میری جرمنی میں آمداور پہلی تعیناتی: میں اپنی جرمنی میں پہلی تعیناتی کے سلسلے میں ۲۰جون ۱۹۶۴ئ کو فرانکفورٹ پہنچا ۔ اس وقت جرمن مشن کا مرکزی دفتر ہیمبرگ میں تھا،جس کے انچارج چوہدری عبدالطیف صاحب تھے۔ فرانکفورٹ مسجد کے امام اندنوں مکرم چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ تھے۔ چنانچہ ایک رات ان کے پاس قیام کر نے کے بعد میں دوسرے دن ہمبرگ کے لئے روانہ ہو گیا۔
ہمبرگ کی مسجد جو حضرت المصلح الموعودؓ کے الہامی نام سے’’ فضل عمر مسجد ‘‘کہلاتی ہے، ۱۹۵۷ئ میں تعمیر ہوئی تھی۔ میرے پہنچنے سے پہلے اس کے ساتھ دو چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل ایک اور رہائشی حصہ کی تعمیر ہو چکی تھی، جو مکمل ہو کر میری پہلی رہائش گاہ بنی۔
چونکہ مجھے ابھی جرمن زبان نہیں آتی تھی، نہ اس وقت پاکستان میں جرمن سیکھنے کا کوئی انتظام تھا، لھٰذا میرے لئے سب سے اہم اور پہلا مسئلہ زبان سیکھنے کا تھا جس کے لئے پہلے دو ماہ ایک جرمن نو مسلم طالبعلم مسٹر بشیر بلو شر مجھے ہفتہ میں دو بار ایک ایک گھنٹہ کے لئے پڑھانے آتا رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس طرح تو میں دو سال میں بھی زبان نہیں سیکھ سکوں گا۔ چنانچہ میرے اصرار پر مبلغ انچارج صاحب نے مجھے ایک پرائیویٹ سکو ل میں داخلہ لینے کی اجازت دے دی۔ وہاں ہفتہ میں تین بار دو، دو گھنٹے کی کلاس ہوتی تھی۔ لیکن میں یہاں بھی کچھ زیادہ پیش رفت نہ کر سکا۔ کیونکہ اول تو ہفتہ میں کل چھ گھنٹے پڑھائی ویسے بھی میرے لئے ناکافی تھی۔ دوسرے ،کلاس کے طلبہ زیادہ تر لا پرواہ قسم کے غیر ملکی نوجوان تھے۔،جو پڑھائی سے زیادہ ہنسی مذاق میں وقت گذار تے۔ اس طور پر عملاً صرف ایک گھنٹہ ہی پڑھائی ہوتی اور وہ بھی اتنی کم رفتار سے کہ ایک ماہ کے بعد میں نے وہ سکول بھی چھوڑ دیا۔ اب میں کسی ایسے سکول کی تلاش میں تھا،جہاں کم از کم ۵۔۶ گھنٹہ روزانہ پڑھائی ہو۔ مجھے معلوم ہوا کہ ایسی کلاس صرف یونیورسٹی میں ہوتی ہے جہاں پہلے چھ ماہ میں اس قدر جرمن پڑھا د ی جاتی ہے کہ طالبعلم یونیورسٹی میں کلاس کے ساتھ چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر اس غرض کے لئے یونیورسٹی میں باقاعدہ داخلہ لینا ضروری تھا،جس کے لئے مرکز سے اجازت درکار تھی ۔ یہ اجازت حاصل کرنے میں کچھ وقت لگا ۔اور جب میں نے بالآخر یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ،تو اس وقت تک مجھے جرمنی آئے ہوئے قریباً چھ ماہ گذر چکے تھے۔ تاہم اب پڑھائی میرے حسب منشا ئ ہونے لگی۔ لیکن ابھی مجھے وہاں داخلہ لئے بمشکل ڈیڑھ ماہ ہی ہوا تھا کہ مرکز سے حکم ملا کہ فرانکفورٹ جا کر مشن کا چارج لے لوں۔
پڑھائی کے عرصہ کے دوران میری کوشش رہی کہ میں کوئی ابتدائی جرمن کتاب مثلاً بچوں کی کہانیوں کی کوئی کتاب پڑھ اور سمجھ لوں۔ ابتداً تو یہ حالت تھی کہ کتاب کہتی مجھے ہاتھ بھی نہ لگاؤ۔ ایک جملہ تک سمجھنا مشکل تھا۔ اور یہ کیفیت پہلے چار ماہ تک رہی۔ اس کے بعد میں ڈکشنری کی مدد سے ایک ایک جملہ سمجھنے لگا۔ اور بالآخر چھ ماہ کی رات دن کوشش کے بعد میں امریکن لائبریری سے لائی ہوئی ایک جرمن کتاب ’’کولمبس کا سفر امریکہ‘‘ پڑھنے اور ۷۵فی صد سمجھنے میں کامیاب ہو گیا۔ دوسری بار پڑھنے پر ۸۰ فی صد مضمون سمجھ لیا اور میں نے محسوس کیا کہ اب میرے لئے آگے بڑھنا آسان ہو گیا ہے۔
ابھی خاکسار یونیورسٹی کے انتظام کے تحت جرمن پڑھ ہی رہا تھا کہ مکرم چودھری عبدالطیف صاحب نے خاکسار کو بتایا کہ مرکز کی طرف سے خاکسار کی تعیناتی فرانکفورٹ میں بطور امام مسجد نورہو گئی ہے لھٰذا خاکسار فرانکفورٹ جانے کے لئے تیار ہو جائے۔
چنانچہ فروری ۱۹۶۵ئ کی کسی تاریخ کو خاکسار ہمبرگ سے فرانکفورٹ پہنچ گیا۔ مکرم برادرم محمود احمد صاحب چیمہ فرانکفورٹ جماعت کے تین چار دوستوں کے ہمراہ فرانکفورٹ کے بڑے ریلوے سٹیشن پر پہنچے ہوئے تھے۔ اور یوں میں مکرم چیمہ صاحب کے ساتھ مسجد نو ر فرانکفورٹ میں مقیم ہو گیا۔اَس وقت فرانکفورٹ کی جماعت دوجرمن ممبران(جن میں سے ایک محموداسمٰعیل زولش(Czölsch) کے نام کا ایک جرمن نوجوان تھا اور دوسری جمیلہ کوپ مین(Koopmann)نام کی ایک جرمن عورت تھی) کے علاوہ چار یا پانچ پاکستانی دوستوں پر مشتمل تھی۔یہ سب دوست پچھلے چند سالوں کے دوران کسی نہ کسی طرح جرمنی پہنچ کر اب کوئی نہ کوئی کام کررہے تھے۔
ایک امریکن چرچ میں خاکسار کی تقریر:فرانکفورٹ پہنچنے کے قریباً ایک ہفتہ بعد خاکسار کو فرانکفورٹ کے امریکن چرچ میں اسلام پر تقریر کرنے کا موقع ملا، جس کا انتظام مکرم چیمہ صاحب نے پہلے ہی کررکھا تھا۔ تقریر انگریزی میں تھی۔ میں نے اپنی تقریر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ آنحضرت ﷺ کے ظہور سے قبل کا اسلام، آنحضرت ﷺ کے ظہور کے بعد کا اسلام ،اور عصر حاضر کا اسلام۔ پہلے حصہ میں انبیائ سابقہ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ وہ اسلام ہی کی ابتدائی عمارت کی تعمیر کے لئے آتے رہے۔ انہوں نے خدا ئے واحد کی پرستش کی جو تعلیم دی ، وہ اسلام ہی کی تعلیم کا نقطہ مرکزی ہے اور اس خدائے واحد کی عبادت کرنے اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو اسلام ہی کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم اس دین کی تکمیل آنحضرت ﷺ کے وقت میں اور آپؐ ہی کے مقدس ہاتھوں سے ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے گذشتہ انبیائ کی تعلیمات کو ایک محل سے تشبیہ دی ہے ،جس میں چند اینٹوں کی کسر باقی رہ گئی تھی اور وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ساتھ پوری ہو گئی۔
دوسرے حصہ تقریر میں آنحضرت ﷺ کی آمد اور آپکے ذریعہ تکمیل دین اسلام پر روشنی ڈالتے ہوئے خالص اسلامی تعلیم کی بعض امتیازی خصوصیات کا تذکرہ کیا اور بتایا
کہ قرآنی بیان کے مطابق اب یہ وہ آخری تعلیم ہے ،جو ہر لحاظ سے مکمل اور ہر عیب سے پاک ہے اور انسان کی روحانی اوردینی اصلاح کا آخری ذریعہ ہے اور رہے گی۔
اسلام کے تیسرے دور کے سلسلے میں بتایا گیا کہ قرآن کریم ہی کی پیشگوئیوں اور آنحضرتﷺ کی بتائی ہوئی اخبار کے مطابق مسیحِ کی آمد ثانی کے رنگ میں مسیح محمدی کا ظہور ہو چکا ہے اور جماعت احمدیہ اسی مسیح موعود،حضرت مرزا غلا م احمد صاحب قادیانی ،کی قائم کردہ جماعت ہے، جو اس وقت دینا بھر میں اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے۔
اس تقریر کے بعد سوال و جواب کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں محسوس ہوتا تھا گویا ہر شخص ہی سوال کرنا چاہتا ہے۔ سوال ہوتے گئے اور خاکسار جواب دیتا چلا گیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے ہر جواب کے خاتمے پر حاضرین جو سب کے بعد عیسائی تھے ،اپنی معروف عادت کے مطابق تالیاں بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے۔ یہاں تک کہ پورے دو گھنٹے گذر گئے۔ آخری سوال چرچ کے امریکن پادری نے کیا، جو اس نے غالباً میری تقریر کے اثر کو زائل کرنے کی غرض سے یوں شروع کیا کہ میں سوال تو کرتا ہوں مگر مجھے یقین نہیں کہ آپ اس کا صحیح جواب دے سکیں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں عیسائی ہوں۔ ایک مذہب پر قائم ہوں اور خدائی کتاب یعنی کتاب مقدس پر یقین رکھتا ہوں۔ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میں اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کروں۔ میں نے سوال سن کر بلا توقف اپنا جواب یوں شروع کیا :’اس لئے کہ آپ ہی کی کتاب مقدس میں یسوع مسیح نے اپنے بعد ایک اور آنے والے کی خبر دی ہے، جسے اس نے’’ سچائی کی روح‘‘ ،اور’’دنیا کا سردار‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس ا ٓنے والے پیغمبر کا ظہورحضرت محمد ﷺ کے وجود میں ہو چکا ہے۔ اس اعتبار سے آپ لوگوں کا اسلام پر ایمان لانا گویا خود حضرت مسیح ِاور ان کی کتاب پر ایمان لانے کے مترادف ہے اور یہ کہ آپ سچے عیسائی بن نہیں سکتے جب تک آپ اسلام پر ایمان نہ لے آویں‘۔ میرے اس جواب پر تالیوں سے سارے چرچ کی عمارت گونج اٹھی اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس محفل کا اختتام بڑے اچھے رنگ میں ہوا۔
فرانکفورٹ میں آ چکنے کے بعد خاکسارنے اندازہ لگایا کہ جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے، کام ہم نے خود ہی تلاش کرنا ہے۔ اور خود ہی اسے عمل میں لانا ہے۔ چنانچہ برادرم چیمہ صاحب کے مشورے سے یہ طے کیا گیا کہ ایک سرکلر تیار کر کے فرانکفورٹ اور اس کے گردو نواح کے تمام سکولوں، کالجوں اور چرچ کی تنظیموں کو بھیجا جائے کہ ہم فلاں فلاں موضوع پر تقریر کرنے کے لئے آپ کے پاس آ سکتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ ہمیں آنے کی دعوت دے، تو ہم اپنے خرچ پر آئیں گے اور بلا معاوضہ تقریر کریں گے۔ ’’بلا معاوضہ‘‘ اس لئے لکھا کہ عموماً یہاں مقرر کو تقریر کرنے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی لکھا کہ اگر کوئی سکول یا ادارہ ہمارے پاس آ کر اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے، تو ہم بڑی خوشی سے ان کا استقبال کریں گے۔ اور موسم کے مطابق چائے یا مشروبات بھی پیش کریں گے۔ ۵۰۰ کی تعداد میں یہ سرکلر تیار کروانے پر ہمارے ۱۵۰ مارکس کے قریب خرچ آئے۔ اس کے بذریعہ ڈاک بھجوانے پر مزید ۲۵یا۳۰ مارکس مزید خرچ ہوئے۔ یہ خرچ ہمارے بجٹ کے مطابق تھا۔
اس سرکلر کا یہ اثر ہوا کہ سکولوں، کالجوں اور چرچوں کی طرف سے کثرت سے پیغامات آنے لگے کہ ہمارے پاس آ کر تقریر کر یں،یا یہ کہ ہماری فلاں کلاس کا گروپ فلاں تاریخ کو آپ کے پاس آئے گا۔ اس کے نتیجہ میں جہاں مسجد میں چہل پہل بڑھ گئی، وہاں ہماری مصروفیات میں معتد بہ اضافہ ہوگیا۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہمارے وقت کے صحیح مصرف کا ایک ذریعہ پیدا ہو گیا۔ مکرم چیمہ صاحب اس وقت تک واپس پاکستان جا چکے تھے۔ دوسری طرف مجھے جرمن زبان پر اس حد تک عبور حاصل ہو چکا تھا کہ میں اپنا ما فی الضمیر بخوبی ادا کر سکتا تھا یا لکھی ہوئی تقریر کو پڑھ سکتا اور حاضرین کے سوالوں کا جواب دے سکتا تھا۔ قریباً ہر ہفتہ یا ہر دوسرے ہفتہ کوئی نہ کوئی کلاس اپنے دینیات کے ٹیچر کے ساتھ مسجد میں آ جاتی۔ انہیں پہلے ارکان اسلام کے بارے میں ابتدائی معلومات بہم پہنچائی جاتیں،جس کے دوران اذان سنوائی جاتی، جو پہلے سے ٹیپ پر ریکارڈ شدہ تیار ہوتی تھی۔ اِدھر اذان بلند ہوتی، اَدھر میں اس کا ترجمہ بتاتا چلا جاتا۔ زبان کے الفاظ دہراتے ہوئے خانہ کعبہ کے گرد حجاج کے طواف کرتے ہوئے ہجوم کی ایک بڑی تصویر بھی دکھائی جاتی۔ پھر انہیں بتایا جاتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے۔ اور یہ کہ ان پیشگوئیوں کی تصدیق خود حضرت بانی اسلام حضرت محمد ﷺ نے بھی فرمائی ہے۔ وہ مسیح موعود آج سے قریباً اسُی(۸۰)برس پہلے پیدا ہوا اور اس وقت اسکے تیسرے خلیفہ اس کی قائم کردہ جماعت کے سر براہ ہیں۔ یہاں پہنچ کر طلبہ و طالبات یا جو بھی حاضرین ہوتے انہیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور خلفائ کی تصاویر دکھائی جاتیں۔ اور اس کے ساتھ جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کا ایک مختصر خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک دیواری نقشہ پر روشنی کے باریک قمقموں سے نشان شدہ مرکز دکھائے جاتے۔ یہ نقشہ ۸ فٹ لمبے اور ۴ فٹ چوڑے بورڈ کے اوپر کئی دن صرف کر کے تیار کیا گیا تھا اور اس پر دنیا میں اس وقت تک قائم شدہ مساجد اور تبلیغی مراکز کو روشنی کے چھوٹے چھوٹے قمقموں کے ذریعے روشن کیا گیا تھا۔ ایک بٹن دبانے سے سارے قمقمے روشن ہو کر ایک حسین منظر پیش کرتے تھے۔اسی بورڈ کی لمبائی کے برابر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اردو الہام ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ ، سبز حروف میں اور اس کے نیچے اس کا جرمن ترجمہ سنہری حروف میں لکھ کر آویزاں کیا گیا تھا۔ (یہ الہام خاکسار نے ربوہ سے ایک کاتب سے لکھوا کر اور پھر وہی الفاظ سبز چمکیلے کاغذ پر لکیر کر ایک شیشے کے لمبے بورڈ پر چسپاں کر کے تیار کیا تھا)۔ وہ دکھا کر بتایا جاتا کہ یہ سب کچھ خداتعالیٰ کی پہلے سے بتائی ہوئی خبر کے مطابق سر انجام پا رہا ہے۔
جماعت اور اس کی سرگرمیوں کا مختصر تعارف کرانے کے بعد حاضرین کو سوال کرنے کا موقع دیا جاتا۔ سوالات اور جوابات حاضرین کے مزاج اور ان کی علمی اور عقلی معیار کے مطابق ہوتے۔ مثلاً بچے اس قسم کے سوال کرتے کہ مسجد میں جاتے وقت جوتیوں کا اتارنا کیوں ضروری ہے۔ اذان عربی میں کیوں دی جاتی ہے۔ حج پر ایک غیر مسلم کیوں نہیں جا سکتا۔ ذرا بڑی عمر کے بچے سوال کرتے کہ اسلام میں مرد اور عورت میں مساوات کیوں نہیں۔ اسلام میں شراب پینا یا سؤر کھانا کیوں منع ہے، وغیرہ۔ بڑی عمر کے لوگ نماز، روزہ، زکوۃ اور حج کا فلسفہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے، یا یہ کہ اسلام میں دوسرے مذاہب کو برداشت کرنے کی کہاں تک گنجائش ہے۔ ان سوالوں کا جواب حسب ضرورت اور حسب توفیق دیا جاتا۔ یورپین لوگوں اور بالخصوص جرمنوں میں یہ خصوصیت ہے کہ مقرر کی تقریر انہیں پسند آئے یا نہ آئے،وہ مقرر کا شکریہ ضرور ادا کر تے ہیں۔ پھر سوال کا جواب ان کے نزدیک غلط ہو یا صحیح ،وہ جواب سن کر خاموش ہو جائیں گے۔ اور سوال پر سوال یا کج بحثی پر نہیں اتر یں گے۔ اس لئے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ میرے جوابات ہر لحاظ سے ان کیلئے تسلی ہوتے ،لیکن یہ ضرور دیکھا گیا کہ بعض مواقع پر اس قسم کی محفلوں میں ایک خاص رنگ پیدا ہو جاتا، جو جملہ حاضرین اور مقرر کو محظوظ کرتا۔
دس بارہ سال کے بچوں،بچیوں کی کلاس کی مسجد میں آمد: ایک بار سکول کے دس بارہ سال کے بچوں اور بچیوں کی ایک کلاس آئی۔ ان کے ساتھ ان کا پادری ٹیچر بھی تھا۔ ایک بچے نے سوال کیا کہ مسلمان سؤر کا گوشت کیوں نہیں کھاتے۔ میں نے جواب دیا کہ مسلمان تو اس لئے نہیں کھاتے کہ قرآن کریم میں اس کے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن آپ کو یہ سوال اپنے ٹیچر سے کرنا چاہیے کہ عیسائی لوگ سؤر کیوں کھاتے ہیں،جب کہ بائبل میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے۔ میرا یہ جواب دینا تھا کہ سارے کے سارے بچے اپنے پادری ٹیچر کا مونہہ دیکھنے لگے۔ اور وہ تھا کہ یوں خاموش کھڑا ریا جیسے اچانک کسی صدمے سے دوچار ہو گیا ہو۔ بچے تھوڑی دیر تک اس کا مونہہ تکنے کے بعد خاموش ہو گئے۔ اور سمجھ گئے کہ ان کے ٹیچر کے پاس اس جواب نہیں۔
ایک چرچ کے بڑی عمر کے لوگوں کی مسجد میں آمد:ایک اور موقع پر جب کہ ایک چرچ کی تنظیم کے بڑی عمر کے ممبران کی ایک پارٹی مسجد میں اپنے پادری کے ساتھ آئی۔ اور یہی سوال ان میں سے ایک آدمی نے ایک اورپیرائے میں اٹھایا، اور کہا کہ قرآن نے سؤر کو کیوں حرام قرار دیا ہے،تو میں نے اس موقع پر سوال کے مطابق جو جواب دیا،ا س نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی کہ ا ہل مجلس اس سے بہت ہی محظوظ ہوئے۔سائل کا سوال یہ تھا کہ قرآن کریم نے سؤر کو کیوں حرام قرار دیا ہے۔اس کے جواب میں میرے مونہہ سے بے ساختہ یہ جواب نکلا کہ سؤر کو قرآن نے تو حرام قرار نہیں دیا ،یہ تو بائبل نے حرام قرار دیا ہے، قرآن کریم نے تو بائبل کے اس حکم کی توثیق کی ہے۔ میرا یہ جواب دینا تھا کہ حاضرین مجلس جو سب کے سب ۴۰ سے ۵۰ سال کی عمر کے تھے، ان سب پرسناٹا چھا گیا اور وہ آگے سے کچھ بھی بول نہ پائے۔ تھوڑی دیر کے توقف کے بعد میں نے ہی اس خاموشی کو توڑا اور کہا کہ دیکھیں، دنیا کی دو بڑی مذہبی کتابوں نے سؤر کو حرام قرار دیا ہے۔ اس کی ضرور کوئی وجہ ہو گی۔پس ہمیں مل کر وہ وجہ تلاش کرنی چاہیئے۔ میرایہ جملہ حاضرین پر جو سب کے سب اچھے تعلیم یافتہ تھے، پہلے سے بھی زیادہ وزنی اور ٹھوس ثابت ہوا اور وہ ایک بار پھر خاموش ہو کر میری طرف بنظر استعجاب دیکھنے لگ گئے۔ ادھر میں خود بھی اس منظر سے محظوظ ہو رہا تھا۔ اس دوسری خاموشی کو بھی توڑتے ہوئے آخر میں ہی بولا اور کہا کہ جہاں تک ہمارا اہل اسلام کا تعلق ہے،تو ہم نے اس حرمت کا تجزیہ کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ خدا نے دنیا کے سارے جانور کھانے کے لئے پیدا نہیں کئے۔ کچھ کھانے کے لئے ہیں، جن کو جائز قرار دیا ہے اور کچھ کھانے کے لئے نہیں جن کا گوشت ناجائز قرار دیا ہے۔ سؤر کی خصوصی حرمت کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں یہ ایک ہی جانور ہے، جس میں کچھ ایسی عادات ہیں، جو اخلاقی نقطہ نگاہ سے معیوب سمجھی جاتی ہیں۔ اور چونکہ خوراک کا اثر انسان کے روحانیٰ قویٰ پر بھی پڑتا ہے ،سلئے سؤر کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، تا کہ وہ اخلاقی کمزوریاں انسان کے اندر نہ پیدا ہو جائیں۔ میرا یہ جواب سن کرحاضرین بھی بہت محظوظ ہوئے ،اور ان کے چہروں پر ایک خاموش مسکراہٹ پیدا ہوگئی۔ میں نے بھی اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اس بارہ کچھ اور کہنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔
جن سوالوں یا مسیحی اداروں نے مجھے ان کے پاس پہنچ کر اسلام کا تعارف کرانے کی دعوت دی ،ان میں سے قابل ذکر شہر Darmstadt کے مضافات میں واقع ایک قصبہ تھا جس کا نام اب یاد نہیں رہا۔ انہوں نے اگلے سال یعنی ۱۹۶۶ئ کا تفریحی پروگرام تیار کر تے ہوئے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے چار یا پانچ تقریریں اسلام کے اوپر رکھ کر سارے سال کا پروگرام چھاپ دیا۔ جس کی ایک کاپی مجھے بھجوا دی۔ اس طرح پر پورے سال کے لئے ہمارا تقریری پروگرام متعین ہو گیا۔ میں جماعت کے کسی نہ کسی دوست کو اپنے ساتھ لے جاتا۔،ہر تقریر کے بعد سلسلہ کا اس وقت تک شائع کردہ جرمن لٹریچر ،جس میں جرمن ترجمہ قرآن کریم سر فہرست تھا، قیمتاً مہیا کیا جاتا۔اور اس طرح تبلیغ اور جماعتی تعارف کا ایک عمدہ موقع پیدا ہو جاتا رہا۔
قصبہ اوفن برگ کے چرچ میں تقریر: اسی قسم کی ایک اور دلچسپ تقریب Offenburg میں بھی ہوئی۔ یہ شہر فرانکفرٹ سے قریباً دو صد کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ وہاں کے اینگلیکن چرچ (پراٹسٹنٹ مذہب) کے پادری نے ٹیلیفون پر ایک دن مقررکیا کہ میرے وہ آنے اور جانے کا کرایہ دینے کے لئے تیار ہیں،میں آؤں اور ان کے چر چ میں اسلام پر تقریر کروں۔ چنانچہ میں حسب معمول تیاری کر کے اور ضروری سازوسامان از قسم ٹیپ ریکارڈروغیرہ سے لیس ہو کر اوفن برگ پہنچا۔ پادری صاحب مجھے لینے کے لئے سٹیشن پر پہنچے ہوئے تھے۔ ہم وہاں سے سیدھے ان کے چرچ میں پہنچے، جہاں پہلے ہی دو ڈھائی صد کی تعداد میں ان کے چرچ کے ممبران ، کیا مرد ، کیا عورتیں، چرچ کے اندر جمع تھے۔
خاکسار کی تقریر سے قبل پادری صاحب موصوف نے خاکسار کا اور جس مذہب سے خاکسار تعلق رکھتا تھا، یعنی اسلام ، کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آج کے دن کو ہم نے ’’اسلام کا دن’’ قرار دیا ہے، اس کی مناسبت سے میں اس کی ابتدائ اسلام کی کتاب یعنی قرآن کریم سے کرتا ہوں۔ پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایک جرمن ترجمہ قرآن کے نسخہ سے اس نے سورۃ فاتحہ کا ترجمہ پڑھ کر سنایا۔
خاکسار نے پہلے پادری صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ پھر ارکان اسلام کا تعارف کرایا۔ ٹیپ ریکارڈر سے اذان سنوائی۔ جس کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بتاتا رہا ۔ اور پھر جماعت کی ابتدائ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کی خبر دیتے ہوئے اسے انجیل کی مسیح کی آمد ثانی سے متعلق پیشگوئیوں پر چسپاں کیا۔
خاکسار کو احساس ہے کہ ان لوگوں نے یقیناً پہلی بار ایک غیر عیسائی کی زبان سے مسیح کے ظہور ثانی کا یوں واشگاف الفاظ میں تذکرہ سنا ہوگا، کیونکہ انہیں میں سے ایک نوجوان نے اٹھ کر ایک ایسا غیر متوقع سوال کیا کہ خود مجھے بھی بہت حیرت ہوئی۔اس نے کہا : آپ کہتے ہیں کہ آپ کی جماعت کے بانی کے وجود میں حضرت مسیح کی آمد ثانی ہو چکی ہے اور وہ بھی آج سے ۸۰ سال پہلے ظاہر ہو کرفوت بھی ہو چکے ہیں ۔ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوا ہے اور ہمیں کانوں کان خبر نہیں۔ ہمیں تو بتلایا گیا ہے کہ جب مسیح آئیں گے تو دنیا میں شور مچ جائے گا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسیح آکر چلے بھی گئے ہوں اور ہمیں اس کی خبر تک نہ ہوئی ہو۔ یہ سوال گویا ان جملہ حاضرین کی ترجمانی تھی ،جو اس وقت چرچ میں میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ،کیونکہ وہ سارے کے سارے میری طرف بنظر استعجاب دیکھنے لگ گئے کہ میں کیا جواب دیتا ہوں۔
خاکسارنے اس کے جواب میں کہا ،معلوم ہوتا ہے آپ نے انجیل نہیں پڑھی۔ انجیل میں تو لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کہا ہے کہ میری دوبارہ آمد ایک چور کی مانند ہوگی ،کہ جیسے چور رات کو آتا ہے اور اپنا کام کر کے چلا جاتا ہے اور گھر والوں کو خبر تک نہیں ہو تی، اسی طرح میرا دوبارہ آنا ہوگا ۔ اور دوسرے اگرآپ نے پہلے یہ خبر نہیں سنی، تو میں آج جو آپ کو بتلا رہا ہوں۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ حاضرین عش عش کر اٹھے۔اور مجلس میں ایک بڑی خوشگوار فضا پیدا ہو گئی۔
یہ محفل بھی اتنی دلچسپ رہی کہ پورے تین گھنٹے جاری رہی۔ حاضرین میں اتنا جوش تھا کہ سوال پر سوال کر رہے تھے۔ آخر رات کے زیادہ گذر جانے پر پادری صاحب نے کہا کہ اب کوئی سوال نہیں ہو گا، یا یہ کہا کہ اب صرف ایک آخری سوال ہو گا۔ بہر حال مجلس تو برخاست ہو گئی، لیکن بعض لوگوں کا جوش دل ہی دل میں رہ گیا۔
چرچ سے فارغ ہو نے کے بعد پادری صاحب مجھے اپنے گھر لے گئے ۔ اپنے بیوی بچوں کا تعارف کرایا (انینگلیکن پادری بخلاف رومن کیتھولک پادریوں کے شادیاں کرتے ہیں )اور رات بھر اپنے پاس بطور مہمان رکھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے بھی ایک دو سوال کئے۔ اور کہا کہ چرچ میں میںنے عمداً کوئی سوال بوچھنا مناسب نہ سمجھا تاکہ دوسرے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے۔
یہ مارچ ۱۹۶۷ئ کی بات ہے ۔ میں نے پادری صاحب کو بتایا کہ ہمارے خلیفہ صاحب، جو جماعت کے سر براہ اور حضرت بانی سلسلہ ِکے تیسرے جانشین ہیں، عنقریب جرمنی ت شریف لا رہے ہیں ، میں آپ کو ابھی سے فرانکفرٹ آنے اور ان سے ملنے کی دعوت دیتا ہوں، جسے انہوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔
An Interesting Dialogue with the Christian Priests of the Yahowa Sect
یہووا فرقہ کے عیسائی پادریوں کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ
میرے پہلے دور تبلیغ کا ایک دلچسپ واقعہ یہوواہ عیسائی فرقہ کے منادوں کے ساتھ میری گفتگو ہے۔ قصبہ مارکٹ برائٹ(Marktbreit) سے ہماری ایک احمدی بہن مسز بدر النسائ صاحبہ، جو خواجہ مجید احمد صاحب (ابن خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم، سابق ایڈیٹر الفضل) کی بیگم تھیں، نے مجھے فون کیا کہ دو پادری ان کے گھر آتے ہیں اور بچوں سے عیسائیت کے بارے میں کچھ باتیں کرتے ہیں،اور کبھی کبھی ان کو کوئی چیز بھی دے جاتے ہیں۔ ان کے ابا عموماً گھر سے باہر ہوتے ہیں اور ہم ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ زبان کا بھی مسئلہ ہے۔ ہم کیا کریں۔ میں نے انہیں کہا، اب آ ئیں تو کہہ دیں کہ دیکھو ہمارے بھی ایک مذہبی نگران ہیں، جن کو ہم امام کہتے ہیں، وہ فرانکفورٹ میں رہتے ہیں۔ ہم ان کو بلا لیتے ہیں۔ آپ ان سے بات کر لیں۔ پھر وہ ہمیں سمجھا دیں گے۔ اور اس طرح ان سے ایک تاریخ طے کر کے مجھے اطلاع کر دیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ایک تاریخ اور دن مقرر ہو گیا۔ میں ضروری کتابیں وغیرہ لے کر مقررہ دن وہاں پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دو پادری صاحبان بھی آ گئے۔ علیک سلیک کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔ سب سے پہلے میں نے اَن سے پوچھا کہ آپ گذشتہ انبیائ کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہنے لگے ، وہ سچے تھے، راستباز تھے، خدا کا پیغام لے کر آئے اور لوگوں کو خدا کا راستہ دکھاتے رہے اور فوت ہو گئے۔ صرف یسوح مسیح ایسے ہیں،جو فوت نہیں ہوئے اور واقعہ صلیب کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے۔ میں نے کہا ، ان کے زندہ یا فوت ہونے کی بات تو میں بعد میں ہوگی، پہلے یہ بتائیں کہ ان سب انبیائ کی اخلاقی حالت کیسی تھی۔ کیا وہ ایسی تھی جو دنیا کے لئے قابل تقلید ہو، کہنے لگے، ہاں۔ میں نے کہا، اچھا، بائیبل کے فلاں باب میں فلاں صفحے پر حضرت داؤ د ِ کے بارے میں پڑھو، کیا لکھا ہے۔ ان پادریوں میں سے ایک پڑھنے لگا۔ وہاں لکھا تھاکہ داؤد ِ ایک عورت پر عاشق ہو گئے (نعوذ با للہ)۔ اس کے خاوند کو فوج میں بھیج کر کمانڈر کو حکم دیا کہ اسے سب سے اگلی صف میں رکھنا، تا کہ مارا جائے۔ جب وہ مارا گیا، تو اس کی بیوی سے شادی کر لی۔ میں نے کہا ، کیا آپ کے نزدیک یہی وہ اخلاق ہیں ،جو وہ سکھانے آئے تھے۔ اس پر وہ دونوں پادری چونک پڑے اور کہنے لگے۔ دراصل کوئی نبی بھی گناہ سے پاک نہیں تھا، سوائے یسوح مسیح کے۔ میں نے کہا، گناہ کرنا اور بات ہے اور کسی کی بیوی پر ہاتھ ڈالنا صرف گناہ ہی نہیں بلکہ بد ترین اخلاقی بدی ہے اور ایسی بدی کا ارتکاب کرنے والا عام انسانیت کے درجے سے بھی گرا ہوا ہے، کجا یہ کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے۔ اسی قسم کی چند اور باتیں بھی ہوئیں ،جن سے وہ بو کھلا اَٹھے اور کتابیں بستے میں ڈالنے لگے۔ میں نے کہا ، ابھی باتیں تو بہت سی ہیں لیکن صرف ایک بات اور پوچھنی چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور خدا کی ایک کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر میں عیسائی ہونا چاہوں، تو آپ مجھے اس کے بدلے کونسی کتاب دیں گے۔ وہ کہنے لگے :’’بائبل‘‘ ۔ میں نے کہا، وہی بائیبل نا، جس میں انبیائ پر اتنی خطرناک تہمتیں لگائی گئی ہیں۔ وہ پھر کچھ شرمندہ ہوئے۔ میں نے کہا، اچھا یہ بتاؤ۔ کونسی بائیبل دو گے۔ وہ بائیبل جو تمہارے ہاتھ میں ہے ، یا وہ جو میرے ہاتھ میںہے۔ کہنے لگے، بائیبل ایک ہی ہے۔ خواہ ہمارے پاس والی ہو یاکوئی اور ہو۔ میں نے کہا۔ اچھا اگر یہ بات ہے، تو اپنی بائیبل سے انجیل متی باب ۲۴ کی آیت ۷ پڑھو۔ وہ پڑھنے لگا :’’,جنگوں پر جنگیں ہوں گی۔ جگہ جگہ قحط پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے‘‘۔ یہ وہ علامتیں ہیں جو حضرت مسیحِ نے اپنی آمد ثانی کی بتائی ہیں۔ میں نے ادھر اپنی بائیبل کھولی ہوئی تھی اور جب وہ بھونچال کا لفظ پڑھ کر رک گیا اور اگلی آیت پڑھنے لگا ،تو میں نے کہا ، دیکھو تم ایک لفظ چھوڑ گئے ہو۔ اور وہ لفظ ہے: Pestilence(یعنی وبا)۔ وہ چونکا اور کہنے لگا۔ یہ لفظ تو میری بائیبل میں نہیں ہے۔ میں نے کہا۔ اسی لئے تو میں کہتا تھا کہ آپ کی بائیبل اور ہے اور میری اور ہے۔ میری بائیبل میں تو یہ لفظ لکھا ہوا ہے۔
اب وہ پادری لگا تاویلیں کرنے کہ دراصل یہ سب بائیبل کے تراجم ہیں۔ Pestilence یعنی وبا کا مفہوم چونکہ بھونچال کے مفہوم میں شامل ہے، کیونکہ وبا بھی ایک زلزلہ کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہے، اس لئے Pestilence یعنی وبا کا لفظ چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں نے کہا، پہلے تو یہ بتائیں کہ اصل بائیبل کہاں ہے۔ دوسرے اگر وبا کا مفہوم زلزلے یا بھونچال میں شامل ہے ،تو میرے بائیبل نویس نے کیوں اسے الگ لکھنا ضروری سمجھا۔ میرے پاس جو بائیبل تھی، وہ ۱۸۹۰ئ سے پہلے کی چھپی ہوئی تھی۔ بات یہ تھی کہ جب حضرت مسیح موعو د ِ نے اپنے آپ کو مسیح ِ کی بعثت ثانی کا مورد قرار دیا اور طاعون کو حضرت مسیح کی آمد ثانی کی بتائی ہوئی تین بڑی علامتو ںمیں سے اپنی صداقت کی شہادت کے طور پر پیش کیا اور حوالہ انجیل متی کا دیا، تو عیسائیوں سے اور تو کچھ بن نہ پڑا ، انہوں نے اس کے بعد چھپنے والی اناجیل کے نسخوں میں سے باب متی میں موجود ’’وبا‘‘ کا لفظ حذف کر دیا، لیکن لوقا کی انجیل میں ’’وبا‘‘ کا لفظ جوں کا توں رہنے دیا۔ میں اسے اسی قسم کے دلائل دے رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ اس کا دوسراساتھی جلد جلد ورق گردانی کر رہا ہے اور تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔ آپ لفظ Pestilence دیکھنا چاہتے ہیں،تویہ دیکھیں ! یہاں لکھا ہوا ہے۔اور مجھے انجیل لوقا کے باب ۲۱ کی آیت نمبر ۱۱ دکھائی۔ میں نے کہا، صاحب، میں لفظ Pestilence انجیل لوقا میں نہیں بلکہ انجیل متی میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہاں سے دکھائیں۔ دوسرے ،اس سے آپ کے ساتھی کی یہ دلیل غلط ہو گئی کہ Pestilence یعنی وبا کا مفہوم بھونچال کے مفہوم میں شامل ہے۔
بس میرا یہ کہنا تھا کہ دونوں پادری اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم نے کسی اور کو بھی وقت دیا ہوا ہے اور اب جانا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا، اچھا اپنا پتہ دے جائیں۔ باقی باتیں خط و کتابت کے ذریعے ہوں گی۔ کہنے لگے ہمارا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔اس پر میں نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ اچھا، کبھی فرانکفورٹ آنے کا اتفاق ہو، تو مجھے اس پتہ پر آکر ضرورملیں۔
اس گفتگو کے دوران بہن بدرالنسائ کے میاں برادرم مجیداحمد صاحب بھی آ چکے تھے۔ وہ بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے، اب یہ پادری دوبارہ نہیں آئیں گے اور فی الواقعہ وہ دوبارہ ان کے گھر نہیں آئے۔
فرانکفورٹ میں ہر سال اکتوبر کے مہینہ میں کتابوں کی عالمی نمائش منعقد ہوتی ہے ،جس میں دنیا کے اکثر ممالک کی بڑی بڑی کتابیں چھاپنے والی کمپتیاں اپنی کتب کی نمائش کرتی ہیں۔ عوام کو ان سے متعارف کرواتیں اور آرڈر بک کرتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ہماری اپنی کتب کے متعارف کرانے کا یہ ایک عمدہ ذریعہ ہے۔ چنانچہ ۱۹۶۶ئ میں جب اس عالمی میلہ کے اشتہارات آنے لگے، تو میں نے بھی اپنے اشاعتی ادارہ Verlag Der Islam کی طرف سے اس نمائش میں ایک سٹال لگانے کی درخواست دے دی- جس پر مشن کی اس وقت کی مالی حیثیت کے مطابق ہم نے سب سے کم قیمت والا سٹال کرائے پر لے لیا۔ ادھر مرکزی ادارہ اشاعت ’’آرپیکو‘‘ ربوہ، کا نام بھی شامل کر لیا گیا۔ اور اس طرح پر ہم اس شش روزہ نمائش میں اپنی کتب رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ ظاہر ہے سٹال کو خوبصورت اور دلکش بنانے کے لئے بہت کچھ تیاری بھی کرنی پڑی۔ یہ سب کچھ کیا گیا۔ پہلا تجربہ تھا، بہت کچھ نقائص رہ گئے۔ پھر دوسری کمپنیوں کے سٹال دیکھ کر مزید تجربات حاصل ہوئے۔ جن سے اگلے سال فائدہ اٹھایا گیا۔چنانچہ اگلا سال آنے پر تیاری کافی پہلے شروع کردی گئی اور سٹال پہلے سے بڑا حاصل کیا گیا۔ اس بار یعنی ۱۹۶۷ئ میں کولون (Köln میں قائم شدہ جرمنی کے نشریاتی ادارے Deutsche Welle, نے میرا اردو میں ایک انٹرویو لیا ،جسے دوسرے دن نشر کیا۔ ہم تو خیر وہ نہ سن سکے، مگر اسی سال جب مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ، امیر جماعت احمدیہ، قادیان، یورپ کے دورے پر فرانکفورٹ تشریف لائے، تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے قادیان میں وہ انٹرویو سنا اور بہت حظ اٹھایا۔ اس وقت سے اب تک غالباً ہر سال ہی ہمارا مشن اس عالمی نمائش میں شرکت کرتا ہے، جس سے کافی پبلسٹی ہو جاتی ہے۔ پہلے سال جب ہم نے سٹال لگایا تو میں نے دیکھا کہ علاوہ پرائیو یٹ اشاعتی اداروں کے بہت سے ممالک بھی اپنے ملکوں کی نمائندگی میں سٹال لگاتے ہیں۔ اور اس طرح پر اپنے اپنے ملک کی بڑی بڑی کمپنیوں کی شائع کردہ کتب کی تشہیر کرتے ہیں۔ ان ممالک میں مجھے عرب ممالک کے سٹال بھی نظر آئے، لیکن اسلام سے زیادہ اپنی ثقافت کی تشہیر کے لئے اور وہ بھی صرف عربی زبان میں۔ دوسری طرف مجھے مسیحی اشاعتی اداروں کے قطار در قطار سٹال نظر آئے۔ جہاں دنیا کی ہر بڑی زبان میں مسیحت پر کتب دستیاب تھیں۔ ان کے مقابلے میں ہمارا چھوٹا سا سٹال کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا۔ میں نے دل میں کہا کہ اگر اس وقت کسی اور دنیا کا کوئی انسان ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس نمائش گاہ میں اترے اور معلوم کرنا چاہے کہ ہماری دنیا میں کون کون سے مذہب پائے جاتے ہیں۔ تو سوائے مسیحیت کے اسے کوئی اور مذہب دکھائی نہ دے گا۔ سوائے اس کے کہ وہ بھولے سے ہمارے سٹال پر بھی آ جائے، تو سمجھے گا کہ ایک چھوٹا سا مذہب اسلام بھی اس زمین پر موجود ہے۔
خاکسار سمجھتا ہے کہ اگر اس موقع سے کما حقہى فائدہ اٹھایا جائے ،تو کتب کے ذریعے بھی دنیا میں اسلام اور احمدیت کی اچھی نمائندگی ہو سکتی ہے۔
The acceptance of Islam by an Italian friend, Dr. Muhammad Abdul Hadi Kiyosi Sahib:
ایک اطالوی دوست ڈاکٹر محمد عبد الہادی کیوسی صاحب کا قبول اسلام:
جس دن خاکسار جرمنی میں اپنی آمد پر فرانکفورٹ پہنچنے کے بعد ہمبرگ کے لئے روانہ ہوا تھا ، اس دن( گیسٹ بک میں موجود ریکارڈکے مطابق) شام کے وقت ایک اطالوی دوست مسجد میں تشریف لائے۔ مکرم محمود احمد صاحب چیمہ نے ان کا استقبال کیا۔ اور ان کے آنے پر جماعت کا مختصر تعارف کرایا۔ وہ غالباًچند منٹ ہی مسجد میں ٹھہرے ہو ں گے۔ جاتے ہوئے وہ ہمارے دارالتبلیغ کی گیسٹ بک پر اپنا نام و پتہ اور ایک جملہ اطالوی زبان میں لکھ گئے، جس کا مطلب تھا:’,آج میں نے اس مسجد کو دیکھا ہے‘۔
آپ اطالوی النسل تھے اور ریاضی میں پی، ایچ۔ ڈی(Ph. D.) تھے۔پیشہ کے طور پر آپ فرانکفورٹ کی ایک اطالوی انشورنس کمپنی میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر تھے۔آپ خاکسارکے جرمنی پہنچنے کے دوسرے دن نور مسجد فرانکفورٹ میں پہلی بار تشریف لائے۔اَس وقت خاکسار تو حسب پروگرام ہمبرگ کے لئے روانہ ہوا تھا ۔چنانچہ اَس وقت کے فرانکفرٹ مسجد کے امام ،مکرم محمود احمد صاحب چیمہ، نے ان کا استقبال کیا۔ آپ چند منٹ ہی مسجد میں ٹھہرے ہو ں گے۔ جاتے ہوئے آپ ہمارے دارالتبلیغ کی گیسٹ بک پر اپنا نام و پتہ درج کرنے کے علاوہ ایک جملہ اطالوی زبان میں لکھ گئے، جس کا مطلب تھا:’,آج میں نے اس مسجد کو دیکھا ہے‘۔
ان کا یہ تھوڑی دیر کے لئے مسجد میں آنا کس طور پر ان کی زندگی کی کایا پلٹ دینے کا موجب بن گیا، یہ ایک دلچسپ کہانی ہے ،جو آپ نے اپنی خود نوشست داستان سفر Dass Haus in Mekka میں تفصیل کے ساتھ درج فرمائی ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اس کے بعد مسجد میں آنے اور مکرم چیمہ صاحب سے عربی پڑھنے لگے ۔پھر خاکسار کے فروری ۱۹۶۵ئ میں فرانکفورٹ کی مسجد کے امام کے طور پر چارج لینے اور مکرم چیمہ صاحب کے پاکستان چلے جانے کے بعدآپ خاکسار سے عربی پڑھنے لگے۔خاکسار انہیں قاعدہ یسرناالقرآن پر عربی پڑھا رہا تھا۔چونکہ ان کا اصل مدعا عربی پڑھنے کا تھا ،اس لئے یسرنا القرآن پڑھانے کے دوران خاکسارنے ان کی خواہش پر عربی گرائمر کے اسباق بھی دینے شروع کر دئے ۔اسلام انہوں نے قبول نہیں کیا تھا،نہ قبول کرنے کی نیت سے وہ عربی زبان پڑھ رہے تھے۔
مکرم ڈاکٹر اطالو کیوسی صاحب (یہ ان کا نام تھا) باقاعدہ ہفتہ اور اتوارکے روزتشریف لاتے،مجھ سے یسرنا القرآن پڑھتے اور اس دوران ان سے کچھ غیر رسمی باتیں بھی ہو جاتیں مگر بس اتنا ہی۔ان کے قبول اسلام کے بارے میں نہ ہم نے ان سے کوئی گفتگو کی ،نہ انہوں نے اس بات کو کبھی چھیڑا۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ مسجد کے اس وقت کے معروف دستور کے مطابق ہم انہیں چائے کی ایک پیالی ضرور پیش کرتے، جسے وہ بخوشی قبول کرتے اور ہمیشہ ہی کہتے کہ آپ کی چائے بہت لذیذ ہوتی ہے۔ اس کا بدلہ اتارنے کے لئے انہوں نے بھی اپنا ایک دستور بنا لیا کہ مشروبات کا ایک کریٹ لاکر مسجد میں رکھ دیتے اور کہتے ، یہ آپ کی جماعت کے دوستوں کے لئے میری طرف سے ایک ادنیٰ سا نذرانہ ہے۔ جب سب بوتلیں خالی ہو جاتیں تو وہ کریٹ واپس لے جاتے اوراس کی جگہ ایک اور کریٹ آ جاتا۔ اس دستور میں انہوں نے کبھی ناغہ نہ کیا۔
چند مہینوں میں جب انہوں نے یسرنا القرآن ختم کر لیا،تو ان کی خواہش پر انہوں نے قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔ جونہی وہ قرآن کریم پڑھنے لگے تو فرمایا، مجھے ساتھ ساتھ معنی بھی بتاتے جائیں۔ اس طرح پر انہیں ناظرہ پڑھنے کی مشق کے علاوہ معانی پر بھی عبور حاصل ہوتا گیا۔ مشکل الفاظ کو وہ اپنی کاپی میں لکھ لیتے۔ میں لفظ کا مادہ بھی بتا دیتا اور یہ بھی کہ وہ لفظ اس مادے سے کیسے اور کس اصول پر بنا ہے۔ گویا میں عربی گرائمر کے قواعد سے بھی انہیں روشناس کراتا گیا،جس سے ان کی دلچسپی اور قرآن سے ان کی لگن میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔
کچھ سورتیں ترجمہ کے ساتھ پڑھ لینے کے بعد ڈاکٹر کیوسی صاحب ایک دن کہنے لگے کہ میں اب ترجمہ تو کسی حد تک خود ہی پڑھ سکتاہوں،کیونکہ کئی زبانوں میں ترجمہ والے قرآن کریم میرے پاس موجود ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کے معانی پر اچھی طرح عبور حاصل کرنے کے لئے میں اس کا کسی ایسی زبان میں ترجمہ کرنا شروع کردوں، جس میں پہلے ترجمہ نہ ہوا ہو۔ انہیں چھ زبانیں آتی تھیں۔ ان میں سے پانچ میں یا تو ہماری جماعت کی طرف سے تراجم چھپ چکے تھے یا ترجمہ تیار تھا۔ البتہ ایک زبان اسپرانٹو Esperanto ایسی تھی جو انہیں آتی تھی، مگر اس میں ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اسپرانٹو زبان میں قرآن کا ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم پڑھنے کی مشق بھی ہفتہ واری اسباق کی صورت میں جاری رکھی۔ اب معانی کے ساتھ میں نے انہیں کسی قدر تفسیر بھی بتانی شروع کر دی، تا کہ آیات کا مفہوم اچھی طرح ان پر واضح ہو جائے۔
قرآن کریم کا اسپرانٹو زبان میں ترجمہ کرتے وقت وہ ہمارے جرمن، انگریزی اور فرانسیسی زبان میں تراجم اور پانچ جلدوں والی انگریزی تفسیر کو سامنے رکھتے ۔ مجھے ہر ہفتہ آ کر بتاتے کہ اب میں نے اس قدر ترجمہ مکمل کر لیا ہے۔ ترجمہ بھی کرتے جاتے اور ساتھ اسے اسپرانٹو زبان میں ٹائپ بھی کرتے جاتے۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالثؒ کے پہلے دورۂ یورپ کے وقت تک (جس کا ذکر آگے آ رہا ہے ) وہ بیس پاروں تک ترجمہ مکمل کر چکے تھے۔ ترجمہ کے دوران ان پر اسلام کی حقیقت کس طور پر کھلی اور کس طرح انہوں نے دل ہی دل میں اسلام قبول کر کے نماز کی مشق بھی شروع کر دی، اسکی دلچسپ تفصیل انکی جرمن زبان میں تصنیف Haus in Mekka
میں چھپ چکی ہے اور طوالت کے خوف سے اسے یہاں درج نہیں کیا جا رہا۔(A)
پھر جس طریق پر انہوں نے شراب پینے سے کلیتہً کنارہ کشی اختیار کی، اس کا دلچسپ اور ایمان افروز تذکرہ بھی خاکسار نے اس کتاب کے اردو ترجمہ ’’میرا حج بیت اللہ‘‘ میں درج کر دیا ہے( B)۔ یہاں اس ضمن میں ان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کے خیالات کا تذکرہ کرنا قارئین کے لئے خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔اور وہ یوں ہے کہ جب ابھی آپ یسرناالقرآن ہی پڑھ رہے تھے، تو ۱۹۶۶ئ کا ماہ صیام آ گیا۔ مجھے ایک پاکستانی دوست ،مسٹرخورشید اکبر صاحب ،نے کہہ رکھا تھا کہ میں سارے روزے ان کے ہاں افطارکیا کروں۔ ان کا مکان اَس وقت مسجد سے قریب وینڈل چوک (Wendels Platz) پر واقع ایک عمارت کے اوپر تھا۔ ایک دن میں ان کی اجازت سے مکرم ڈاکٹر کیوسی صاحب کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ مکان میں داخل ہونے سے قبل وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ میرا تعارف ان سے (یعنی اکبر صاحب سے) کیسے کروائیں گے۔ میری زبان سے جلدی میں ایک ایسا جملہ نکل گیا، جس کی سنجیدگی کا میں اس وقت تو اندازہ نہ لگا سکا، البتہ بعد میں مکرم ڈاکٹر صاحب کے ہی خط سے اس کا احساس ہوا۔ میں نے کہا، میں کہوں گا، ’یہ ہمارے ایک بھائی ہیں‘۔ وہ یہ سن کر خاموش رہے۔
خورشید اکبر صاحب کی ڈاکٹر صاحب موصوف سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ دونوں نے مل کر خوشی کا اظہار کیا۔ پہلے افطاری ہوئی۔ پھر میں اور اکبر صاحب نے با جماعت نماز پڑھی (اکبر صاحب باوجود احمدی نہ ہونے کے میری اقتدا میں نماز پڑھ لیتے تھے)۔ اس کے بعد کھانا کھایا اور یوں یہ مختصر سی تقریب ختم ہوئی۔