Khaksar's Birth, Association with Ahmadiyyat And Early Education
خاکسار کی پیدائش ،احمدیت سے وابستگی اور ابتدائی تعلیم
خاکسار ۱۹۲۷ئ میں بھیرہ(ضلع شاہ پور۔حال سرگودہا) میں پیدا ہوا۔یہیں خاکسار کے ننھال تھے جو پیشہ کے لحاظ سے کاشتکار تھے ۔اس کے برعکس والد صاحب ،ماسٹر امام علی صاحب حضور پوری ثم بھیروی، ڈسٹرکٹ بورڈ سرگودہاکے محکمہ تعلیم میںمدرس تھے۔جہاں تک احمدیت کا تعلق تھا تو ابا جان کے سب سے بڑے بھائی، ماسٹر محمد زمان صاحب،مدفون بہشتی مقبرہ قادیان،ہمارے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئے جو اگرچہ جوانی میں ہی فوت ہو چکے تھے مگر ان کی وجہ سے گھر میں احمدیت کی چرچا ہوتا رہتا تھا۔چنانچہ خاکسار کے چھوٹے تایامنشی محمد سلطان کاتب اسی اثر کے نتیجے میں احمدی ہو چکے تھے۔ان کے بڑے بھائی یعنی خاکسار کے بڑے چچا جن کا نام محمد رمضان تھا البتہ آخردم تک احمدی نہ ہوئے۔ خودخاکسار کے ابا جان نے بھی بہت بعد میں یعنی اندازاً ۳۱؍۱۹۳۰ ئ میں احمدیت قبول کی۔اَس وقت خاکسار کی عمر ۳یا۴ سال تھی۔خاکسار اپنے والدین کا دوسرا بچہ تھا۔خاکسار سے بڑی خاکسار کی ہمشیرہ اقبال بیگم صادقہ خاکسار سے دوسال بڑی تھیں۔خاکسار سے چھوٹی دوسری بہن رابعہ بیگم ناصرہ تھی۔بس ہم اَس وقت اپنے والدین کے تین ہی بچے تھے ۔ہم دیکھا کرتے کہ والدہ صاحبہ بعض اوقات اپنے آپ کو پیٹنے لگتیں،اپنے بال نوچ لیتیں اور رو رو کر براحال کر دیتیں۔ بڑے ہونے پر معلوم ہوا کہ ان کا یہ رونا پیٹنا ابا جان کے احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے تھا۔دراصل والدہ صاحبہ اپنے غیر احمدی والدین کے اثر کے تحت شروع شروع میں سخت مخالفانہ رنگ رکھتی تھیں مگر جلد بعدیعنی ۱۹۴۰ئ کے لگ بھگ انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی اور پھر ایسا اخلاص دکھایا کہ گھر میں مالی قربانی کی ایک بہترین مثال قائم کر دی۔احمدیت قبو ل کرنے کے جلدبعد انہوں نے وصیت بھی کر دی۔والد صاحب تو پہلے ہی موصی تھے۔
اب ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ ابا جان اَ س وقت جبکہ انہوں نے احمدیت قبول کی، کس سکول میں پڑھا رہے تھے مگر اس قدر یاد ہے کہ جن دنوں خاکسار موضع سالم،ضلع سرگودھا کے ورنیکلر مڈل سکول کی د وسری یا تیسری جماعت میں پڑھتا تھا جہاں ابا جان بطور سیکنڈ ماسٹر ملازم تھے تو گھر میں اکثراحمدیت کا چرچا ہوتارہتا۔اَس وقت والدہ صاحبہ اگرچہ ابھی تک احمدی نہیں ہوئی تھیں تاہم ان کی وہ کیفیت نہیں رہی تھی جو اس سے قبل ہم گھر میں دیکھا کرتے تھے ۔ اَ س وقت سکول میں اباجان کے علاوہ دوتین اور مدرس بھی احمدی تھے جن کے ساتھ جمعہ کی نمازیں باجماعت ادا ہوتی تھیں۔اور یہ بھی کہ دوسرے غیر احمدی ٹیچر جن کی سکول میں اکثریت تھی،ابا جان کے ساتھ احمدیت کے موضوع پر اکثربحث کیاکرتے ۔خاکسار کو اپنی کم سنی کے باعث موضوع بحث کے بارے میں تو کچھ علم نہیں تاہم جب ہم بہن بھائی بڑے ہوئے تو گھر میں احمدیت پر گفتگو کرتے ہوئے ابا جان اپنے سالم کے زمانے کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے کہ احمدیت کے ابتدائی زمانے میں آپ کی غیر احمدی ٹیچروں کے ساتھ کس قسم کی بحثیں ہوا کرتی تھی۔چونکہ ابا جان اَن دنوں نئے نئے احمدی ہوئے تھے،اس لئے بتاتے کہ غیر احمدی ٹیچروں کے اعتراضات کا جواب تلاش کرنے کے لئے آپ کو کس قدر تگ و دو کرنی پڑتی۔مثلاًبتایا کرتے کہ میں اخبار الفضل منگایا کرتا تھا جبکہ دوسرے ٹیچر اخبار زمیندار منگایا کرتے۔اَن ایام میں اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان صاحب کا مرغوب مشغلہ احمدیت پر نت نئے اعتراضات شائع کرنا تھا۔چنانچہ جونہی اس میں کوئی نیا اعتراض شائع ہوتا،غیر احمدی ٹیچر فوراً اباجان کو لے کر بیٹھ جاتے کہ اچھا جی،بتائیں ،اس کا کیا جواب ہے۔اَس وقت اخبار الفضل کا بھی ایک نمایاں کردار ہوا کرتا تھا یعنی جب بھی اخبار زمیندار یا کسی اور غیر احمدی اخبار میں احمدیت پر کوئی اعتراض شائع ہوتا تو کچھ دنوں کے بعد بلا تاخیراس کا جواب شائع ہو جاتا اور اس طرح پر جہاں آپ خود مطمئن ہو جاتے،وہاں اعتراض کرنے والے ٹیچروں کا بھی گھر پورا کر دیتے۔
اخبار الفضل کے حوالے سے اپنے ابتدائے احمد یت کے زمانے کی باتوں میں سے ابا جان نے ایک ایسی بات بتائی جس نے ایک مستقل اثر نہ صرف آپ پر چھوڑا بلکہ ہم بچوں پر بھی ہمیشہ کے لئے قائم کردیا۔وہ دعا کی قبولیت کے بارے میں تھی۔فرماتے تھے کہ جب آپ سالم سکول میں پڑھاتے تھے تو ایک بار ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ میں نے تبادلہ کی ضرورت محسوس کی اور اس کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔مگر تبادلہ کی درخواست محکمہ میں بھیجے ہوئے کافی عرصہ گزر گیا اور کوئی جواب نہ آیا۔اس پر فرماتے ہیں کہ میرے دل میں دعا کے بارے میں کچھ بدظنی پیدا ہونی شروع ہو گئی۔اس اثنا میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ایک خطبہ شائع ہوا جس میں دعا ہی کا مسئلہ بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ دعا کے بارے میں کبھی ناامید نہیں ہونا چاہئے۔یہ کہ بعض دعائیں ایسی ہوتی ہیں جن کو قبولیت کی حد تک پہنچنے کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔اور مثال بھی وہی دی ہوئی تھی جس سے خود میں دوچار تھا۔یعنی فرمایا کہ مثلاً ایک ٹیچر ہے،وہ اپنے تبادلے کے لئے دعا کرتا ہے۔اب یہ چیز ایسی نہیں جس کا ایک فرد واحد سے تعلق ہو۔ تبادلے کا خواہشمند ٹیچرآخر کسی دوسرے ٹیچر کی جگہ جائے گا اور تب جائے گا جب وہ دوسرا ٹیچر بھی تبدیل ہوگا۔یعنی وہ کسی تیسرے ٹیچر کی جگہ جائے گا۔اس طرح پر ایک ٹیچر کی تبدیلی کئی دوسرے ٹیچروں کی تبدیلی کے بعد عمل میں آئے گی اور اس کے لئے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔پس دعا کرنے والے کو اپنی دعا کے قبول ہونے کے لئے جلدی نہیں کرنی چاہیئے۔ابا جان فرماتے تھے کہ حضور کی یہ بات پڑھ کر میری ساری کوفت دَور ہو گئی کیونکہ وہ مثال ایسی تھی جو خود مجھ پر صادق آ رہی تھی۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد فی الواقعہ میراتبادلہ عمل میں آگیا۔
موضع سالمؔ سے اباجان کا تبادلہ اپنے آبائی وطن حضورپورمیں ہوا۔یہ گاؤں یعنی حضور پور، بھیرہ سے ۵ کلومیٹرجانب شرق ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔یہیں خاکسار نے پرائمری کا امتحان پاس کیا۔یہ ۱۹۳۸ئ کی بات ہے۔اباجان ہی ہمیں چوتھی کلاس میں پڑھایا کرتے تھے۔چنانچہ اَس سال جب ضلعی بنیادوں پر وظیفہ کے امتحان کا وقت آیا تو خاکسار سمیت ہماری کلاس کے چار لڑکے اس امتحان میں شامل ہوئے۔ وظیفہ کا یہ امتحان ضلعی ہیڈکوارٹرسرگودھا میں ڈسٹرکٹ بورڈ کے ڈسٹرکٹ انسپکٹر فضل الٰہی چشتی لیا کرتے تھے۔ ابا جان ایک لائق ٹیچر تھے۔چنانچہ انہوں نے چند ماہ قبل اسی ڈسٹرکٹ انسپکٹر کے زیر اہتمام ضلع ملتان میں ہونے والے وظیفہ کے امتحان کے پرچے منگوا لئے۔ان میں حساب کا ایک ایسا سوال تھا جو بظاہر کچھ پیچیدہ سا تھا مگر اباجان نے وہ سوال بار بار بطور مشق کر اکر ہمیں اس کا جواب زبانی یاد کرادیا کہ ممکن ہے یہی سوال ہمارے وظیفہ کے امتحان میں بھی آ جائے۔ اور فی الواقعہ یہی ہوا۔ اور ہم چاروں نے وہ سوال بالکل ٹھیک ٹھیک حل کر دیا ۔چنانچہ ہم چاروں یعنی محمد یونس،عنایت اللہ، لعل خان اور خاکسار وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔
ہائی سکول کی تعلیم کے لئے خاکسار دوسرے طلبہ کے ساتھ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں داخل ہوااوروہیں سے دسویں کا امتحان پاس کِیا۔خاکسار کا یہ چھ سالہ تعلیمی زمانہ اس لحاظ سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ خاکسار پانچویں کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔سکول میں مسلمان ٹیچروں کے علاوہ بعض ہندو ٹیچر بھی تھے مگر اکثریت مسلمان ٹیچروں کی تھی جن میں ہیڈماسٹرصاحب میاںمحمد شفیع کے علاوہ ایک اور ٹیچرجن کا میاں فضل الٰہی تھا اور وہ ڈرائنگ ماسٹرتھے، احمدی تھے۔دوسال کے بعد میاں محمد شفیع صاحب ہیڈ ماسٹر تو قضا الٰہی سے فوت ہو گئے اور ان کی جگہ ایک اور ہیڈماسٹرمفتی محمد اسلم صاحب آ گئے۔اور پھر خاکسار کے دسویں کا امتحان دینے تک وہی ہیڈ ماسٹر رہے۔
ہائی سکول کی تعلیم کے دوران کی بعض تلخ اور بعض پر مزاح یادوں کا ذکرقارئین کی دلچسپی کا موجب ہوگا۔ پَرمزاح یادوں میں سب سے پہلے ایک ہندو ٹیچر کا ذکر کِیا جاتا ہے۔ دراز قد کے اس لحیم و جسیم ٹیچرجن کا نام ماسٹر دیوی داس تھا،سکول کے سیکنڈ ماسٹر تھے اورعموماً بڑی کلاسوں میں انگریزی اور سائنس وغیرہ پڑھاتے تھے ۔ ان کے بارے میں سکول میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ہم طلبہ کو پتہ چل گیا کہ انہیں از راہ تفنن’’ ماسٹر شرلی داس‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔اب ہمیںیہ تو معلوم نہیں کہ اپنے ا س nick name کے بارے میں انہیں بھی علم تھا یا نہیں مگر سکو ل بھر میں ان کا یہ نام ایسا مشہور تھا کہ طلبہ نے شاید ہی انہیںان کے اصل نام سے پکارا ہو۔ اس نام کی وجہ تسمیہ جو طلبہ میں مشہور تھی،یہ تھی کہ کسی وقت انگریزی پڑھاتے ہوئے انہوں نے لفظ surely کو’’ شرلی ‘‘پڑھ دیا تھا۔بس اس وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے لڑکوں میں’’ شرلی داس‘‘ مشہور ہو گئے۔ایک بار لطیفہ یہ ہوا کہ ہماری چھٹی کلاس میں ہماری کلاس کا انگریزی ٹیچر چھٹی پر چلا گیا، ان کی جگہ پڑھانے کے لئے ماسٹر دیوی داس آ گئے۔ وہ سٹیج کے اوپر کرسی پر آکر بیٹھے ہی تھے کہ لڑکوں کو کیا سوجھی کہ اَن میں ایک اٹھااور سٹیج کے اوپر جاکراپنی انگریزی کتاب کھولی اور جہاں لفظ surely لکھا تھا،وہاں انگلی رکھ کر دبی زبان سے ان سے پوچھنے لگا،ماسٹرجی،یہ کیا لفظ ہے؟وہ کہنے لگے:’’ surely‘‘یعنی اس کا اصل تلفظ بتایا۔وہ دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے واپس اپنے ڈیسک پر آکر بیٹھا ہی تھا کہ ایک دوسرا لڑکا اٹھا اور اسی طرح سٹیج پر جاکر اسی لفظ پر انگلی رکھ کران سے پوچھنے لگا،ماسٹر جی،یہ کیا لفظ ہے؟انہوں نے اسے بھی اس کا صحیح تلفظ بتایا اور وہ بھی اسی طرح اپنے چہرے کے اوپر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرے اپنی کرسی کے اوپرواپس آگیا۔ ابھی وہ اپنے ڈیسک پرآیا ہی تھا کہ ایک تیسرا اٹھااور وہ بھی اسی طرح لفظ surely پرانگلی رکھ کر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا،ماسٹرجی ،یہ کیا لفظ ہے؟ اس طرح پرلڑکوں کا ایک تانتا سا بندھ گیا تو ماسٹر دیوی داس صاحب اونچی آواز سے کہنے لگے،بھئی یہ لفظ surely ہے surely۔وہ اپنے اوپر اس مذاق کو سمجھ تو گئے مگر انہوں نے کسی لڑکے کواس پر نہ جھاڑا اور نہ مارا۔
انہی کے بارے میں اسی طرح کا ایک اورلطیفہ ہماری کلاس میں یوں رونما ہوا کہ ہمارے انگریزی کے استادچند دنوں کے لئے رخصت پر چلے گئے۔چنانچہ اس بار بھی اتفاق سے ماسٹر دیوی داس ہمیں انگریزی پڑھانے کے لئے آ گئے اور کچھ دنوں تک پڑھاتے رہے۔ان کا طریق تھا کہ ایک دن جو سبق پڑھاتے،دوسرے دن سن لیا کرتے۔ایک دن جب وہ ایک لڑکے سے سبق سن رہے تھے تو وہ لفظ reply کاتلفظ اس بھول گیا۔چنانچہ اس نے ’’ریپلائی‘‘ کو’’ ریپلی ‘‘پڑھا۔ اس پر جواَس کے اور ماسٹر دیوی داس صاحب کے درمیان جو مکالمہ ہوا،وہ ہم مدتوں مزے لے لے کر دہراتے رہے۔ وہ کچھ اس طرز کا تھا:
لڑکا:’’رِیپلی‘‘
ماسٹر دیوی داس صاحب:(بڑے زور سے گویا چِلُاکر)’’رِیپلی دا بچہ!‘‘
لڑکا(تلفظ کو درست کرتے ہوئے):’’ریپلی‘‘
ماسٹر دیوی داس صاحب:(پہلے سے بھی زیادہ زور سے چِلُاتے ہوئے):’’ریپلی دا بچہ!سَور دا بچہ!، (اور پھر ذرا لمبا کھینچ کر)’’رِی ، پلا ، ئی!‘‘
اسی طرح جب ہم ساتویں کلاس میں پہنچے تو ایک ٹیچر جو ہمیں اردو پڑھایا کرتے تھے(ان کا نام بھولتا ہے)،اتنی سخت طبیعت کے مالک تھے کہ یوں لگتا تھا،غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سارے کلاس یوں سہم جاتی جیسے کوئی آفت نازل ہوگی ہو۔ویسے چونکہ ہمیں پتہ تھا کہ وہ ایک لمحہ بھی تاخیر برداشت نہیں کرتے،اس لئے ہم سب طلبہ اپنی اردو کی کتاب ان کے پہنچنے سے پہلے ہی بستوں میں سے نکال کر اپنے ڈیسکوں کے اوپر رکھ لیا کرتے تھے۔ ایک دن یوں ہوا کہ ماسٹر صاحب(ان کا نام بھولتا ہے مگر تھے وہ مسلمان اور جسم کے لحاظ سے بھی کافی مضبوط بلکہ پہلوان لگتے تھے)اپنی کتاب لانابھول گئے ۔چنانچہ کلاس میں آکر سٹیج کے اوپر بیٹھتے ہی منہ نیچا کرکے نہایت دھیمی آواز میں بولے:’’کتاب دیں‘‘ ۔یعنی لڑکوں سے پڑھانے کے لئے کتاب مانگی۔مگر اس قدر دھیمی الفاظ میں یہ جملہ کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیا کہا ہے۔تاہم سب لڑکے سرآگے کرکے ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔انہوں نے دوبارہ وہی جملہ مگر پھر اسی قدردھیمی الفاظ سے بولا:’’کتاب دیں‘‘۔اب بھی ہم کچھ نہ سمجھے کہ کیا کہا ہے،تاہم سب نے اپنے سروں کوذرا اورآگے کر لیا۔اب جو ماسٹر صاحب کو غصہ آیاتوبڑے زور سے مندرجہ ذیل جملہ ان سے منہ سے نکلا:’’اوکھچردے بچیو،کتاب بھی دیوو!‘‘۔ ان کے یہ جملہ بولتے ہی سب لڑکے اپنی اپنی کتاب اٹھا کران کی طرف بڑھے۔جب وہ ماسٹر صاحب گھنٹی بجنے پر کلاس چلے گئے تولڑکوں کو ایک اورشغل ہاتھ آ چکا تھا۔وہ بار بارماسٹر صاحب کا یہ جملہ دہرانے لگے:’’اوکھچردے بچیو،کتاب بھی دیوو!‘‘
پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ خاکسار کے گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں داخل ہونے کے وقت احمدی ہیڈماسٹرصاحب میاںمحمد شفیع صاحب تھے جو دو سال بعد ہی قضا الٰہی سے فوت ہو گئے ۔ ان کی جگہ کو ہیڈماسٹرصاحب آئے اور جن کا نام مفتی محمد اسلم صاحب تھا،وہ نظم و ضبط کے لحاظ سے تو کافی سخت گیر واقع ہوئے تھے، ہمیشہ اپنے ہاتھ میںبید رکھتے۔اوراگر انہیں کوئی لڑکا کلاس روم سے باہرشورکرتا ہوا یاسکول گراؤنڈ میں آوارہ پھرتا ہوا نظرآ جاتا توفوراًاسے دو بید لگا کرکلاس روم میں بھجوا دیتے۔دوسری بات انہوں نے سکول میں آتے ہوئے یہ کی کہ سکول میں جاری شدہ ایک دیرینہ رسم کو انہوں نے بند کروا دیا۔وہ رسم یہ تھی کہ ہر سال جب دسویں کلاس کے سکول سے فارغ ہونے کا وقت آتاتونویں کلاس کے طلبہ کی طرف سے انہیں ایک الوداعی پارٹی دی جاتی جس میں ہر دو کلاس کے طلبہ کے علاوہ تمام اساتذہ بھی شامل ہوتے ۔اس طرح پر بیس پچیس طلبہ کو قریبًا ستر،اسی لوگوں کی مہمان نوازی کا خرچ برداشت کرنا پڑتا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب موصوف نے اس رسم کو طلبہ پر غیر ضروری مالی بوجھ سمجھتے ہوئے ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔
وہ دسویں کلاس کوعموماً انگریزی پڑھایا کرتے تھے، تاہم چونکہ ہم ابھی نچلی کلاسوں میں پڑھتے تھے،ا ن کی بطور ٹیچرخوبیوںکا علم اَس وقت تک نہ ہو سکا جب ہم خود دسویں کلاس میں نہ پہنچ گئے ۔اس سلسلہ میں اپنی ذات کے ساتھ بیتا ہوا ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں ۔ وہ ہمیں پوئٹری(انگریزی کی نظموں کی کتاب)پڑھا تے ہوئے ہرلفظ اور ہر شعر کی خوب تشریح کرتے۔پھر دوسرے روزطلبہ سے وہ ضرور سنتے۔جو طلبہ ان کی بتائی ہوئی تشریح کے مطابق جواب نہ دے سکتے،انہیں کھڑا کر دیتے اور پھر ایک ایک کودو ،دو بید لگاتے۔یہ ان کا روز مرہ کا معمول تھا۔خاکسارچونکہ مانیٹر بھی تھا جس کا ہیڈ ماسٹر صاحب کو علم تھااورعموماً ان کا پڑھایاسبق باقاعدہ یاد کرکے آتا تھا ،اسلئے انہوں نے خاکسار سے اپنا پڑھا یا ہوا سبق بہت کم سنا کرتے تھے۔ ایک دن خاکسار نے سستی کی اور سبق یاد نہ کیا۔کچھ یہ بھی خیال تھا کہ مجھ سے تو وہ سنتے ہی نہیں۔لیکن ہوا یہ کہ انہوں نے مجھ سے ہی سن لیا اور غلط سنانے پر مجھے بھی دوسرے طلبہ کے ساتھ کھڑ ا کر دیا ۔اب جب سزا دینے کا وقت آیا تو یہ کہہ کر کہ آج سب بیٹھ جائیں،انہوں نے کسی کو سزا نہ دی۔اَس دن سب لڑکوں نے میرا شکریہ ادا کِیا کہ آج تمہاری وجہ سے ہم سب سزا سے بچ گئے ہیں۔
دسویں کلاس کا یونیورسٹی کا امتحان مارچ ۱۹۴۴ئ میں ہوا۔خاکساراس امتحان میں ۶۳۴ نمبر لے کر سکول میں اوُل آیاجس کے نتیجے میں خاکسار کا نام جیسا کے دستور تھا،سکول کے بورڈ پر لکھا گیا۔فالحمد للہ علیٰ ذٰلک
گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے ۱۹۴۴ئ میں میٹرکولیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعدخاکسار کا اپنے والدین کے مالی وسائل کے پیش نظر آگے تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ نہیں تھا مگر اخبار الفضل میں پڑھنے میں آیا کہ قادیان میں کالج کھل گیا ہے ،اوریہ کہ جن احمدی طلبہ نے میٹرک پاس کر لیا ہو اور وہ اس میں داخلہ لینا چاہیں، وہ فلاں تاریخ تک قادیان پہنچ جائیں۔چنانچہ خاکسار اپنے والدین سے مشورہ کرنے کے بعد تعلیم الاسلام کے نام سے کھلنے والے اس کالج میں داخلہ لینے کے لئے قادیان پہنچ گیا۔اس سے قبل خاکسار ۱۹۴۰ئ کے جلسہ سالانہ پر اپنے ابا جان ماسٹر امام علی صاحب حضور پوری کے ساتھ قادیان دیکھ چکا تھا۔قادیان احمدیت کا عالمی مرکز اور خلافت کا پایۂ تخت ہونے کے لحاظ سے ہر احمدی کی توجہات کا مرکز تو تھا ہی تاہم خاکسار کے لئے اس میں علاوہ اس کے ایک ذاتی دلچسپی کی بات یہ بھی تھی کہ یہاں خاکسار کی ایک تائی صاحبہ غلام فاطمہ(بیوہ ماسٹر محمد زمان صاحب مرحوم) رہ رہی تھیں اور جن کا نام ہم اپنے گھر میں اکثر سنتے رہتے تھے اور جنہیں میں ۱۹۴۰ئ کے جلسہ سالانہ پر قادیان میں اپنی پہلی بارآمد کے موقع پر دیکھ بھی چکا تھا۔ خاکسار اپنے اس تایاکے بارے میں پچھلے صفحات میں بتا چکا ہے کہ ہمارے خاندان میں سب سے پہلے آپ ہی نے احمدیت قبول کی تھی۔وہ ٹیچر تھے اور۱۹۱۴ئ کے لگ بھگ قادیا ن میں آگئے تھے مگر ان کی عمر نے وفا نہ کی اور وہ تپ محرقہ سے بیمار ہو کر ۱۹۱۹ئ میں فوت ہو گئے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے ۔ یہ خلافت ثانیہ کا ابتدائی دور تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ انہیں اچھی طرح جانتے تھے اور پھر ان کے وفات پا جانے کے بعد حضور رضی اللہ عنہ ہی کے مشورہ پر خاکسار کی تائی صاحبہ دارالمسیح قادیان میں منتقل ہو کربعض دیگر بیوہ عورتوں کے ہمراہ رہنے لگ گئی تھیں۔
خاکسار ا س کالج میں داخلہ لینے کی غرض سے جون ۱۹۴۴ئ کی کسی تاریخ کو بھیرہ سے گاڑی پر سوار ہو کر لاہور اور امرتسر سے ہوتا ہوا قادیان پہنچ گیا اور مہمان خانہ میں اترا ۔ اسی شام مسجد مبارک میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف فرما ہوئے تو خاکسارنے بطور بھتیجہ ماسٹر محمد زمان حضور سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے قادیان آنے کی غرض بیان کی۔اسی شام یا اس سے اگلے روز خاکسار اپنی تائی صاحبہ سے بھی ملا۔وہ بہت خوش ہوئیں،گھر کا حال احوال پوچھا اور ملتے رہنے کے لئے کہا۔
کالج میں داخلے شروع ہو چکے تھے۔چنانچہ خاکسارنے مجوزہ فارم پر داخلے کی درخواست جمع کرادی۔رہائش کے لئے معلوم ہوا کہ محلہ دارالانوارمیں ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ کے نام سے ایک نئی تعمیر شدہ عمارت میں کالج کا عارضی ہوسٹل کھل گیاہے۔ ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ مکرم چودھری محمد علی صاحب ایم۔ اے تھے۔ چند دنوں کے بعد اس وقت تک آنے والے کالج میں داخلہ کے امیدواروں کو انٹر ویو کے لئے بلایا گیا۔یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ اس کالج کے پرنسیپل حضرت میاں ناصر احمد صاحب ہیں جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں اور چند سال قبل آکسفورڈ یونیوسٹی سے گریجوئیشن کرنے کے بعد واپس لوٹے تھے مگر تاحال آپ سے ملاقات نہ ہوئی تھی ۔جب خاکسار انٹر ویوکے لئے بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو پہلی بار حضور کی بارعب شخصیت سامنے آئی۔حضور کے علاوہ بورڈ کے ممبران میں اَس وقت تک کے جملہ پروفیسران کرام بھی موجود تھے۔ان میں خاکسارسوائے پروفیسرمیاں عطائ الرحمن صاحب کے جو بھیرہ کے رہنے والے تھے اور کسی کو نہیں جانتا تھا تاہم پرنسیپل صاحب کے علاوہ جس شخصیت نے مجھے سب سے زیادہ متأثر کیا،وہ پروفیسر اخوندمحمد عبدالقادر صاحب مرحوم تھے۔انہوں نے انٹر ویو کے دوران انگریزی میں مجھ سے ایک سوال بھی کِیا۔سوال کیا تھا،ایک مختصر سی حکایت بیان کی اور بیان کر کے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بتائیں ایسا کیوں ہوا۔مجھے تو حکایت کی ہی سمجھ نہ آئی تھی،میں جواب کیا دیتا۔ میرا جواب صرف یہ تھا I beg your pardon , sir :
میرے اس جواب پر بورڈ کے تمام ممبران مسکرا دئے اور خاکسار شرمسار ہو کر رہ گیا ۔بہر حال میرا داخلہ ہو چکا تھا اور جیسا کہ جلد پتہ چل گیا ،مجھے رول نمبر One دیا گیا ۔ اس کی وجہ جیسا کہ بعد میں معلوم ہوئی،یہ تھی کہ اَس وقت تک داخل ہونے والے تمام طلبہ جو تعداد میں ۵۱ تھے،انہیں میٹرکولیشن کے امتحان میں حاصل ہونے والے نمبروں کے لحاظ سے ترتیب دیا گیاتھا اور ان میں میرے نمبر سب سے زیادہ تھے۔بعد میں اگرچہ بعض وہ طلبہ بھی داخل ہوئ ے جنہوں نے مجھ سے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے بلکہ ایک نے یونیورسٹی میں وظیفہ بھی حاصل کیا تھا،میرا رول نمبر One ہی رہا۔اس کلاس میں قادیان اور بیرونجات سے آنے والے احمدی طلبہ کے علاوہ قادیان کے بعض ہندو اور سکھ طلبا بھی تھے۔
تعلیم الاسلام کالج کے انتظامی امور کی سرانجام دہی کے لئے حضرت امیرا لمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے ممبران مندرجہ ذیل تھے: حضرت صاحبزادہ میاںبشیر احمد صاحب ،ایم۔اے(صدر)۔حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب(پرنسیپل کالج)۔ حضرت مولوی محمد دین صاحب ،بی۔اے ۔ قاضی محمد اسلم صاحب ایم ۔اے۔ملک غلام فرید صاحب۔ایم ۔اے(سیکرٹری)۔
بتاریخ ۴ ؍جون ۱۹۴۴ئ حضور کی صدارت میں تعلیم الاسلام کالج کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں کالج کی کمیٹی کے صدر اور ممبر ان کے علا وہ صدر انجمن احمدیہ کے ممبران اورصحابہ کرام بھی شامل تھے۔اس تقریب کی جملہ کاروائی کالج کی عمارت کے سامنے والے کھلے میدان میں سرانجام پائی،جس میں تلاو ت قرآن کے بعد بعد نظم پڑھنے کا اعزاز خاکسار کے حصے میں آیا۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میں بہت اچھی نظمیں پڑھنے والا تھا بلکہ ہوا یہ کہ ہوسٹل میں داخل ہونے والے طلبہ کے درمیان مکرم چودھر ی محمد علی صاحب سپرنٹنڈنٹ ہوسٹل کی زیر صدارت جونظم خوانی کامقابلہ ہوا،اس میں قرعہ خاکسار کے نام نکلا۔ مجھے یاد ہے کہ مکرم چودھری صاحب موصوف نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نظم’’نو نہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے۔ پر ہے یہ شرط کہ ضائع مرا پیغام نہ ہو‘‘،مجھ سے کئی بار پڑھوائی،اس کے الفاظ درست کئے،لب لہجہ کے بارے میں ہدایات دیں اور چونکہ یہ نظم خود سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی موجودگی میں پڑھی جا نی تھی، اس لئے ہر طرح سے تسلی کر لی گئی کہ تلفظ میں کوئی غلطی سرزد نہ ہو۔یہ نظم خاکسار نے پڑھی تو سہی لیکن خود مجھے اس کے پڑھنے میں ذرہ بھر لطف نہ آیا۔لازماً یہی صورت سامعین کی ہوگی۔
اس افتتاحی تقریب میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے تو یہ فرمایا کہ اس تعلیم الاسلام کالج کا افتتاح اپنے اندر دو گونہ مقاصد رکھتا ہے۔ایک مقصد تو اشاعت تعلیم ہے جس کے بغیر کسی قوم کی تمدنی اور اقتصادی حالت درست نہیں رہ سکتی۔ دوسرا مقصد یہ بتانا ہے کہ اس کالج کے دروازے ہر قوم اور ہر مذہب کے لئے کھلے ر ہیں گے کیونکہ تعلیم کا حصول کسی ایک قوم کے لئے نہیں ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم تعلیم کو بحیثیت ایک انسان ہو نے کے ہر انسان کے لئے ممکن اور سہل الحصول بنادیں۔ دوسرے فرمایا، تعلیم کے بارے میں ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ بعض باتیں جو آج سے کئی سال پہلے درست اور غیر متبدل سمجھی جاتی تھیں،آج کی تعلیم انہیں ردُ کر رہی ہے۔مثلاً نیوٹن کے کشش ثقل کے بارے میں دریافت کردہ بعض اصول آئن سٹائن نے غلط ثابت کر دئے۔چونکہ تعلیم غلط ہو یا صحیح،اس کا اثرانسانی طبائع پر ضرور پڑتا ہے،اس لئے ہماری اس انسٹی ٹیوٹ کا یہ بھی فرض ہوگا کہ جو باتیں غلط ہیں،بجائے اس کہ کل کے علوم ان کا باطل ہونا ثابت کریں، ہماری اس انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پروفیسران قرآن کریم کی روشنی میں آج ہی ان کا باطل ہوناثابت کرکے دکھا دیں۔فرمایا،اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے کالج کے منتظمین مختلف علوم کی ایسی سوسائٹیاں قائم کریں جن کی غرض یہ ہو کہ آج اسلام اور احمدیت پر جو علوم کے ذریعے حملے ہو رہے ہیں،ان کاعلوم کے ذریعہ ہی جواب دیں۔فرمایا،جہاں تک قرآن کریم کی تعلیم کو درست اور ہر عیب سے پاک قرار دینے کا سوال ہے تو یہی کام اِس وقت فرشتے بھی کررہے ہیں اور اگر یہ کام ہمارے پروفیسران کرنے لگ جائیں گے تو اس کامطلب یہ ہو گا کہ وہ فرشتوں کا کام کر رہے ہیں ،اور اگر وہ یہ کام دیانتدداری سے سرانجام دیں گے تو ضرور کا میاب ہوں گے۔آپ نے اس بارے میں خدا کی ہستی کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر مذہب و ملت کا شخص خدا کی ہستی کو مانتاہے خواہ وہ کیسے ہی مانتا ہو۔تو اگر اس کالج سے فارغ ہونے والے طلبہ خدا کی ہستی اور محبت کااحساس لے کر نکلیں گے تو وہ آگے اسی بات کو پھیلائیں گے جس سے دہریت کا قلع قمع ہوگا۔پس ہمیں ان باتوں پراس قدر زور دینا چاہئے کہ یہ چیز ہمارے کالج کا امتیازی نشان بن جائے۔
آپ نے اس کالج کے ساتھ ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا بھی اعلان فرمایا۔اس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :
’’ہمارا کالج درا صل دنیا کی ان زہروں کے مقابلہ میں ایک تریاق کا حکم رکھتا ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور مختلف قوموںمیں سائنس اور فلسفہ اور دوسرے علوم کے ذریعہ پھیلائی جا ر رہی ہیں مگر اس زہر کے ازالہ کے لئے خالی فلسفہ اور دوسرے علوم کام نہیں آ سکتے بلکہ اس غرض کے لئے عملی نتائج کی بھی ضرورت ہے .......اس لئے کالج کے ساتھ ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کر دی گئی ہے تاکہ بیک وقت ان دونوں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر کفر پر حملہ کیا جا سکے‘‘
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے،یہ کالج کا سال اوُل تھا یعنی ایک ہی کلاس تھی۔ فرسٹ ائر جس میں اَس وقت تک کل ۵۱ طلبہ داخلہ لے چکے تھے۔ ان میں سائنس گروپ کے ۲۴ طلبہ اور آرٹ گروپ کے ۲۷ طلبہ تھے۔خاکسار خود سائنس گروپ میں شامل تھا۔افتتاحی تقریب کے بعد کلاسیں شروع ہو گئیں۔ہمارے فزکس کے پروفیسر مکرم پروفیسر میاںعطائ الرحمن صاحب بھیروی تھے جنہیں خاکسار بھیرہ ہی سے جانتا تھا۔ آپ شاہ پور کالج میں پڑھا رہے تھے جہاں انہیں مبلغ چھ سوروپے تنخوا ہ مل رہی تھی کہ صدرانجمن کے حکم پرآپ وہاں سے استعفیٰ دے کر تعلیم الاسلام کالج میں صرف ۱۰۰ روپے مشاہرہ پر آگئے۔کیمسٹری کے پروفیسر مکرم پروفیسر یحیٰ بن عیسیٰ ایک بہاری تھے۔غالباًوہ بھی اسی قسم کی قربانی کر کے بہار سے تشریف لائے تھے۔انگریزی کے پروفیسر اخوند محمد عبدالقادر صاحب تھے۔آپ اس سے قبل تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں انگریزی پڑھا رہے تھے اور کالج بن جانے پر آپ کو کالج میں لے لیا گیا۔ریاضی کے پروفیسر چودھری عبدالرحمن صاحب تھے۔دیگر پروفیسران کے بارے میں خاکسار کو سوائے مکرم چودھری محمد علی صاحب اور صوفی بشارت الرحمن صاحب کے اِس وقت کچھ یاد نہیں ۔اول الذکر فضل عمر ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ ہونے کے علاوہ سائیکالوجی کے پروفیسر تھے جبکہ مؤالذکر ہوسٹل کے ٹیوٹر اور دینی امور کے نگران ہونے کے علاوہ عربی کے پروفیسر تھے۔یہ ہردو پروفیسران غالباً انہی ایام میں پنجاب یونیورسٹی سے اپنے اپنے مضامین کی ڈگریاں لے کر فارغ ہوئے تھے۔
دو مہینے کے بعد کالج موسم گرما کی تعطیلات کے لئے بند ہو گیا اور تمام طلبہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔چھٹیاں شروع ہونے سے ایک دن قبل پروفیسر اخوندمحمد عبدالقادر صاحب نے سب طلبہ کو کہا کہ گھر پہنچ کرمجھے خط لکھیں۔ اپنا قادیان کا پتہ انہوں نے سب طلبہ کو لکھوا دیا۔ظاہر ہے کہ یہ خط انہیں انگریزی میں لکھا جانا تھا۔چنانچہ خاکسار جب اپنے گھر بھیرہ میں پہنچا تو گھر والوں سے ملنے ملانے سے فارغ ہونے کے بعدایک دن خط لکھنے کے ارادہ سے بیٹھ گیا ۔ دسویں تو پاس کر لی ہوئی تھی مگر اس سے قبل کبھی کسی کو انگریزی میں خط لکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔چنانچہ یاد ہے کہ میں اردو؍انگریزی ڈکشنری کھول کر خط لکھنے بیٹھ گیا۔پہلے تو یہ پتہ نہ چلے کہ کیا لکھوں۔قادیان سے واپس آتے ہوئے میں ایک دن امرتسر میں رکا تھا اور وہاں سکھوں کا مقدس مقام Golden Temple جو لوگوں میں’’دربار صاحب‘‘ کے نام سے مشہور ہے ،دیکھنے گیا تھا۔چنانچہ اسی کے بارے میں لکھنا شروع کیا کہ وہ کیسا تھا،وغیرہ۔ دو صفحوں پر مشتمل یہ خط میں نے قریباً چھ گھنٹوں میں مکمل کیا اور اگلے دن ڈاک میں ڈال دیا۔اس کا اخوند صاحب کی طرف سے فوراً ہی انگریزی میں لکھا ہوا جواب ملا۔ بس میں خوش ہو گیا کہ میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔تاہم تعطیلات ختم ہونے پرجب میں قادیان پہنچا تو اخوند صاحب نے پہلا سوال مجھ سے یہ کیا receive my letter? :
اَس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں نے کس قدر خطا کی ہے کہ آپ کوان کا خط ملنے کے بارے میں جوا ب تک نہیں لکھا تھا ۔
کالج کی اَس زمانے کی یادوں میں سے اِس سے زیادہ کوئی قابل ذکر بات نہیں کہ ان ایام میں قادیان میں صحابہ کرام کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ مکرم چودھری محمد علی صاحب جو نئے نئے احمدی ہو ئے تھے، صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو خوب سمجھتے تھے۔چنانچہ آپ اکثر کوئی نہ کوئی تقریب پیدا کر کے موجود صحابہ میں سے کسی کو ہوسٹل میں آنے کی دعوت دیتے اور ان کی تقریر کروایا کرتے تھے۔اس طرح پرجن صحابہ کی تقریریں سننے کا ہمیںموقع نصیب ہوا ، ان میں سے مندرجہ ذیل کے نام خاکسار کو یاد ہیں: حضرت مولاناسیدسرور شاہ صاحبؓ۔حضرت باباحسن محمد صاحبؓ(موصی نمبر ایک اور مکرم مولانا رحمت علی صاحب مبلغ انڈونیشیا کے والد محترم)۔مولوی ظہور حسین صاحب مبلغ بخارا۔چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ۔
قادیان میں موجود دیگر کبار صحابہ جن کی تقریریں سننا تو یاد نہیں مگر ان سے ملنا اوردعائیں کرواناہم میں سے اکثر طلبہ کامحبوب مشغلہ تھا،ان میں سے جن کے نام خاکسار کو یاد ہیں،وہ یہ تھے: ۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانیؓ جو ایک ہندو مہتہ فیملی کے چشم و چراغ تھے اور بچپن کے زمانہ ہی سے مسلمان ہو چکے تھے،حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانیؓ ،حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوریؓ،حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ( مترجم انگریزی ترجمہ قرآن) ، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ(حضرت ام طاہرؓ کے بڑے بھائی جو اَس وقت ناظر امور عامہ و خارجہ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے)۔حضرت مولوی عبدارحمن صاحب جٹؓ،حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکملؓ،حضرت ڈاکٹر سیدمیر محمد اسمٰعیل صاحب(حضرت سیدہ ام المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓکے چھوٹے بھائی)،حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ و حضر ت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ۔
قادیان میں قیام کے دوران کاہمارادوسرامحبوب مشغلہ مسجد مبارک میں شام کی نماز کے بعد مجلس عرفان میں شامل ہونا تھا۔ان ایام میں حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی قریباً روزانہ ہی مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے اور نماز عشا تک احبا ب جماعت کے اندر رونق افروز رہتے۔اس کے لئے خاص بنچ تیار کروائے گئے تھے جو نماز کے فوراً بعد محراب کے سامنے نصف دائرہ کی شکل میں رکھ دئے جاتے اور پھر حضور کے درمیان میں تشریف رکھنے کے بعد چند مخصوص صحابہ حضور کے دائیں بائیں بیٹھ جاتے۔ان میں سے اِس وقت صرف حضرت سید سرور شاہ صاحب کا نام خاکسار کو یاد ہے۔آپ حضورؓ کے استاد بھی تھے۔یہ مجلس جس میں کوئی خاص موضوع زیربحث نہیں ہوتا تھا بلکہ حضورکبھی کسی علمی مسئلہ پربحث شروع فرما دیتے یا حاضرین کی طرف سے پیش کئے جانے والے کسی سوال کا جواب ہوتا تھا۔نمازعشا تک جاری رہتی۔ اسے بجا طور پر’’مجلس عرفان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ احباب اس میں شامل ہونے کے لئے اس قدر بے قرارہوتے کہ مثلاً گرمیوں میں جب مغرب و عشا کی نمازیں مسجد کی دوسری منزل کی چھت پر ادا کی جاتی تھیں، وہ نیچے کی منزل پرمغرب کی نماز ختم ہونے کے بعد جلد جلد سنتیں ادا کر کے سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر پہنچ جاتے تاکہ حضور کے قریب سے قریب تر ہو کر بیٹھ سکیں۔ظاہر ہے کہ ان کے اس عمل سے اوپر کے نمازیوں کے نماز میں کافی خلل پیدا ہوتا۔ایک بار حضور نے احباب جماعت کو اس طرف اس رنگ میں توجہ دلائی کہ فرمایا، وہ دوست ہاتھ کھڑا کریں جنہوں نے سنت طریق کے مطابق تینتیس ،تینتیس بار سبحان اللہ،الحمد للہ اور اللہ اکبر کا وِردکیا ہے۔ظاہر ہے کہ نیچے سے دوڑ کر اوپر آنے والے تسبیحات پڑھے بغیر اوپر آ جاتے تھے۔انہیں آئندہ کے لئے ایک سبق مل گیا۔ایک بار کسی شخص نے سوال کِیا کہ نماز مغرب کی اذان کے معاً بعد جو نماز پڑھنے کا حکم ہے،تواس پر بعض اوقات عمل نہیں ہوتا۔یہ سوال اس نے اس لئے کِیا تھا کہ حضور مغرب کی اذان ہونے کے فوراً بعدمسجدمیں تشریف میں تشریف نہیں لاتے تھے بلکہ بعض اوقات کافی توقف کر کے تشریف لاتے۔حضور نے اس کا یہ جواب دیا کہ نماز مغرب کا وقت غروب آفتاب سے لے کرنمازعشا کی اذان ہونے تک ہوتا ہے اور یہ وقفہ ہمارے ملک کے لحاظ سے کم و بیش اسی (۸۰)منٹ کا بنتاہے۔گویا نماز مغرب کا اذان کے فوراً ادا کرنا ضروری نہیں بلکہ غروب آفتاب سے لے کر ۸۰ منٹ تک کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ایک بار جب نمازعشا کا وقت ہو جانے پر مؤذن نے اذان دی توآپ نے فرمایا،کوئی اور جو اچھا مؤذن ہو،وہ بھی اذان دے۔اس طرح پر یکے بعد دیگرے پانچ ،چھ اذانیں ہوئیں۔اس سے یہ مسئلہ حل ہو گیا کہ اگر ایک اذان ہو جائے تو دوسری یا تیسری اذان دینے میں کوئی حرج نہیں۔
خاکساراپنے قادیان کے قیام کے دوران قادیان میں تشریف لا نے والی دوایسی شخصیات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے جنہوں نے قادیان آکر اَس وقت کے قادیان کے ماحول کو خاص طور پر متأثر کِیا۔ان میں سے پہلی شخصیت ایک انگریز فوجی افسرتھے ۔وہ ۱۹۴۵ئ میں پہلی بار قادیان تشریف لائے ۔ا ن دنوں جنگ عظیم دوم اپنے عروج پر تھی اوروہ اَس وقت آسام اور برما کے محاذ پر جنگی خدمات سرانجام دے رہے تھے کہ ان کی ملاقات اپنے ہی یونٹ کے ایک احمدی حو الدار کلرک مکرم عبدالرحمٰن صاحب دہلوی سے ہوئی جنہوں نے انہیں قادیان جانے کی تحریک کی۔پھر یہ تقریب کیونکرعمل میں آ ئی،اس بارے میں وہ فوجی افسر جن کا نام مسٹرآرچرڈ تھا، بیان کرتے ہیں:
’’انہوں نے (یعنی عبدالرحمٰن صاحب دہلوی صاحب نے۔ ناقل)مجھے قادیان سے ایک کتاب Teachings of Islam منگوا کر دی جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ جماعت احمدیہ کے مقدس بانی، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام، کی تصنیف لطیف ہے۔ .....میں اس کتاب سے کما حقہ استفادہ تو نہ کر سکا کیونکہ مجھ میں اس کو سمجھنے کے لئے وہ روحانی طاقت موجود نہ تھی تاہم اس میں بیان شدہ اسلامی تعلیم کے بعض حصوں نے مجھے خاص طور پرمتأثر کیا۔......کچھ دنوں کے بعد مجھے دو ہفتوں کی چھٹیاں ہو رہی تھیں۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ دن کہاں گذاروں۔ عبد الرحمٰن صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ میں قادیان چلا جاؤںمگر قادیان وہاں سے قریباً ایک ہزار میل دَور تھا۔پھر یہ جگہ(قادیان)میرے لئے اجنبی بھی تھی۔ چنانچہ چند دنوں بعد میں نے انہیں کہا کہ میں وہاں نہیں جا سکتا۔یہ سن کر ان کا چہرہ اتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے انہیں اس کا بہت صدمہ ہوا ہے۔یہ دیکھ کر میں نے قادیان جانے اور وہاں چند دن گذارنے کا پروگرام مرتب کرہی لیا‘‘
آگے یہ کہ وہ ایک ہزار میل کا یہ کٹھن اور طویل سفر طے کرکے کس طرح قادیان پہنچے اور پھر انہوں نے وہاں کیا دیکھا ،پایا اور محسوس کِیا،اس کی روئیداد بیان کرنے کے بعدفرماتے ہیں :
’’میں صرف دو دن قادیان میںٹھہرا۔اِن دو دنوں میں قادیان کا ہر باشندہ ہی مجھے خندہ پیشانی سے پیش آیا۔سب سے بڑی چیز جس نے مجھے اسلام کی طرف راغب کیا،وہ یہی حسن سلوک تھاجو میں نے محسوس کِیا ۔گو اَس وقت میرا اسلام کے بارے میں علم صفر کے برابر تھا مگر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس درخت کے پھل ایسے میٹھے ہوں،وہ درخت یقیناً نہایت اعلیٰ ہوگا‘‘
یہ وہ تأثر تھا جو وہ لے کر واپس لوٹے اور جوبالآخر آپ کے اسلام سے وابستہ ہو جانے بلکہ اپنی ساری زندگی دین اسلام کے لئے وقف کردینے پر منتج ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اَس وقت تو ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ شخص بعد میں اسلام قبول کرکے جماعت کا مبلغ بنے گا مگر ہم اس بات پر خوش تھے کہ ایک یورپی شخص قادیان آیا ہے۔یہ وہی دوست ہی ں جو بعد میں بشیر احمد صاحب آرچرڈ کے اسلامی نام سے پہلے یورپی احمدی مبلغ اسلام کے طور پر جماعت سے متعارف ہوئے۔اور بعد میں اپنی ساری زندگی اسلام اور احمدیت کے لئے وقف کر کے جماعت میں ایک نمایا ں مقام حاصل کِیا۔
دوسری شخصیت جس نے اَس زمانے میں قادیان کی زیارت کی بلکہ ایک لمبا عرصہ قادیان میں قیام بھی کِیا،وہ شامی احمدی دوست السید منیر الحصنی صاحب تھے۔آپ کا خاندان یعنی آپ ،آپ کے بڑے بھائی السید محی الدین الحصنی اور چھوٹے بھائی السید بدرالدین الحصنی کافی عرصہ پہلے احمدی ہو چکے تھے۔........آپ ۱۹۴۴ئ کے اواخر یا ۱۹۴۵ئ کے اوائل میں قادیان تشریف لائے۔ہم انہیں اکثر مسجد مبار ک میں دیکھتے اور ان سے مصافحہ کرنے میں شرف محسوس کرتے ۔تاہم بات چیت ہم ان سے نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ صرف عربی بولتے تھے۔ مگر قادیان میں رہتے ہوئے انہوں نے اتنی اردوضرور سیکھ لی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اردو کتب پڑھنے لگ گئے۔خاکسار کی ان سے دوسری ملاقات اَس وقت ہوئی جب خاکسار ۱۹۵۶ئ میںجامعۃ المبشرین سے شاہد کی ڈگری لینے کے بعد اپنی پہلی پوسٹنگ پر گولڈ کوسٹ(غانا)جاتے ہوئے عرصہ سات ماہ دمشق میں ٹھہرا تھا(اس کاتفصیلی ذکراگلے صفحات میں اپنے مناسب مقام پر آ رہا ہے )۔
ہوسٹل کی مخصوص یادوں میں سے ایک ایسی یادجس کابابرکت اثر ابھی تک دلوں پر قائم ہے،وہ ایک واقعہ ہے جو صرف ایک بارپہلی کلاس کے ہوسٹل میں مقیم طلبہ کے حصے میں آیا۔خاکسار اوپر عرض کر چکا ہے کہ ہمارا ہوسٹل دارالانوار سڑک کے اوپرواقع ایک عمارت میں قائم ہوا۔اس سڑک پر منجملہ دیگر عمارات کے جو سڑک کے دائیں بائیں دور تک چلی گئی تھیں،ایک عمارت مکرم پرنسیپل صاحب کی کوٹھی بھی تھی جو اس سڑک کے آخر پر واقع تھی۔ہم نے کئی بار دیکھا کہ حضرت ام المؤمنین جنہیں حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد سے خاص پیارتھا بلکہ آپ انہیں اپنے وفات یافتہ بیٹے مبارک احمد کا بدل سمجھتی تھیں، بعض خواتین کی معیت میں اَس سڑک پر پا پیادہ چلتے ہوئے کوٹھی حضرت میاں ناصر کی طرف جار ہی ہیں۔ایک دن مکرم چودھری محمد علی صاحب نے ہوسٹل کے طلبہ سے فرمایا کہ اب جس دن حضرت ام ا لمؤمنین کا گذر ہوگا، انہیں بتا دیا جائے گا۔اَس وقت ہوسٹل میں موجود تمام طلبہ سڑک پر ایک جانب قطار میں کھڑے ہو جائیں اور جب حضرت ام المؤمنین گذرنے لگیں توسب مل کر انہیں السلام علیکم کہیں۔یہ تقریب پیدا ہو ئی اور جو خوش قسمت طلبہ اَس وقت ہوسٹل میں موجود تھے،انہوں نے اس بابرکت تقریب میں حصہ لیا۔ایک سال کے بعد ہمارا ہوسٹل وہاں سے منتقل ہو کر دارالعلوم میں واقع کالج کی عمارت کے قریب ایک نئی خام اینٹوں سے تیار کردہ عمارت میں آ گیا اورپھر اس جیسی کوئی تقریب دوبارہ پیدانہ ہوئی اور نہ ہو سکتی تھی۔
کالج کے پرنسیپل حضرت میاں ناصر احمد صاحب(بعدہى خلیفۃ المسیح الثالثؒ) کے طفیل حضرت اماں جان یعنی حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ،ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کالج سے اپنی محبت اور دلداری کا اظہار اس طور پربھی فرمایا کہ آپؓ نے کالج کے ہوسٹل کے لئے اپنے بہت سے ذاتی برتن از قسم دیگچے، دیگچیاں، پراتیں،پلیٹیں،گلاس وغیرہ مرحمت فرمادئے۔چنانچہ اوائل میں انہیں برتنوں میں ہوسٹل کے طلبہ کے لئے کھاناپکتااور طلبہ کو دیا جاتا۔ان میںسے ہر برتن پر ’’نصرت جہان بیگم‘‘ کے مبارک الفاظ کندہ کئے ہوئے تھے۔
اس سلسلے میں مناسب ہوگا کہ ہوسٹل کے طلبہ کے ساتھ حضرت پرنسیپل کی ذاتی شفقت کا بھی ایک واقعہ بیان کر دیا جائے۔چنانچہ مکرم چودھری محمد علی صاحب وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ابھی قادیان میں کالج شروع ہوئے دو چار دن ہی ہوئے تھے کہ ایک رات شدید بارش ہو ئی۔ صبح اٹھے تو آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اور اس کے ساتھ ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہو رہی تھی۔ہم نے گیسٹ ہاؤس سے حضور کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ بارش ہو رہی ہے اور ہوسٹل کالج سے فاصلے پر ہے،آج چھٹی کا اعلان کر دیا جائے۔اس پر جو جواب آپ کی طرف سے آیا،وہ کچھ اس طرح کا تھا:’اچھا اگر کل بھی بارش ہوئی اور پرسوں بھی تو پھر‘‘۔اس پر ہم لوگ بہت شرمندہ ہوئے کہ ایسی نامعقول درخواست بھیجی ہی کیوں ۔ اور پھر کالج جانے کی تیاری کرنے لگے۔اس پر ابھی دوچار منٹ ہی گذرے ہونگے کہ حضور بنفس نفیس ہوسٹل میں تشریف لائے۔ہماری یہ حالت تھی کہ اپنی احمقانہ درخواست پر پہلے ہی شرمندہ ہو رہے تھے۔ہم نے معذرت کرنی چاہی تو فرمایا کہ چلوکسی بڑے کمرے میں بیٹھیں۔اب ہر کمرہ ہی چارپائیوں سے پَر تھا۔وہاں ایک چارپائی پر حضور خود تشریف فرماہوئے اور دوسری چارپائیوں پر ہمیں بیٹھنے ککا ارشاد فرمایا ۔جب ہم نے دوبارہ معافی مانگی تو فرمایا:
’’اب اس جرم کی سزا یہ ہے کہ ایک تو آج چھٹی۔دوسرے، اپنی کوئی نظم سنائیں‘‘
مکرم چودھر ی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی دانست میں اپنے اِس’’ عیب ‘‘کو چھپایا ہوا تھا مگر اب ظاہر کرنا ہی پڑا۔چنانچہ نظم بھی ہوئی اور پھر اس کے بعد کلائی پکڑنے کا دور شروع ہوا۔ اس طرح پر کچھ دیر تک ہوسٹل میں خوب چہل پہل رہی۔جب حضور یہ خوشیاں بکھیر کر واپس تشریف لے گئے توہم میں سے ہر ایک اپنی خوش بختی پر ناز کر رہا تھا۔خاکسار اپنے ذاتی تجربہ پر کہتا ہے کہ حضرت پرنسیپل صاحب جب تک کالج کے پرنسیپل رہے، آپ ہمیشہ کالج کے طلبہ کے ساتھ اپنے پیاراور محبت کی یہ دولت بانٹتے رہے۔
نظموں کا ذکرچل پڑا ہے تو ڈیرہ غازی خان کے رہنے والے ایک طالب علم کی نظم بھی سن لیجئے۔ ان کا نام تو بھول گیا ہے مگر ان کا تخلص اب تک یاد ہے ہے۔وہ ’’دہقان ‘‘ اپنا تخلص رکھتے تھے۔ ان کا تخلص اور ان کی نظمیں بھی عموماً دہقانوں والی ہوتی تھیں۔مثلاً ایک بار انہوں نے گھر جانے کے لئے چھٹی کی درخواست حضرت پرنسیپل کی خدمت میں بھیجی جو نامنظور ہوئی ۔اس پر انہوں نے ایک پوری نظم لکھ ڈالی۔ اس کے سارے شعر بھول گئے ہیں ،صرف مطلع یاد رہ گیا ہے جو یہ تھا: