے طور پر منعقد کئے جاتے کہ زیادہ شوروغل نہ ہو۔ نماز جمعہ بھی جلد جلد ادا کر کے دوست یا اپنے گھروں کو چلے جاتے یا لائبریری ہال میں تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب دو دن کے بعد میں نے انہیں ویزا کی توسیع کے لئے اپنے ساتھ جانے کو کہا تو انہوں نے کہا اگر میں ساتھ گیا تو ویزا کے حصول میں مشکل پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے وہ لوگ سرے سے انکار ہی کر دیں۔ اس لئے بہترہے تم اکیلے جاؤ اور خود جا کر بات کرو کہ میں کچھ عرصہ یہاں رکھناچاہتا ہوں۔ پولیس سٹیشن وغیرہ کے متعلق انہوں نے مجھے سمجھا دیا کہ کیسے پہنچنا ہے۔ میرے خود جانے اور بات کرنے میں زبان کی مشکل حائل تھی۔ ایک تو میں ابھی اچھی طرح عربی بول نہ سکتا تھا ۔ دوسرے، ان لوگوں کی عامی زبان سمجھنا میرے لئے ویسے بھی مشکل تھا۔ اور عربی کے علاوہ وہ لوگ اگر کوئی زبان جانتے تھے تو وہ فرانسیسی زبان تھی۔ انگریزی سے انہیں چنداں واقفیت نہ تھی۔ مجھے یاد نہیں پہلی بار میں نے کیسے بات کی۔ البتہ اس کے نتیجہ میں مجھے دو ہفتے کا ویزا مل گیا۔