Life History of Maulvi Fazl Ilahi Sahib Anwari (Missionary of the Silsila)
حالات زندگی مولوی فضل الٰہی صاحب انوری(مبلغ سلسلہ)
خاکسار ۱۹۲۷ئ میں بھیرہ(ضلع شاہ پور۔حال سرگودہا) میں پیدا ہوا۔یہیں خاکسار کے ننھال تھے جو پیشہ کے لحاظ سے کاشتکار تھے ۔اس کے برعکس والد صاحب ،ماسٹر امام علی صاحب حضور پوری ثم بھیروی، ڈسٹرکٹ بورڈ سرگودہا میں محکمہ تعلیم میںمدرس تھے۔جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے تو ابا جان کے سب سے بڑے بھائی، ماسٹر محمد زمان صاحب،مدفون بہشتی مقبرہ قادیان،ہمارے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئے جو اگرچہ جوانی میں ہی فوت ہو چکے تھے مگر ان کی وجہ سے گھر میں احمدیت کی چرچا ہوتا رہتا تھا۔چنانچہ خاکسار کے چھوٹے تایامنشی محمد سلطان کاتب اسی اثر کے نتیجے میں احمدی ہو چکے تھے۔ان کے بڑے بھائی محمد رمضان صاحب البتہ آخردم تک احمدی نہ ہوئے۔ خودخاکسار کے ابا جان نے بھی بہت بعد میں یعنی اندازاً ۳۱؍۱۹۳۰ ئ میں احمدیت قبول کی۔اَس وقت خاکسار کی عمر ۳۔۴ سال تھی۔
خاکسار نے پرائمری کا ا متحان بھیرہ سے ۵ کلومیٹر جانب مشرق میں واقع لوئر مڈل سکول حضورپور سے پاس کِیا۔ یہیں خاکسار کے اباجان مکرماسٹر امام علی صاحب سکول کے ہیڈماسٹر تھے ۔ چوتھی جماعت میں ضلعی بنیاد پر ہونے والے مقابلہ کے امتحان میں شامل ہو کر وظیفہ حاصل کِیا۔اَس وقت یہ وظیفہ چار روپیہ ماہانہ کے حساب سے چار سالوں کے لئے ملتا تھا ۔ ہائی سکو ل کی تعلیم کے لئے خاکسار گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں داخل ہوا۔خاکسار کا یہ چھ سالہ تعلیمی زمانہ اس لحاظ سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ خاکسار پانچویں کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔
گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے ۱۹۴۴ئ میں میٹرکولیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعدخاکساراسی سال قادیان میں کھلنے والے تعلیم الاسلام کالج میں مزید تعلیم کے لئے داخل ہوا اور رول نمبر ایک(One) پایا۔ اس اعتبار سے خاکسار کہہ سکتا ہے کہ خاکسارتعلیم الاسلام کالج کا پہلا طالب علم ہے۔
قادیان میں قیام کے دوران کا ہمارا محبوب مشغلہ علاوہ حصول تعلیم کے مسجد مبارک قادیان میں شام کی نماز کے بعد مجلس عرفان میں شامل ہونا تھا۔ان ایام میں حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی قریباً روزانہ ہی مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے ۔اس کے لئے خاص بنچ تیار کروائے گئے تھے جو نماز کے فوراً بعد محراب کے سامنے نصف دائرہ کی شکل میں رکھ دئے جاتے اور پھر حضور کے ان کے اوپر تشریف رکھنے کے بعد چند مخصوص صحابہ حضور کے دائیں بائیں بیٹھ جاتے۔یہ مجلس جو نماز عشا تک جاری رہتی،اس میں کوئی خاص موضوع زیربحث نہیں ہوتا تھا بلکہ حضورکبھی کسی علمی مسئلہ پربحث شروع فرما دیتے یا پھر حاضرین کی طرف سے پیش کئے جانے والے کسی سوال کا جواب ہوتا ۔
قادیان میں خاکسار کا قیام کالج کے ہوسٹل ’’فضل عمر ہوسٹل ‘‘ میں رہا جو پہلے ایک سال کے لئے دارالانوار سڑک پر واقع اور پہلے سے تعمیر شدہ’گیسٹ ہاؤس‘‘ میں قائم ہوا۔اَس وقت کی ہوسٹل کی مخصوص یادوں میں سے ایک حسین یادجس کابابرکت اثر ابھی تک دلوں پر قائم ہے، ایک ایسا واقعہ ہے جو صرف ایک بار ہوسٹل میں رہائش پذیر طلبہ کے حصے میں آیا۔ دارالانوار سڑک کے اوپرواقع عمارتوں میں آخری عمارت مکرم پرنسیپل صاحب، حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب، کی کوٹھی تھی ۔ ہم نے کئی بار دیکھا کہ حضرت ام المؤمنین،یعنی حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جنہیں حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد سے خاص پیارتھا بلکہ آپ انہیں اپنے وفات یافتہ بیٹے مبارک احمد کا بدل سمجھتی تھیں، بعض خواتین کی معیت میں اَس سڑک پر پا پیادہ چلتے ہوئے کوٹھی حضرت میاں ناصر کی طرف جار ہی ہیں۔ایک دن ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ ،مکرم چودھری محمد علی صاحب، نے ہوسٹل کے طلبہ سے فرمایا کہ اب جس دن حضرت ام ا لمؤمنین کا گذر ہوگا، انہیں بتا دیا جائے گا۔اَس وقت ہوسٹل میں موجود تمام طلبہ سڑک پر ایک جانب قطار میں کھڑے ہو جائیں اور جب حضرت ام المؤمنین گذرنے لگیں توسب مل کر انہیں السلام علیکم کہیں۔یہ تقریب پیدا ہو ئی اور جو خوش قسمت طلبہ اَس وقت ہوسٹل میں موجود تھے،انہوں نے اس بابرکت تقریب میں حصہ لیا۔ایک سال کے بعد ہمارا ہوسٹل وہاں سے منتقل ہو کر دارالعلوم میں واقع کالج کی عمارت کے قریب ایک نئی خام اینٹوں سے تیار کردہ عمارت میں آ گیا اورپھر اس جیسی کوئی تقریب دوبارہ پیدانہ ہوئی ۔
تعلیم الاسلام کالج قادیان کی یادوں میں سے تحدیث نعمت کے طور پر خاکسار اپنی ایک خواب کا ذکر کرناچاہتا ہے جو یوں ہے کہ جب ۱۹۴۶ئ میں انٹرمیڈیئیٹ کے یونیورسٹی کے امتحانات شروع ہوئے توفزکس(Physics)کا پرچہ شروع ہونے سے دو دن قبل خاکسار نے دیکھا کہ
’’میں کمرہ ٔ امتحان میں ہوں ۔فزکس کا پرچہ ہے اور ممتحن پرچے تقسیم کر رہا ہے کہ پرچے کم پڑ گئے ہیں۔اس پر ممتحن بلیک بورڈ پر سوالات لکھنے شروع کر دیتا ہے تاکہ جن لڑکوں کو پرچہ ٔسوالات نہیں ملا،وہ نقل کر لیں ۔ خاکسار بھی ان لڑکوں میں سے ہے جنہیں پرچہ نہیں ملا تھا۔چنانچہ میں نے بھی سوالات نقل کرنے شروع کر دئے۔اسی دوران آنکھ کھل گئی۔جب نیند سے بیدار ہوا تو تمام سوالات سوائے ایک کے ذہن سے محو ہو چکے تھے۔ اور وہ سوال یہ تھا Find the velocity of light according to Fizeo's method? :
یعنی روشنی کی رفتار فزیوؔ (ایک سائنسدان جس نے روشنی کی رفتار دریافت کی تھی)کے طریق پر آپ کیسے دریافت کریں گے؟‘‘
اب ہمارے نصاب میں روشنی معلوم کرنے کے دو طریق تھے:ایک فزیو کا طریق اور دوسرا ایک اور سائنسدان کا دریافت کردہ طریق ۔میں نے پہلا طریق مشکل سمجھتے ہوئے اسے چھوڑ کر دوسرے طریق کی پوری تیاری کی ہوئی تھی۔ جب خواب میں مجھے فزیو والا طریق دکھائی دیا تو میں نے ایک پورا دن لگا کر اس کی اچھی طرح تیار کر لی۔ نیز اپنے ایک کلاس فیلو کو بھی بتا دیا کہ میرے خیال میں امتحان میں یہ سوال آ رہا ہے۔ اب جب امتحان کا دن آیا اور خاکسار کمرۂ امتحان میں گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پرچے میں پہلا سوال ہی یہ تھا کہ
چنانچہ میں نے وہ سوال حل کیا اور ٹھیک حل کیا اور خدا تعالیٰ کا شکر بجا لایا کہ اس نے اپنے خاص فضل سے رہنمائی فرمائی۔
Intermediate کا امتحان پاس کر لینے کے بعدخاکساراپنے وطن بھیرہ میں آ گیا ۔ مزید تعلیم کاارادہ نہ تھاکہ خاکسارنے اخبار الفضل میں حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے شائع ہونے والی نوجوانوں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک پڑھی۔ چنانچہ والدین کی اجازت کے ساتھ خاکسار نے اپنے تعلیمی کوائف پر مشتمل ایک درخواست حضور کی خدمت میں بھجوا دی۔حضور کی طرف سے فوراً ہی جواب ملا کہ میں فوراً قادیان پہنچ جاؤں ۔ چنانچہ اپریل یا مئی ۱۹۴۷ئ میں خاکسار نے قادیان پہنچ کراپنے حاضر ہونے کی رپورٹ کر دی۔یہ تو یاد نہیں رہا کہ خاکسار کا انٹرویوکس نے لیا تھا مگر جو فیصلہ ہوا،وہ یہ تھا کہ خاکسار کو قادیان میں قائم ہونے والی فضل عمر ریسرچ انسٹی چیوٹ کے لئے لے لیا گیا ہے۔اس ریسرچ انسٹی چیوٹ کے سربراہ مکرم ڈاکٹر عبدالاحد صاحب پی،ایچ۔ڈی خاکسار کو کالج کے زمانے سے ہی جانتے تھے کیونکہ ایف۔ایس،سی کی کلاسو ں میں وہ ہمیں کچھ عرصہ کے لئے کیمسٹری پڑھاتے رہے تھے۔پھر انہی کے مشورہ کے مطابق خاکسار کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ میں پہلے کیمسٹری میں ایم ۔ایس،سی(M.Sc.) کروں۔ چونکہ ہمارا تعلیم الاسلام کالج اس دوران ڈگری کلاسوں کے لئے منظور ہو چکا تھا لھٰذاخاکسار قادیان ہی میں رہ کر بی ۔ایس،سی کلاس کے شروع ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
یہ وہ سال تھا جس میں برصغیر کی آزادی کا مسئلہ اپنے عروج کو پہنچ چکا تھااور کہیں کہیں اِکا دَکا ہندو مسلم فسادات بھی شروع ہو گئے تھے۔تاہم کسی کے وہم و گمان میں بھی وہ صورت نہ تھی جو اِن کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ میرے قادیان میں قیام کے دوران ہی فضل عمر ریسرچ انسٹی چیوٹ کی طرف سے تین افراد پر مشتمل ایک وفدکشمیر میں اس غرض کے لئے بھجوایا گیا کہ وہاں سکے کی بعض کانوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ اگر وہ مفید ہوں تو انہیں خرید کر ان پر ریسرچ کی جائے۔ خاکسار بھی اس وفد کے ایک ممبر کے طور پر ساتھ بھجوایا گیا۔ کشمیر سے واپسی کے دوران جب ہماری گاڑی بٹالہ سے قادیان آ رہی تھی تو گاڑی کے وڈالہ گرنتھیاں پہنچنے پر سکھوں نے گاڑی کے ڈرائیور اور چند اور مسافروں کو زخمی کر دیاجس پر گاڑی وہیں رک گئی اور جملہ مسافروں کوجن میں اکثریت قادیان جانے والے احمدیوں مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھی، گاڑی سے اتر جانے کے لئے کہہ دیا گیا۔ رات کا وقت تھا۔چنانچہ اس حادثے کی اطلاع فوراً ہی قادیان بھجوا دی گئی۔ جہاں سے انتظامات ہونے پر ہم قادیان پہنچ گئے۔یہ وہ پہلاحادثہ تھا جس کے بعد پنجاب میں حالات مسلسل بگڑنے شروع ہو گئے۔ ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ئ کو پاکستان بھی ایک نئی مملکت کے طور پر معرض وجود میں آ گیا مگر اس کے باوجود قادیان سے ہجرت کر کے کسی اور مقام پر چلے جانا یا پاکستان میں جاکر کسی نئے مرکز کی تلاش کرناکسی احمدی کے خیال میں بھی نہ تھا۔
تاہم حالات مسلسل بگڑتے جا رہے تھے۔جلد ہی ریل گاڑی کی آمد کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔دوسرے نمبر پر قادیان میں ڈاک کا آنا اور جانا بھی بند ہو گیا۔پھرجلد ہی قادیان کا باہر کی دنیا سے تعلق کاواحد ذریعہ تھا یعنی تار کا سلسلہ،وہ بھی کٹ گیا۔ایسے حالات میں حفاظت پر مامورافراد جماعت کے مشورہ اور اصرار پر حضور لاہور تشریف لے گئے تا کہ ہندوستان کی حکومت سے قادیان کی حفاظت کے سلسلے بات کرسکیں کیونکہ حضور اس خیال پر پختگی سے قائم تھے کہ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو قادیان کے اصل حالات سے آگاہ کیا جائے تو وہ ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے چنانچہ ۳۱؍اگست ۱۹۴۷ئ کو حضور قادیان سے روانہ ہوکر لاہور پہنچ گئے۔ دوسری طرف قادیان کے گرد و نواح میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی جا رہی تھیں اور وہ اپنی جانیں بچانے کے لئے قادیان جو ابھی تک اس صورت حال سے محفوظ تھا،قادیان کا رخ کر رہے تھے۔
یہ صورت حال جاری تھی کہ ایک دن سننے میں آیا کہ فوج آ گئی ہے۔ان لوگوں نے قادیان پہنچ کر جماعت کے لوگوں کو کیا کیا تسلیاں دیں،ان کا تو خاکسار کو کچھ علم نہیں البتہ جلد ہی یہ محسوس کیاگیا کہ وہ فوج ہماری حفاظت کے لئے نہیں بلکہ غیر مسلم جتھوں کی حفاظت کے لئے آئی ہے۔اس ساری صورت حال کا خاکسارقادیان میں رہتے ہوئے بچشم خود ملاحظہ کر رہا تھا۔ ایک دن ۔اوروہ ۳؍اکتوبر۱۹۴۷ئ کا دن تھا،پولیس اور فوج کے آدمی سکھ غنڈوں کو لے کر مختلف اطراف سے قادیان کے محلہ دارالرحمت میں داخل ہوکر بے تحاشا گولیاں چلانے اور کہنے لگے کہ مکان خالی کردو ورنہ یہ لوگ جو تلواروں اور برچھیوں سے مسلح ہیں،تمہیں مار ڈالیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدی اپنے گھروں کوویسا ہی کھلا چھوڑ کرہائی سکول کی عمارت اور اس کے بورڈنگ ہاؤس میں جمع ہونے شروع ہو گئے اور آن کی آن میں محلہ خالی ہو گیا۔خاکسار اَس وقت کالج کی عمارت کے قریب واقع کالج کے ہوسٹل میں آ چکا تھا،اس خیال سے کہ اب عنقریب کالج کھلنے والا ہے۔
جیسا کہ جلد بعد معلوم ہو گیا،پولیس اور فوج کی یہ کاروائی صرف دارالرحمت تک ہی محدود نہ تھی بلکہ دوسرے محلہ جات میں بھی یہی کاروائی ہو چکی تھی۔خود شہر کی پرانی آبادی بھی جہاں جماعت کے دفتر وغیرہ موجود تھے،مسجد مبارک تھی،اسی کاروائی کے نتیجہ میں خالی ہو چکی تھی اور وہ سارے احمدی دوست خانہ ٔ مسیح موعود ِکے اندر اور قریب کے دفاتر میں جمع ہو چکے تھے۔
اَس دن سے قادیان اہل قادیان کے لئے ایک ایسی پناہ گاہ بن کر رہ گیاجہاں معمول کی زندگی کے تقاضے یکسر بدل جاتے ہیں۔ بورڈنگ ہاؤس میں رہتے ہوئے خاکسار نے دیکھا کہ اس کی دومنزلہ عمارت جو عموماً سو ،ڈیڑھ سو طلبہ،کی رہائش کا کام دیتی تھی،اب وہاں دس بارہ ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ مردوں ،عورتوں اور بچوں سے بھر چکی ہے۔اسی قسم کی کیفیت اس کے قریب واقع سکول کی عمارت کی تھی ۔اتنی بڑی تعداد میں ہمارے لوگ وہاں کیسے رہ رہے تھے،اس کی پوری کیفیت کو احاطۂ تحریرمیں لانا خاکسار کے لئے ممکن نہیں۔پھر یہ سلسلہ ایک دو دن تک کے لئے نہ تھا بلکہ پورے تین ہفتوں تک جاری رہا۔سب سے بڑا مسئلہ کھانے پینے کی اشیائ کا تھاجو پہلے ہی ناپید ہو چکی تھیں۔اور اب تو اگر کسی کے پاس کچھ تھا بھی تو وہ گھر ہی میں رہ گیا تھا اور وہ سب لوگ اپنی جانوں کولے کر خالی ہاتھ یہاںپہنچے تھے۔صرف گندم کے ذخیرے جو جلسہ کے لئے کئی ماہ پہلے ہی اکٹھے کر لئے جاتے ہیں،موجود تھے۔ آٹاپیسنے والی مشینیں پہلے ہی بند کرائی جا چکی تھیں۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ سب لوگ یعنی بچے ،بوڑھے،عورتیں اور مرد صرف گندم ابال ابال کر کھانے پر مجبور ہو گئے ۔ اس پر کوئی ہفتہ،عشرہ گزرا تھاکہ لاہور سے ہمارے محبوب آقا نے ڈھیروں ڈھیر آٹا،چینی،گھی اور معلوم نہیں اور کیا کچھ ہمارے لئے بھجوا دیا۔دوسری طرف ایک بہت بڑے کنوائے پر مشتمل یکصدکے قریب ٹرک عورتوں اور بچوں کو لے جانے کے لئے بھجوادئے۔حکم یہ تھا کہ ان پر صرف عورتوں اور بچوں کو اور مردوں میں سے صرف ان کو جنہیں قادیان کی انتظامیہ بھجوانا ضروری سمجھے،بھجوایا جائے ۔
یوں عورتوں اور بچو ں کے چلے جانے کے بعد بورڈنگ ہاؤس میں مردوں کی رہائش میں کچھ سہولت تو پیدا ہو گئی مگر کچھ دنوں کے بعد ہمیں حکم ہوا کہ ہم یہ جگہ چھوڑ کرشہر کی مرکزی آبادی میں چلے جائیں کیونکہ حکومت ہم سے بورڈنگ ہاؤس خالی کرنے کے لئے کہہ رہی ہے۔چنانچہ دوسرے مکینوں سمیت خاکسار بھی دارالمسیح کے قریب ایک مکان میں آ گیا۔
اس نئی اور غیر متوقع طور پر پیدا ہونے والی صورت کے پیش نظراب یہ خیال کہ حکومت سے گفت و شنید کرکے حالات میں بہتری لائی جاسکتی ہے،ایک ناممکن الحصول امید بن کر رہ گیا۔ حکومت کے ارادے بالکل واضح ہو چکے تھے،یعنی یہ کہ وہ کسی صورت میں کسی احمدی کو قادیان میں رہنے دینے کے لئے تیار نہیں ۔ اَن مخدوش حالات کے پیش نظر کہ حکومت ہند ہماری کوئی مدد کرنے کے لئے تیار نہ تھی ، لاہور میں رہتے ہوئے حضور وہاں کے مقامی افسرانِ حکومت سے مل کر وقفے سے وقفے چار،پانچ،چھ یا زیادہ ٹرکوں پر مشتل فوجی کنوائے بھجوانے لگے۔اس انتظام کے ماتحت خاکسار کی باری ۱۱؍ نومبر ۱۹۴۷ئ کوآئی۔چنانچہ اَس دن چار ٹرکوں پر مشتمل ہمارا کنوائے قادیان سے روانہ ہوا کر اسی دن لاہور پہنچ گیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ قادیان سے روانہ ہونے والا آخری سے پہلا کنوائے تھا۔آخری کنوائے ۱۶؍ نومبر کو قادیان سے چلا جس کے بعدقادیان میں صرف وہ احمدی رہ گئے جن کے بارے میں حکومت ہند سے باقاعدہ اجازت لی جا چکی تھی کہ وہ اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے یہاں رہیں گے۔
قادیان کے مرکزی ادارے تو پہلے ہی قادیان کو خیر بادکہہ کر لاہور آ چکے تھے۔اب تعلیم الا سلام م کا لج کے بھی پاکستان منتقل کئے جانے کا فیصلہ ہوا۔ابھی کالج کے لئے جگہ کی تلاش جاری تھی کہ کالج کے پرنسیپل صاحب یعنی حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد کو حضور نے ہدایت فرمائی کہ لاہور میں جو جگہ بھی ملے،وہاں کالج شروع کر دو۔چنانچہ کینا ل پارک لاہور میں ایک بوسیدہ عمارت کو محکمہ بحالیات سے حاصل کرکے اس میں تعلیم الاسلام کالج کی کلاسیں شروع کر دی گئیں۔خاکسار بھی وہاں پہنچ کر اور اپنے بارے میں کئے گئے سابقہ فیصلے کے مطابق اس میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرنے لگا۔چند ما ہ بعد ہمارا کالج شہر لاہور کے اندر ڈی۔اے۔وی کالج کی متروکہ عمارت میں منتقل ہو گیا۔
۱۹۵۰ئ میں خاکسار نے اسی کالج سے بی ۔ایس، سی کا امتحان دیا۔ خاکسار تحدیث نعمت کے طور یہاں بھی کالج کے اس دور سے تعلق رکھنے والی اپنی ایک خواب کا ذکر کرنا چاہتا ہے۔اور وہ یہ کہ امتحان دینے کے بعد خاکسار اپنے گھر بھیرہ آنے سے پہلے چند دنوں کیلئے لاہور ہی میں ٹھہرا ہوا تھا کہ خاکسار نے رؤیا میں دیکھا کہ
’’میں اپنے گھر بھیرہ(واقع محلہ حاجی گلاب) میں ہوں۔کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی لڑکا جو میر ی جان پہچان کا لگتا ہے، انگریزی کا اخبار لے آیا ہے اور مجھے کہتا ہے،اس اخبار میں بی۔ایس،سی کا نتیجہ شائع ہوا ہے،تم اپنا نتیجہ دیکھ لو۔ اِس پر میں اخبار ہاتھ میں لے کر نتائج دیکھنا شروع کر دیتا ہوں۔نتائج یونیورسٹی کے رول نمبروں کی ترتیب سے دئے گئے تھے۔میںاپنا رول نمبر (جو مجھے اب تک یاد ہے، ۱۲۹۴تھا) تلاش کرکے اس کے سامنے لکھے گئے نمبر (پاس مارکس) دیکھتا ہوںتووہ ۳۳۴ تھے ۔گویا میں اتنے نمبر حاصل کرکے پاس تھا‘‘
اب رؤیا میں بتائے گئے یہ نمبر اتنے واضح تھے کہ میں تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ فی الواقعہ اتنے ہی ہونگے۔اسی خیال سے میں نے کسی کو اپنی یہ رؤیا نہ بتائی ۔پھر میں اپنے گھربھیرہ میں آ گیا اور نتیجے کا انتظار کرنے لگا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن جب میں گھر پر تھا تو میرے سکول کے زمانے کا میرا ایک کلاس فیلو محبوب الٰہی پراچہ آیا ۔ میں سکول سے فارغ ہونے کے بعد سے اسے دوبارہ کبھی نہیں ملا تھا تاہم ا سے معلوم تھا کہ میں نے بھی اس سال بی ۔ایس ،سی کا امتحان دیا ہے۔اس کے ہاتھ میں ایک انگریزی اخبار تھا اور مجھے کہنے لگا،اس میں یونیورسٹی کابی۔ اے، بی۔ ایس ، سی کا نتیجہ شائع ہوا ہے،میرا نام تو اس میں نہیں ہے،آپ اپنا نتیجہ دیکھ لیں۔چنانچہ میں نے اخبار ہاتھ میں لیا اور اپنا رول نمبر تلاش کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ بالکل اسی طرح جیسے رؤیا میں د کھلایا گیا تھا، بریکٹوں کے اندر لکھے ہوئے میرے رول نمبر (1294) کے سامنے بعینہْ اتنے ہی نمبر لکھے ہوئے ہیں جو مجھے قریباً ایک ماہ قبل خواب میں دکھائے گئے تھے۔گویا خداتعالیٰ کے فضل سے میں پاس تھا۔ میں اسی وقت شکرانے کے نفل پڑھنے لگ گیا۔والدہ محترمہ کہیں باہر گئی ہوئی تھیں ۔ واپس تشریف لائیں توپوچھا،یہ فضل الٰہی کونسی نماز پڑھ رہا ہے۔ اس پر خاکسار کی بڑی ہمشیرہ ،اقبال بیگم صاحبہ مرحومہ، نے بتایا کہ امتحان میں پاس ہونے کی خوشی میں شکرانے کے نفل پڑھ رہا ہے۔
Rabwah Darul Hijrat My educational period at Jamia Ahmadiyya Rabwah
ربوہ دارالہجرت اور میرا جامعہ احمدیہ ربوہ کا تعلیمی دور
اس عرصہ میں ربوہ کی آبادی شروع ہو چکی تھی اور تمام مرکزی دفاتر جو پارٹیشن کے بعد سے لے کر لاہور میں تھے،ربوہ میں منتقل ہو چکے تھے۔چنانچہ خاکساربی۔ایس،سی کا نتیجہ نکلنے کے بعد جب ۱۹۵۰ئ میں ربوہ پہنچا اور دفتر تحریک جدید میں اپنے بی ۔ایس،سی میں کامیاب ہونے کی رپورٹ پیش کی تو یہ رپورٹ حضرت المصلح الموعود کی خدمت میں بھجوائی گئی ۔ حضورؓ نے اس پر تحریر فرمایا:’’جامعۃ میں داخل ہوں‘‘۔بس اس ایک ہی جملہ کے ساتھ خاکسار کا سارا مستقبل وابستہ ہو چکاتھا۔چنانچہ خاکسار بھیرہ واپس جا کر اپنے اگلے تعلیمی دور کی تکمیل کے لئے دوبارہ ربوہ پہنچ گیا۔
۱۹۵۶ئ میں خاکسار جب جامعہ کی تعلیم سے فارغ ہوا تو خاکسار کو بتایا گیا کہ خاکسار کی تعیناتی غانا(مغربی افریقہ کا ایک ملک) میں ہو گئی ہے لھٰذا خاکسار غانا جانے کیلئے تیار ہوجا ئے۔جامعہ کی تعلیم ہی کے دوران خاکسار کی شادی ہو چکی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ایک بچی بھی عطا فرمادی تھی جس کا نام حضرت مصلح موعودؓکے تجویزکرہ نام پر حفصہ رکھا گیا تھا۔بہرحال مجھے جلد سے جلد سفر کی تیاری کیلئے کہہ دیا گیا۔اس دوران دفتر تبشیر نے مجھے سفر کی تیاری کے سلسلے میں کچھ اضافی رقم بھی دی۔نیز بتایا کہ غانا جانے سے پہلے خاکسارکوعرصہ ۶ماہ کیلئے دمشق میں ٹھہرنا ہوگا تا کہ میں وہاں عربی زبان میں مہارت پیدا کرلوں ۔
خاکسار کے دمشق کے لئے روانہ ہونے سے پہلے جامعہ کی طرف سے خاکسار کے اعزاز میں ایک الوداعی پارٹی کا انتظام کیا گیاجس میں حضرت المصلح الموعودؓ نے بھی شمولیت فرمائی ۔اس پارٹی کاانعقاد دریائے چناب کے کنارے پر کیا گیا ۔یہ پروگرام بہت پہلے قرار پا چکا تھا جس میں اَس وقت کے جامعہ کے پر نسیپل جناب مولانا ابوا لعطائ صاحب جا لند ھری )مرحوم (نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کِیا کہ یہ )خاکسار کی طرف اشارہ کر تے ہوئے) عنقریب دمشق کی طرف روانہ ہونے والے ہیں، حضوردعا فرمائیں ۔اس پر حضور جو فرمایا، اسے خاکسار اختصار کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔فرمایا:
’’تم وہاںزبان سیکھنے کیلئے جارہے ہو ۔ایک تو وہاںاپنے لوگوں)مراد اردو یا پنجابی بولنے والوں )سے نہ ملنا ۔بلکہ زیادہ سے زیادہ عربوں کیساتھ میل جول رکھنا ورنہ سالہاسال بھی رہوگے تو تمہیں زبان نہیںآئے گی۔دوسرے، بڑی بڑی ادبی کتب کی بجائے ہلکی قسم کا لٹر یچر از قم قصص پڑھنا ۔ادبی کتاب ذہن کو جلد تھکا دیتی ہے جبکہ قصہ کی طرز کی کتاب کی دلچسپی قائم رہتی ہے اور انسان اسے پڑھتے ہوئے تھکتانہیں۔تیسرے ،ایسی کتابوں کو ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار پڑھنا۔پہلی دفعہ تو انسان ایک کتاب اپنی دلچسپی کیلئے پڑھتا ہے لیکن دوسری،تیسری، اور چوتھی دفعہ زبان کی خاطر پڑھنا ضروری ہے۔ اس طرح تمہیں زبان کے محاوروں سے اطلاع ہو جائے گی۔اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نے انگریزی کا ایک ناول اٹھارہ دفعہ پڑھا ‘‘
حضور کی یہ قیمتی نصائح خاکسار کیلئے عربی زبان اور بعد میں جرمن زبان سیکھنے میں بہت ممد ثابت ہوئیں۔
خاکسار کی ربوہ سے روانگی ماہ فروری1956 ئ کی کسی تاریخ کو ہوئی ۔ خاکسار کی سالہا سال تک کے لئے ہونے والی جدائی کا تصور جہاں خاکسار کے والدین صبر آزماتھا ، وہاںسب سے بڑھ کر صبر و رضا اور استقامت کا نمونہ اس خاتون نے دکھایا جو میرے ساتھ سب سے زیادہ جسمانی اور روحانی تعلق رکھتی تھی یعنی خاکسار کی رفیقہ حیاتؔ ،عائشہ صدیقہ، جس کی زندگی کا واحد سہاراخدا تعالیٰ کی ذات کے بعد خاکسار ہی تھا۔مگر اس اللہ کی بندی نے کبھی ایک بار بھی نہ کہاکہ اب میرا کیا بنے گا۔ بلکہ جو کہا ،وہ زبان حال و قال سے اس صالحہ خاتون(حضرت ہاجرہ علیہا السلام) کے الفاظ کی ترجمانی تھا جو اس نے اپنے بزرگ شو ہر سے یہ سن کرکہ وہ اسے اوراس کے جگر گوشے کومحض اللہ کی خاطر ایک بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر جا رہے ہیں،کہے تھے کہ پھر’’ اللہ بھی ہمیں کبھی ضا ئع نہیں کرے گا‘‘ ۔ہماری حفصہ بیٹی اَس وقت صرف چار سال کی تھی ۔ماں باپ کے نازو نعمت سے برا براکا حصہ پانے والی اس بچی کی پرورش اورنگداشت کی ذمہ داری اب کلیتاً اس کی ماں پر پڑنے والی تھی۔ میرے والدین اور میرے بھائیوں یا بہنوں میںسے کوئی بھی اَس وقت ربوہ میں رہائش نہ رکھتا تھا کہ ان کے سہارے کی امید ہوتی اور نہ ان کے حالات انہیں ربوہ آنے کی اجازت دیتے تھے۔ رہے میرے سسرال تو ان میں سے کوئی فرد ایسا نہ تھا جو ہمارے ان حالات میںہمار اساتھ دے سکتا۔کیو نکہ اول تو وہ جیسے بھی تھے، دور افتا دہ ایک گائوں میں رہتے تھے۔پھر وہ ان پڑھ،مصیبت زدہ،بے گھر اور بے سہارا تھے۔اور پھر وہ بھی لے دے کرصرف دوا فراد تھے یعنی میری خوشدامنہ اور میری نسبتی بہن جو آگے چھوٹے چھوٹے چھ بچو ں کی ماں تھی اور اپنی ہی اہلی ذمہ داریوں میں سر سے پاؤں تک مشغول ۔ اس کا بھائی تو شروع سے کوئی تھا ہی نہیں۔ البتہ خوشدامنہ صاحبہ ایک ایسا وجود تھی جس کی طرف مادی سہارے کی تلاش کے وقت ہم دونوں کی آنکھیں اٹھیں ۔ چنانچہ انہیں خط لکھا گیا ۔وہ میری نسبتی بہن یعنی اپنی چھوٹی بیٹی کے پاس ایک دور افتادہ گاؤں میں رہتی تھی۔خط ملتے ہی وہ ربوہ پہنچ گئیں۔جب انہیں بتایا گیا کہ میں ایک لمبے سفر پر جا رہا ہوںجہاں سے میرے لئے چار پانچ سال سے پہلے واپس لوٹنا مشکل ہوگا تو وہ دم بخود ہو کر رہ گئیں۔دیہات کی رہنے والی ایک اٰن پڑھ اورزمانے کے اتار چڑ ھا ئو سے نا واقف ادھیڑ عمر کی اس خاتون کو صرف اتنی سمجھ آ سکی کہ میرا داماد کسی دَوردراز ملک میں نوکری پر جارہا ہے ۔ادھر خاکسار مقررہ دن ربوہ سے روانہ ہوکرکراچی،بصرہ اوربغداد سے ہوتا ہوا دمشق پہنچ گیا۔
خاکسار کے ربوہ سے چلنے کے بعد عائشہ صدیقہ کا کیا حال ہوا، اس کا کسی قدر نقشہ اس نے اپنے اس خط میں کھینچا جو اس نے مجھے دمشق میں پہنچ جانے کے کچھ دنوںبعد لکھا یا جو چار سال کے بعد خاکسار کے واپس آنے پر اس نے بتایا۔وہ قریباً قریباً یہ تھا:
’’آپ کے گاڑی پر سوار ہو جانے کے بعد میری حالت ایسی ہو گئی کہ گو یا جان میں جان نہیں۔ بڑی مشکل سے گھر پہنچی۔شام سے پہلے پہلے سب رشتہ دار اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔ اگلے روز پھو پھی جی) خاکسار کی والدہ) بھی بھیرہ چلی گئیں۔اب ماں تھی، میں تھی اورحفصہ۔ ماں نے کھانا پکایا ہوا تھا۔ مجھے تو بھوک ہی نہ تھی ،ویسے ہی سو گئی۔ حفصہ سارا دن مجھے چمٹی رہی ۔ تاہم کسی کسی وقت پوچھ لیتی ، امی ابو کب آئینگے ۔میرے پاس اس کا جواب ہوتا تو دیتی۔ سوال کا جواب دینے کی بجائے میری آنکھوں سے چند آنسو ٹپک پڑتے‘‘
دمشق پہنچ جانے پر خاکسار دمشق کی جماعت کے امیر مکرم السید منیر الحصنی کے ہاں زاویۃالحصنی میں مقیم ہو گیا۔ چونکہ دمشق میں خاکسار کا ۶تا ۷ ماہ رکنے کا پروگرام تھا ،مکرم السید منیر الحصنی صاحب نے دریافت کِیا کہ کیا میں سیریایعنی ملک شام کا ویزا لے کر آیا ہوں۔ خاکسار کے کہنے پر کہ وہ تو میں لے کر نہیں آیا،مکرم الحصنی صاحب کسی قدر متفکر ہو گئے۔ اس کے لئے ربوہ میں چلنے سے پہلے وکالت تبشیر سے ضرور بات ہوئی تھی مگر مکرم ملک مبارک احمدصاحب (بعدہى پروفیسر جامعہ احمدیہ) جواِس سے قبل ایک لمبا عرصہ دمشق میں رہ چکے تھے،نے فرمایا تھا کہ ’’ کوئی ضرورت نہیں ،السیدمنیر الحصنی صا حب وہاں سب کچھ کر لیں گے ۔
زاویۃ الحصنی جو السید منیر الحصنی صاحب کے خاندان کی ذاتی ملکیت تھا،ایک بہت بڑے ہال اور چند اوپر نیچے چھو ٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل تھا۔ان میں سے ایک کمرہ بطور مسجد استعمال ہو رہا تھا ۔ایک دوسرا کمرہ السیدالحصنی صاحب بطور کچن استعمال کرتے تھے۔ایک چھوٹا سا کمرہ جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا صحن بھی تھا ، میرا کچن بنا۔یہی کمرہ مجھ سے پہلے مکرم ملک مبارک احمد صاحب بھی بطور کچن استعمال کر چکے تھے ۔باقی کمروں میں فلسطین سے آئی ہوئی چند احمدی فیملیاں رہتی تھیں۔چونکہ کوئی کمرہ میری رہائش کے لئے فارغ نہ تھا، اس لئے زاویۃ الحصنی کا ہال جو در اصل ایک بہت بڑی لائبریری تھی ،میرے اٹھنے بیٹھنے اور سونے کیلئے استعمال ہونے لگا۔دن کے وقت یہی ہال ملا قات گاہ کے طور پر استعمال ہوتا۔جماعت کے چھو ٹے بڑے اجلاسات بھی اسی ہال میںمنعقدہوا کرتے تھے ۔اسی طرح یہی ہال پانچ وقتہ نمازوںکیلئے بھی استعمال ہوتا۔اَس وقت دمشق میں ایک اچھی خاصی جماعت تھی جو قریباً سب کی سب اچھے تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھی۔ان میں سے ایک حصہ تو وہ تھا جو فلسطین سے آ کربطور پناہ گزیں آباد ہونے والے احمدیوں سے عبارت تھا ۔ باقی سب کے سب شامی عرب احمدی تھے۔
شروع شروع میں میرے لئے زبان کا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔با لخصوص اس لئے کہ تمام لوگ عامی زبان بولتے تھے اور عامی زبان(Colloquial ) اگرچہ عربی زبان کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے مگر اصل زبان سے اس قدر مختلف ہے کہ اگر ایک اچھا خاصا عرصہ رہ کراس سے واقفیت نہ ہو جائے تو کچھ پلے نہیں پڑتاکہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے۔دوسرے، خاکسار کو ابھی عربی زبان بولنے کی مشق بھی نہیں تھی۔صحیح عربی زبان(جسیالعربیعہ الفصحٰی کہتے ہیں)اگر کوئی بولتا تو ۹۰ فیصد حصہ مجھے سمجھ میں آ جاتا تھا۔ اسی طرح اخبارات کی بھی ایک خاص زبان ہوتی ہے ۔عربی اخبارات میں ایک بہت بڑا حصہ ان الفاط کا ہوتا تھا جو غیر زبانوں سے مستعارلے کر عربی میں ڈھا لے گئے تھے۔تا ہم آہستہ آہستہ بولنے کی بھی مشق ہونے لگی اور اخبارات کی زبان بھی سمجھ آنے لگی۔ اسی طرح عامی زبان کے کثیر الاستعمال الفاظ سے بھی واقفیت ہونے لگی ۔ادھر میں حضرت المصلح الموعودؓ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق دمشق کی لائبریریوں میں جا جاکر اور ہر قسم کی چھو ٹی موٹی کتابیں لا لا کر پڑھنے لگا۔
مگر جہاں تک ویزے کا مسئلہ تھا،مکرم السیدمنیر الحصنی صاحب اس کے لئے کافی متفکر رہنے لگ گئے۔ بات یہ تھی کہ ایران، عراق،شام،لبنان وغیرہ کے اس وقت کے قوانین کے مطابق ایک پاکستانی کے لئے ملک میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہ تھی۔باڈر پر داخل ہونے کا سفری ویزہ(Transit) بلا روک ٹوک لگ جاتا تھا جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ۲۴ یا ۴۸ گھنٹوں کے اندر اندر اگلی سر حد پار کر لی جائے۔تاہم ملک میں ٹھہرنے کیلئے با قاعدہ ویزے کی ضرورت تھی جو حسب قواعد ملک کا سفارتخانہ جاری کرتا تھا اور سفری ویزے کو قیام کے ویزے میں تبدیل کر ا نا اگر نا ممکن نہیں تھا تو مشکل ضرور تھا۔ السید منیر الحصنی صاحب کو اس مشکل کا بخوبی اندازہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے ٹھیک ٹھاک پریشانی کا اظہار کیا۔ ان کی پریشانی کی ایک اور و جہ جو جلد بعد معلوم ہوگئی، یہ بھی تھی کہ حکومت کے علم میں تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور یہ کہ وہ اپنے خصوصی عقائد کی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ اس لئے حکومت ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی تھی۔چنا نچہ جماعتی اجتما عات اور اجلاسات ایسے طور پر منعقد کئے جاتے کہ زیادہ شورو غوغا نہ ہو۔ نماز جمعہ بھی جلد جلد ادا کر کے دوست اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے یا لا ئبر یر ی ہال میں تھو ڑی دیر کیلئے بیٹھ جاتے ۔ یہی وجہ تھی کہ جب خاکسار نے انہیں ویزا کی تو سیع کیلئے ا پنے ساتھ جانے کو کہا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ساتھ گیا تو ویزا کے حصول میں مشکل پیدا ہو جا ئیگی اور ہو سکتا ہے کہ وہ سرے سے انکار ہی کردیں۔اس لئے بہتر ہے ،تم اکیلے جائو اور خود جاکر بات کرو کہ میں کچھ عرصہ یہاں رکنا چاہتا ہوں۔پولیس سٹیشن وغیرہ کے متعلق انہوں نے مجھے سمجھا دیا کہ کیسے پہنچنا ہے ۔
چنانچہ میں اکیلا ہی پولیس سٹیشن چلاگیا۔ مگر عربی زبان پر اچھی طرح عبورنہ ہونے کی وجہ سے میں عربی روانی سے بول نہ سکتا تھا ۔ دوسرے، وہ لوگ فصیح عربی کی بجائے عامی زبان بولتے اور سمجھتے ہیں جو میرے لئے بالکل اجنبی تھی۔ عربی کے علاوہ وہ لوگ اگر کوئی زبان جانتے تھے تو وہ فرانسیسی زبان تھی۔ انگریزی سے انہیں چنداں واقفیت نہ تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ پہلی بار میں نے کیسے بات کی۔ البتہ اس کے نتیجہ میں مجھے دو ہفتے کا ویزا مل گیا۔اب یہ دو ہفتے تو دیکھتے ہی دیکھتے گذر گئے ۔ جب میں دوسری باردفتر میں گیاتومجھے وہاں ایک ایسے پولیس افسر کا پتہ لگا جو کسی قدر انگریزی جانتا تھا۔اس کے ذریعے جب میں نے اپناٹھہرنے کا مقصد بیان کیا ، تو مجھے دو ہفتے کا مزید ویزا مل گیا۔ لیکن ساتھ یہ کہہ دیا گیا کہ اب اس میں مزید توسیع نہ ہوگی۔
ویزا کی ان مشکلات کے باوجود میرا عربی زبان کی کتابیں پڑھنا برابر جاری رہا۔ تاہم ویزہ کی پریشانی میرے دل و دماغ پر ہر وقت چھائی ہوئی تھی۔اب خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن جب میں رات کو زاویۃالحصنی کے لائبریری ہال میں سو یا ہوا تھا،تو میری زبان پر بڑی قوت اور صفائی کے ساتھ مندرجہ ذیل فقرہ جاری ہوا:
’’آپ کتابیں پڑھئے اور باقی معاملے مجھ پر چھوڑدیجئے‘‘
اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ میں ابھی تک ان الفاظ کی شیرینی اور لذت اپنے اندرمحسوس کر رہا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ وہ الفاظ پھر زبان پر جاری ہوجائیں۔ ان الفاظ کا اس طرح زبان پر جاری ہونا میرا پہلا روحانی تجربہ تھا جس سے الہام کی وہ کیفیت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بیان فرمائی ہے ، واضح طور پر سامنے آ گئی کہ یہ ایک نہایت لذیذ اور شیریں کلام ہوتا ہے جو سوتے سوتے انسان کی زبان پر جاری ہوجاتا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔اب جب میں تھوڑا سا سنبھلا اور غور کرنے لگا کہ یہ کیا الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے ہیںتومیں نے محسوس کیا کہ یہ تو مجھ حقیرپَرتقصیر کو اپنے خدا کی طرف سے تسلی دی گئی ہے کہ میں اپنا کام جس کے لئے میں آیا ہوںیعنی کتابیں پڑھنا ،جاری رکھوںاور ویزے کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دوں۔
اب میں انتظار کرنے لگا کہ یہ خدائی بشارت کب اور کس رنگ میں پوری ہوتی ہے۔ چنانچہ اس رؤیا پر ابھی دو دن ہی گزرنے پائے تھے کہ میرے ویزا کے حصول کے سلسلے میں مکرم السیدالحصنی صاحب فرمانے لگے کہ اب ویسے تو ویزے میں توسیع مشکل ہے، ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کی معرفت کوشش کر دیکھیں، شاید وہ اس میں کچھ مدد کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے فون پر دمشق میں مقیم پاکستانی سفیر ، جناب لال شاہ بخاری صاحب، سے ملاقات کا وقت لیا۔جناب لال شاہ بخاری صاحب، جیسا کہ مکرم السید منیر الحصنی صاحب نے مجھے بتایا، مکرم چوہدری محمد ظفراللہ صاحبؓ کے مداحوں میں سے تھے اور ایک لمبے عرصہ سے شام میں پاکستان کے سفیر چلے آ رہے تھے۔السیدالحصنی صاحب اس سے قبل کئی بار مکرم چوہدری صاحب موصوف کی معیت میں ان سے مل چکے تھے۔ میری البتہ ابھی تک ان سے ملاقات نہ ہوئی تھی۔
سفیر موصوف جناب لال شاہ بخاری صاحب سے ملاقات کرنے پر انہوں نے سفارت خانے کی طرف سے ایک چٹھی تو لکھ دی جس کے نتیجے میں مجھے ایک ماہ کا مزید ویزا مل گیا۔ مگر کہا کہ اگر میں سفارت خانے کی ملازمت اختیار کر لوں تو اس صورت میں مجھے ایک سال کا ویزا مل سکتا ہے ، مگر اس کے لئے مجھے باقاعدہ سفارت خانے میں آنا پڑے گا خواہ آدھے دن کے لئے ہی سہی ۔ یعنی ملازمت پورے وقت کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور آدھے وقت کے لئے بھی۔ پہلی صورت میں پور ی تنخواہ (جو بھی اس گریڈ کے ملازم کے لئے مقرر تھی) اور دوسری صورت میں آدھی تنخواہ ملے گی۔
یہ تجویز السید الحصنی صاحب کوتو بہت پسند آئی۔ مجھے البتہ اس میں کچھ انقباض محسوس ہوا۔ یعنی ایک واقف زندگی اور سفارت خانے میں ملازمت ۔ دوسری طرف یہ بھی ظاہر تھا کہ سفارت خانہ اس سے زیادہ کچھ کرنہیں سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے یہ سب کچھ وکالت تبشیر کو لکھ دیا اور ساتھ ہی اسی مضمون کی ایک چٹھی سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت اقدس میں بذریعہ تار بھجوا دی۔
اب تبشیر کی طرف سے تو مجھے یادنہیں کہ کوئی جواب آیا تھا یا نہیں مگر ایک ماہ کے اندر حضرت المصلح الموعودؓ کی طرف سے جواب آ گیاکہ اگر اس طرح پر ویزامل سکتا ہے تو ملازمت کر لیں۔چنانچہ میں نے نصف وقت کے لئے سفارت خانے میں ملازمت کر لی کیونکہ خیال کیا کہ اگر پورے وقت کی ملازمت ہوئی تو مجھے تمام دن سفارت خانے میں رہنا پڑے گا اور اس طرح میرے اصل کام میںحرج واقع ہوگا۔اب مجھے ایک سال کا ویزا فوراً مل گیا ۔چنانچہ میں صبح وقت پر ایمبیسی میں پہنچ جاتا، دوپہر تک وہاں کام کرتا۔ غالباً اخباروں کو ترتیب سے رکھنے یا اسی قسم کا کوئی کام تھا جو میرے سپرد کیا گیا اور باقی وقت لائبریریوں میں گھوم کر کتابیں پڑھنے میں گزارتا۔اس طرح پر جہاں اللہ تعالیٰ نے میرے ویزے کا مسئلہ حل فرما دیا،وہاں میرے لئے آمدنی کی بھی ایک صورت پیدا ہو گئی۔میرے ساتھ وہی ہوا جیسے پنجابی زبان میں کہتے ہیں،’’نالے حج تے نالے ونج‘‘۔’’ ونج‘‘کا مطلب ہے بنج بیوپار۔ مطلب یہ تھا کہ کام بھی ہو گیا اور اس کے ساتھ مالی فائدہ بھی پہنچ گیا۔
دمشق میں پہنچنے کے ایک ماہ بعد خاکسار کو ربوہ سے یہ خوشکن اطلاع ملی کہ ہمارے گھر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور فرد کا اضافہ ہو گیا ہے۔یعنی خاکسار کی اہلیہ نے ایک بچے کو جنم دیا ہے جس کا نام حضرت مولانا محمد ابراھیم صاحب بقاپوری کے پہلے سے تجویز کردہ نام کے مطابق زکریا اسمٰعیل رکھا گیا۔مکرم السید منیر الحصنی صاحب اور دوسرے شامی دوستوں نے یہ سن کر خاکسار کو خاص طور پر مبارکباددی تھی۔
دمشق میں قیام کا میرا مقررہ چھہ ماہ کا عرصہ ابھی ختم ہوا ہی چاہتا تھا کہ اسرائیل اور مصر کے مابین وہ خطرناک جنگ چھڑ گئی جس میں دو بڑے ملکوں یعنی فرانس اور انگلستان نے دل کھول کر حصہ لیا۔ یہ ثلاثی حملہ جو اسرائیل کی انگیخت پر نہر سویز کو مصر سے ہمیشہ کیلئے چھین لینے کی غرض سے کیا گیا تھا، عربوں اور اسرائیل کے مابین چپقلش کے نتیجہ میں ہونے والا پہلا منظم حملہ تھا جس میں سوویٹ یونیین کی مداخلت سے آخر یہ تینوں حملہ آور بری طرح پسپا ہوئے۔ چو نکہ اس جنگ کے نتیجہ میں شام پر بھی حملے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، اس لئے ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ رات دن سائرن بجنے لگے جن کامطلب یہ ہوتا کہ محفوظ مقامات پر چھپ جائو یا ہر قسم کی رو شنیاں گل کردو۔ دیگر اندرونی حفاظتی اقدامات کے علاوہ دمشق اور بیروت میں آنے یا باہر جانے والی تمام پروازیں بھی بند کر دی گئیں۔گویا میری دمشق سے غانا (اس وقت ابھی یہ گولڈ کوسٹ ہی کہلاتاتھا)کیلئے روانگی غیر معین عرصہ کیلئے ملتوی ہو گئی۔ آ خر نومبر کی کسی تاریخ کو اعلان ہوا کہ ہوائی راستہ کھل گیا ہے۔چنانچہ مکرم السید منیرالحصنیٰ صاحب کے مشورہ سے غانا جانے والی پہلی ہوائی پرواز پر میری سیٹ بک ہو گئی۔اور اس طرح میں دمشق کی جماعت سے رخصت ہو کرپرو گرام کے مطابق پہلے بذ ریعہ کار بیروت پہنچا۔ مکرم السیدمنیر الحصنی صاحب میرے ساتھ بیروت تک آئے جہاں ایک رات گذارنے کے بعد میں خاکسارفرانسیسی ہوائی کمپنی کے جہاز پر بن غازی(طو نس) سے ہوتا ہوا غانا کے دارالحکومت اکرا( Accra) پہنچ گیا۔پھرایک دن اکرا کے مشن ہاؤس میں ٹھہرنے کے بعد خاکسار اگلے دن بذریعہ بس سالٹ پانڈپہنچ گیا۔سالٹ پانڈاکرا ؔسے قریبا ڈیڑھ سو میل دَور ساحل سمندر پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو اس وقت جماعت کا مرکزی مشن تھا ۔
اَس وقت غانا مشن کے انچارج مکرم مو لانا نذیر احمد صاحب مبشر تھے جو اپنی بیوی اور دو بچوں نذیر احمد اور منیر احمد کے ساتھ مشن ہائوس میں رہ رہے تھے۔میرے یوں اچانک پہنچ جانے پر وہ بہت حیران ہوئے۔انہیں مرکز سے یہ اطلاع تومل چکی تھی کہ فلاں نام کے کوئی مبلغ سویڈرو عربی سکول کیلئے آنیوالے ہیں مگر انہیں مہینہ یا تاریخ کی بارے میں کوئی خبر نہ تھی۔ اوروہ اطلاع دینا تو بہر حال میری ذمہ داری تھی مگر کسی وجہ سے میں وہ اطلاع انہیںنہ دے سکا۔ بہر حال وہ خوش ہوئے کہ ان کا ایک دیرینہ اور بڑے اصرار کے ساتھ مرکز سے کیا ہوا مطالبہ پورا ہوا۔ میں نے اس اصرار کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جو کچھ بتایا ،اس کا خلاصہ یہ تھا کہ سویڈرو کی کی جماعت کے بعض افراد ایک عرصہ سے میرے پیچھے لگے ہوئے تھے کہ سویڈرو(Swedro) میں ایک عربی سکول کھولا جائے تا کہ ان کے بچے عربی پڑھ سکیں۔میں ان سے کہہ رہا تھا کہ صرف عربی پڑھ کروہ کیا کریں گے مگر وہ میری کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں تھے۔یہ چند لوگ ہیں جنہوں نے ساری جماعت کو اپنے پیچھے لگایا ہواہے۔ان کا یہ اصرار ایسی شدت اختیا ر کر گیا میں نے مرکز کو لکھ دیا کہ اگر وہ یہ سکول نہ کھولیں گے جس کے لئے ان کا مطا لبہ تھا کہ مرکز سے کوئی عربی پڑ ھانے والا ٹیچرمنگوا کر دیا جائے تو خطر ہ ہے کہ وہ جماعت سے ہی علیحدہ ہو جائیں۔ میرے مز ید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ سکول کیلئے انہوں نے زمین بھی دی ہے جہاں مرکز کے خرچ پر ایک عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔کچھ طلبہ بھی انہوں نے اکٹھے کر لئے ہیں۔فی لحال وہاں مسجد میں ہی سکول لگتا ہے۔اور مقامی جماعت کے ٹیچر ہی انہیں پڑھا تے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام انہوں نے جبر ئیل سعید بتایا اور دوسرے کا نام عبدو( پورا نام عبداللہ) بتایا۔اس دوسرے کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ وہاں ہی کسی عربی مدرسے کا پڑھا ہوا ہے اور سوائے کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی کے اسے کچھ نہیں آتا۔البتہ جبرئیل سعید عربی کے علاوہ انگریزی بھی جانتا ہے۔ اور یہ کہ وہ( جبرئیل سعید) ہمارا لوکل مبلغ تھا جسے اب نام نہاد عربی سکول میں لگا دیا گیاہے۔سکول کے بارے میں اس ابتدائی گفتگو کے بعد مولانا مبشر صاحب نے مجھے کھانے کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ میں نے تین دنوں سے کام کی کوئی چیز نہیں کھائی۔ چنانچہ انہوں نے گھر کا پکا ہواکھانا پیش کیا۔