خاکسار کا وطن مالوف بھیرہ ضلع شاہ پور۔حال ضلع سرگودھا،ہے۔اِس اعتبار سے خاکسارکو حضرت خلیفۃ المسیح الا ول رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبت وطنی کا شرف حاصل ہے۔ خاکسار کی پیدائش ۱۹۲۷ئ میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں اس زمانے میں ہوئی جب ہندوستان پر انگریزی حکومت برسر اقتدار تھی۔میٹرکولیشن کا امتحان خاکسار نے ۱۹۴۴ئ میں پاس کیا اور یونیورسٹی کے امتحان میں اپنے سکول میں اوُل آیا۔اسی سال قادیان دارالامان میں تعلیم الاسلام کالج کے کھل جانے پر خاکسارنے قادیان پہنچ کر فرسٹ ائر میں داخلہ لے لیا۔کالج کی اَس پہلی کلاس کے طلبہ کو جو رول نمبر الاٹ کئے گئے ،وہ یونیورسٹی میں حاصل کردہ نمبروں کے لحاظ سے تھے ،اور خاکسار کے اَس وقت تک کالج میں داخل ہونے والے طلبہ میں سے سب سے زیادہ نمبر ہونے کے لحاظ سے خاکسارکو رول نمبر One ملا۔اس اعتبار سے خاکسار کہہ سکتا ہے کہ خاکسار تعلیم الاسلام کالج کا سب سے پہلاطالب علم ہے۔ولا فخر!
۱۹۴۶، میں سائنس میں انٹرمیڈیئیٹ کرنے کے بعد خاکسار اپنے وطن بھیرہ آ گیا اور چونکہ والدین کی مالی حالت کے پیش نظر آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکتا تھا،اس لئے اس مختصر تعلیم پر اکتفا کرتے ہوئے ملازمت کی تلاش کرنے لگا۔اسی دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ایک خطبہ سننے میں آیا،جس میں حضور نے وقف زندگی پر خاص طور پر زور دیا تھا۔ بلکہ کچھ اِس قسم کے الفاظ فرمائے تھے کہ اِ سوقت سلسلہ کو بہت سے واقفین کی ضرورت ہے ،جو والدین اپنے بچوں کو وقف کیلئے پیش نہیں کرتے ،وہ خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہیں۔ خاکسار نے گھر آکر اپنی والدہ سے اس بارے میں مشورہ کیا۔والدہ صاحبہ نے بڑے انشراح صدر کے ساتھ مجھے زندگی وقف کرنے کی اجازت دے دی۔چنانچہ خاکسار نے اسی وقت ایک خط قادیان لکھ دیا اور اپنے تعلیمی کوائف بیان کرتے ہوئے حضورؓ کی اِس تحریک کے مطابق اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کر دیا۔چند دنوں کے بعد غالباً سیکرٹری تحریک جدید کی طرف سے خط آگیا کہ تمہار ا وقف منظور ہے اور تم فوراً قادیان پہنچ کر رپورٹ کرو۔
یہ وہ سال تھا،یعنی ۱۹۴۷ئ ،جس میں ہندوستان کو آزادی ملی اور اس کے نتیجہ میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ خاکسار اندازاً اپریل یا مئی میں قادیان پہنچا تھا۔تحریک جدید نے حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے خاکسار کے بارے میں ایم ۔ایس،سی(M.Sc.) کرنے کے بعد فضل عمر ریسرچ انسٹی چیوٹ میں لئے جانے کا فیصلہ کیا۔پہلا مرحلہ بی ۔ایس،سی پاس کرنے کا تھا۔ مگر ابھی کالج میں داخلے شروع نہیں ہوئے تھے کہ نقل آبادی کا وہ تکلیف دہ مرحلہ شروع ہو گیا،جس کے نتیجہ میں احمدیوں کو اپنا مقدس مرکز چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔پہلا عارضی مرکز لاہور تھا۔تعلیم الاسلام کالج کے لئے کوئی موزوں عمارت نہ ملنے پر پہلے چند ماہ کینال پارک ،لاہور،میں واقع ایک متروکہ عمارت میں کلاسیں شروع کر دی گئیں۔بعد میں لاہور کے وسط میں واقع ڈی۔اے،وی کالج کی متروکہ عمارت کالج کو مل گئی ۔ اَدھر ضلع جھنگ میں دریائے چناب کے اَ س پار ایک وسیع علاقہ خرید کر وہاں ’’ربوہ ‘‘ کے نام سے جماعت کے مستقل مرکز کی بنیاد رکھ دی گئی ۔چنانچہ دو سال کے اندر اندر جماعت کا مرکز اپنے اس نئے مقام پر منتقل ہو گیا ۔تاہم تعلیم الاسلام کالج کچھ مزید عرصہ کیلئے لاہور ہی میں رہا۔خاکسار نے بی۔ایس،سی یہیں سے کی۔ نتیجہ نکلنے پر جب خاکسارنے ربوہ پہنچ کر رپورٹ کی،تو حضور کی طرف سے مجھے جامعۃ المبشرین میں داخل ہونے کا ارشاد ملا۔یہ وہ جماعتی ادارہ ہے جس میں سلسلہ کے مبلغ تیار ہوتے ہیں ۔ میری لائن کی تبدیلی کی کیا وجہ ہوئی،اس بارے میں خاکسار کو کچھ علم نہیں۔
۱۹۵۶، میں جامعہ کا آخری امتحان پاس کرنے کے ساتھ ہی میری عملی زندگی کا آغاز ہو گیا۔یعنی مجھے وکالت تبشیر کی طرف سے ارشاد موصول ہوا کہ میری تعیناتی مغربی افریقہ کے ملک گولڈکوسٹ(موجود ہ نام’’ غانا‘‘) میں سویڈرؔو میں ایک احمدیہ عربی سکول میں بطو ر پرنسیپل ہو گئی ہے۔ تاہم غاناؔ جانے سے پہلے مجھے کچھ عرصہ کے لئے دمشق(ملک شام) میں ٹھہر کر اپنی عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کا ارشاد ہوا ۔چنانچہ فروری ۱۹۵۶ئ کی کسی تاریخ کو میں اپنی بیوی اور چار سالہ بچی،حفصہ،کو ربوہ چھوڑ کرپہلے کراچی پہنچا۔پھر وہاں سے بذریعہ بحری جہاز بصرہ ، اور پھر بغداد سے ہوتا ہوا دمشق پہنچ گیا۔
دمشق میں عرب احمدیوں پر مشتمل ایک مختصر مگر فعال جماعت موجود ہے۔ان کے امیر،السید منیر الحصنی صاحب، مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔خاکسار نے انہیں اَس وقت سے دیکھا ہوا تھا ،جب وہ پارٹیشن سے قبل کچھ عرصہ قادیان آ کر رہے تھے اور خاکسار اس وقت تعلیم الاسلام کالج میں تعلیم پارہا تھا۔ انہیں مرکز سے میرے بارے میں اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی۔چنانچہ انہوں نے جماعت کے دوستوں سے میرا تعارف کرایا اور میرے آنے کا مدعا بیان کیا۔میری رہائش انہی کے آبائی مکانات،’’ زاویۃ الحصنی‘‘،شاغور، میں ہوئی۔خود السید منیر الحصنی صاحب بھی زاویۃ الحصنی کے ہی ایک حصہ میں رہتے تھے۔
میرے دمشق پہنچتے ہی السید الحصنی صاحب نے دریافت فرمایا کہ آیا میں ویزا لے کر آیا ہوں یا نہیں۔ میرے کہنے پر کہ مجھے تو یہی کہا گیا تھا کہ ویزا یہاں سے لے کر جانے کی ضرورت نہیں، السید الحصنی صاحب خود ہی وہاں انتظام کر لیں گے، وہ بہت خفا ہوئے اور کہنے لگے کہ یہاں سے رہائشی ویزا ملنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور ممکن ہے حکومت انکار کر دے ۔ بات یہ تھی کہ ایران، عراق، شام ، لبنان وغیرہ کے اَس وقت کے قوانین کے مطابق ایک پاکستانی کے لئے ملک میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ بارڈر پر داخل ہونے کا سفری ویزا (tourist visa)لگا دیا جاتا تھاجس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ملک میں داخل ہونے والااگلے ۲۴ یا ۴۸ گھنٹوں کے اندر اندر اگلی سرحد پار کر جائے۔ ملک میںٹھہرنے کے لئے البتہ باقاعدہ ویزے کی ضرورت تھی، جو حسب قواعد ملک کا سفارت خانہ جاری کرتا تھا۔ اب سفری ویزے کو قیام کے ویزے میں تبدیل کرانا اگر ناممکن نہ تھا، تو مشکل ضرور تھا۔اور واقعی یہ مشکل اب مجسم صورت میں میرے سامنے آ گئی۔ چنانچہ جب دو دن بعد میں اپنے ویزے کی توسیع کیلئے وہاں کے امیگریشن کے دفتر میں پہنچا ،تو انہوں نے مجھے صرف دو ہفتے کا ویزا دیا۔اب یہ دو ہفتے تو دیکھتے ہی دیکھتے گذر گئے اور پھر وہی مشکل سامنے آ گئی ۔ اب کی بار مجھے دو ہفتے کا مزید ویزا مل گیا۔ لیکن ساتھ کہہ دیا گیا کہ اب اس میں مزید توسیع نہ ہوگی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ربوہ سے روانگی سے قبل خاکسار کی جو حضرت مصلح موعودؓ سے دفتری ملاقات ہوئی جس میں دفتر کے آدمی نے حضورؓ کو بتایا کہ مجھے عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کی غرض سے پہلے چند ماہ کیلئے دمشق بھجوایا جا رہا ہے،تو حضورؓ نے زبان سیکھنے کے بارے میں جو مختلف نصائح فرمائیں،ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں وہاں جاکر کثرت سے قصوں اور کہانیوں کی کتابیں پڑھوں۔چنانچہ ویزا کی ان مشکلات کے باوجود میری عربی زبان پر علمی عبور حاصل کرنے کی کوشش جاری رہی۔ مجھے زاویۃ الحصنی میں موجود ذخیرہ کتب میں سے بعض ایسی چھوٹی چھوٹی کتابیں مل گئیں جو قصہ اور کہانی کے رنگ میں تھیں۔ وہ ایک ایک کر کے میں نے سب پڑھ ڈالیں۔ اس کے علاوہ میں نے شہر کی لائبریری میں جا کر وہاں سے بھی چھوٹی موٹی قصوں اور کہانیوں کی کتب لا کر پڑھنی شروع کر دیں۔ اسی طرح دمشق کی امریکی لائبریری کی بھی ممبر شپ اختیار کرلی۔ اس طرح سے ناول اور اقاصیص کی طرز کی بہت سی کتب تک میری رسائی ہو گئی۔ کتب کے ساتھ ساتھ میں عربی اخبارات کا بھی مطالعہ کرنے لگا۔ کتب اور اخبارات کے مطالعہ کے سلسلے میں میں نے حضرت المصلح موعودؓ کے بتائے ہوئے طریق کو ہمیشہ مد نظر رکھا اور اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔
انہی دنوں میں جب کہ میں ایک رات زاویۃالحصنی کے لائبریری ہال میں سو یا ہوا تھا،تو میری زبان پر بڑی قوت اور صفائی کے ساتھ مندرجہ ذیل فقرہ جاری ہوا:
’’آپ کتابیں پڑھئے اور باقی معاملے مجھ پر چھوڑدیجئے‘‘
اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ میں ابھی تک ان الفاظ کی شیرینی اور لذت اپنے اندرمحسوس کر رہا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ یہ الفاظ پھر زبان پر جاری ہوجائیں۔ ان الفاظ کا اس طرح زبان پر جاری ہونا میرا پہلا روحانی تجربہ تھا جس سے الہام کی وہ کیفیت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بیان فرمائی ہے ،واضح طور پر سامنے آ گئی کہ یہ ایک نہایت لذیذ اور شیریں کلام ہوتا ہے جو سوتے ہوئے انسان کی زبان پر جاری ہوجاتا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔اب جب میں تھوڑا سا سنبھلا اور غور کرنے لگا کہ یہ کیا الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے ہیں،تومیں نے محسوس کیا کہ یہ تو مجھ حقیر پرتقصیر کو اپنے خدا کی طرف سے تسلی دی گئی ہے کہ میں اپنا کام جس کے لئے میں آیا ہوں، یعنی کتابیں پڑھنا ،جاری رکھوں،اور ویزے کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دوں۔اب میں انتظار کرنے لگا کہ یہ خدائی بشارت کیسے اور کس رنگ میں پوری ہوتی ہے۔
اِدھر دو ہفتوں کا ویزا پھر ختم ہونے کو آ رہا تھا۔اچانک مکرم السیدالحصنی صاحب کے ذہن میں ایک تجویز آئی کہ دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کی معرفت میرے ویزا کے حصول کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ وہ فون پر وقت لے کر مجھے سفیر پاکستان ، جناب لال شاہ بخاری صاحب، کے پاس لے گئے ۔ السید لال شاہ بخاری مکرم چوہدری محمد ظفراللہ صاحبؓ کے مداحوں میں سے تھے اور ایک لمبے عرصہ سے شام میں پاکستان کے سفیر چلے آ رہے تھے۔السید الحصنی صاحب اِس سے قبل کئی بار مکرم چوہدری صاحب موصوف کی معیت میں ان سے مل بھی چکے تھے۔سفیر موصوف سے ملاقات کی تفصیل تو میرے ذہن سے محو ہو چکی ہے، البتہ اس ملاقات کے نتیجے میں مجھے ایک ماہ کا مزید ویزا مل گیا۔ ہو سکتا ہے سفارت خانے نے کوئی سفارشی رقعہ یا چٹھی لکھ کردی ہو یا فون پر کہہ دیا ہو۔ اس بارے میں کچھ یاد نہیں۔ آئندہ کے لئے انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر میں سفارت خانے کی ملازمت اختیار کر لوں، تو میرے ویزے کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔تاہم اس صورت میں بہر حال مجھے سفارت خانے میں ملازمت کرنی ہوگی، خواہ آدھے دن کے لئے ہی سہی۔ یعنی ملازمت پورے وقت کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور آدھے وقت کے لئے بھی۔ اور اس کے ساتھ مجھے تنخواہ بھی ملے گی۔
یہ تجویز السید الحصنی صاحب کو تو بہت پسند آگئی۔مگر مجھے اس میں کچھ انقباض محسوس ہوا۔ یعنی ایک واقف زندگی اور سفارت خانے کی ملازمت؟ ۔ دوسری طرف یہ بھی ظاہر تھا کہ سفارت خانہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتاتھا۔ چنانچہ میں نے یہ سب کچھ ربوہ وکالت تبشیر کو لکھ دیا۔ اور ساتھ ہی ایک چٹھی حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانی و المصلح موعودؓکی خدمت اقدس میں ارسال کردی۔
تبشیر کی طرف سے تو مجھے یاد نہیں کہ جواب آیا تھا یا نہیں، مگر ایک ماہ کے اندر اندر حضرت المصلح الموعودؓ کی طرف سے جواب موصول ہوا۔ حضورؓ نے فرمایا تھا کہ اگر اس طرح سے رہنے کی اجازت مل سکتی ہے ،تو کر لیں۔ گویا حضور اقدس کی طرف سے سفارت خانے میں ملازمت کی اجازت مل گئی۔چنانچہ ملازمت کی کاروائی مکمل ہونے کے ساتھ ویزے کا مسئلہ حل ہو گیا۔اب میں نصف دن سفارت خانے میں جا کر کام کرتا اور باقی کا وقت کتب اور اخبارات کے مطالعہ میں گزارتا ۔ ویزا غالباً ایک سال کا ملا ۔
یہاں میں اپنی بیوی اور بچی کا بھی ذکر کرتا چلوںجنہیں میں اللہ کے آسرے پر بالکل ایک قسم کے ویرانے میں چھوڑ آیا تھا۔محلہ دارالبرکات ،جہاں میری رہائش تھی،ابھی پوری طرح آباد نہ ہوا تھا۔صرف چند ایک مکانات تعمیر ہوئے تھے ۔باقی سارے کا سارا محلہ ویران پڑا تھا۔جیسا کہ میری بیوی نے بعد میں مجھے بتایا، مجھے کراچی جانے والی چناب ایکسپریس پر احباب جماعت کی معیت میں رخصت کرنے کے بعد جب وہ اکیلی گھر پر آئیں،تو چپ چاپ آکر لیٹ گئیں۔بچی بھی حیران تھی کہ کیا بات ہو گئی ہے۔اسے یہ تو احساس تک نہ تھا کہ ابا تین چارسالوں سے پہلے اب واپس نہ آئیں گے ۔ وہ جو میرے جامعہ جانے پر میرے ساتھ دوڑ پڑتی تھی،ماں کو چپ چاپ دیکھ کر سہم گئی ۔ شام ہوئی ،تو ماں سے کہنے لگی،امی چلیں ،سٹیشن پر جائیں اور ابا کو لے آئیں۔اسے یہی خیال تھا کہ ابا لائلپور یا سرگودھا گئے ہیں اور شام کو آ جائیں گے۔ خیر جلد ہی اللہ تعالیٰ نے دونوں ماں بیٹی کیلئے ایک رونق پیدا کر دی۔ اور وہ یہ کہ میرے روانہ ہونے پر ایک ماہ ہی گذرا تھا کہ میرے بیٹے زکریانے جنم لیا۔مجھے اپنے بیٹے کی پیدائش کی اطلاع دمشق میں پہنچی تو السیدالحصنی صاحب اور دیگر عرب دوست مبارک باد دینے لگے۔
دمشق کے قیام کا کچھ حال؟؟؟؟؟؟
غانا میں قیام کے واقعات؟؟؟؟؟
جب چار سال غانا میں گزارنے کے بعد خاکسار واپس گھر پہنچا ۔ تو میری بچی حفصہ آٹھ سال کی اور میرا بچہ زکریا چار سال کا ہو چکا تھا۔ میری عدم موجودگی میں میرے ابا جان ،ماسٹر اما م علی صاحب،جو اب محکمہ تعلیم سے ریٹائر ہونے کے بعدربوہ میں ہی آکر آباد ہو گئے تھے ، گھر میں آتے اور میری بیوی کو تسلیا ںدیتے۔فرماتے،صدیقہ! اب فضل الٰہی کے آنے میں دوسال رہ گئے ہیں،اب ایک سال رہ گیا ہے۔اَس وقت عام قاعدہ کے مطابق بیوی بچوں کے بغیر جانے والا مبلغ تین یا زیادہ سے زیادہ چار سال کے بعد واپس بلا لیا جاتا تھا۔میرے بچے زکریا کو اپنے دادا جان کے ساتھ بہت پیار ہو گیا تھا۔چنانچہ میری اہلیہ بتاتی ہیں کہ جب ابا جان ہمارے گھر آتے،تو زکریا ان کے لئے خاص طور پیڑھی اٹھا کر لے آتا۔ ابا جان بھی اسے بڑے پیار کی نظروں سے دیکھتے اور پھر اس کا دل بہلانے کیلئے کہتے کہ زکریا!جب تمہارے اب آئیں گے ،توتم مجھے بھول جاؤگے۔اس سے میرے بچے زکریا کے دل میں یہ احساس بڑی شد ت سے بیٹھ گیا کہ ابا کوئی بہت ہی پیاری چیز ہوتا ہے کہ ان کے آنے سے میں اپنے دادا جان کو جو مجھے اس قدر پیار کرتے ہیں، بھول جاؤں گا۔اس احساس کا عملی اظہار میں نے اپنے واپس پہنچنے کے بعد خود بھی ملاحظہ کیا۔اور وہ اس طرح پرکہ میرا بچہ میرے آنے کے ساتھ ہی مجھ سے غیرمعمولی طور پر مانو س ہو گیا۔اور اگرچہ وہ اپنے دادا جان کو اب تک بھی جبکہ انہیں وفات پائے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے،نہیں بھولا ،میرے ساتھ اس کا انس اسی طرح جاری ہے۔اب جبکہ اس کی شادی ہو چکی ہے اور وہ چار بچوں کا باپ بن چکا ہے،اس کی میرے ساتھ محبت میں کوئی فرق نہیں آیا۔اللہ تعالیٰ اسے صحت وسلامتی کے ساتھ اپنے گھر میں خوش و خرم رکھے۔
مرکز میں واپسی پر میری تعیناتی بطور استاذ الجامعہ اسی ادارہ میں ہو گئی جہاں مبلغ کا کورس کرنے کے بعد خاکسار بیرون ملک بھجوایا گیا تھا۔یہ چار سال کیسے گزرے،یہ میری زندگی کاوہ عرصہ ہے جس کی حسین یادیں میری زندگی کے بہترین سرمایہ کے طور پر مجھے ہمیشہ یاد رہیں گی۔مگر ان پر کسی اور نشست میں خامہ فرسائی کی جائے گی۔
یہ چار سال جامعہ احمدیہ (جامعۃا لمبشرین کا دوسرا نام) میں بطور مدرس کام کرنے کے بعدمیری دوسری تعیناتی جرمنی میں بطور مبلغ اسلام ہوئی۔چنانچہ جون ۱۹۶۴ئ کی کسی تاریخ کو ربوہ سے روانہ کر پہلے میں اپنی بیوی اور دونوں بچوں کو لے کر لاہور پہنچا۔ابا جان بھی ساتھ تھے تاکہ میرے کراچی روانہ ہونے پر وہ میرے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ ربوہ واپس لے آئیں۔اِس بار جو منظر لاہور ریلوے سٹیشن پر پیدا ہوا،وہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔بچے ریلوے سٹیشن تک تو ہنسی خوشی ساتھ آ گئے۔جب میں گاڑی کے اندر بیٹھ گیا،تو بچے حیران ہوئے کہ ابا جان ہمیں تو ساتھ نہیں لے جا رہے۔بچی حفصہ تو کسی قدر صورت حال کو سمجھ رہی تھی،مگر میرے بچے زکریا کی حالت غیر ہو گئی ۔وہ رویا تو نہیں مگر جونہی گاڑی نے حرکت کرنی شروع کی، وہ بے اختیاری کی حالت میں گاڑی کے ساتھ دوڑ پڑا۔میں کھڑکی میں سے اسے دیکھ رہا تھا۔آخر کب تک وہ دوڑتا چلا جاتا۔جب گاڑی تیز ہو گئی تو اس کے صبر کے سارے بند کھل گئے اور اس نے زارو و قطار رونا شروع کر دیا۔میری بیوی بتاتی ہیں کہ ابا جان اور میری ہر قسم کی تسلی دلانے اورٹافیاں،مچھیاں اور بسکٹ لے دینے کے باوجود بچے کو قرار نہ آیا۔ اور پھر ربوہ واپس پہنچنے تک بچے کی یہی حالت رہی۔خود میری بیوی اور ابا جان کی کیا حالت تھی،یہ خدا ہی جانتا ہے۔
گاڑی پر لاہور کا منظر غائب ہونے کے ساتھ ہی میں بچے کی حالت کاتصورکرکے خود بھی دل گرفتہ ہو گیا۔یہ صبر آزما کیفیت کراچی پہنچنے تک دل و دماغ پر مسلط پر رہی۔ بعد میں بھی جب یہ منظر سامنے آتا،میری حالت غیر ہو جاتی۔ تاہم دن ،ہفتے اور مہینے گزرنے کے ساتھ دل کو کسی قدر قرار آہی گیا۔
جرمنی میں میری پہلی منزل مسجد نور فرانکفورٹ تھی۔میں۰ ۲یا ۲۱جون ۱۹۶۴ئ کو یہاں پہنچا۔فرانکفورٹ میں مسجد نور کے امام اَ س وقت مکرم چودھری محمود احمد صاحب چیمہ تھے۔ان کے پاس ایک دو راتیں گزارنے کے بعد میں اپنی اگلی منزل یعنی ہمبرگ کیلئے روانہ ہو گیا۔ہمبرگ میں تعمیر ہونے والی مسجد فضل عمر وہ پہلی مسجد ہے ،جو جرمنی میں ۱۹۵۷، میں تعمیر ہوئی تھی۔وہاں اَس وقت کے مبلغ انچارج ،مولوی عبدالطیف صاحب، مع اہلخانہ رہ رہے تھے .....؟؟؟؟
ہمبرگ میں سات ماہ رہنے اور جرمن زبان سیکھنے کے بعد خاکسار کی تبدیلی فرانکفورٹ میں ہو گئی۔یہاں میری عملی تبلیغی ز ندگی کاآغاز ہوا۔اس سلسلہ میں پہلی تقریب جس کا انتظام مکرم چیمہ صاحب نے پہلے ہی کِیا ہوا تھا ، میرے پہنچنے پر انہوں نے میرے سپردکر دی۔....(فرانکفورٹ کے امریکن چرچ میں میری تقریر)......؟؟؟
Dr. Muhammad Abdul Hadi Kiyosi Sahib's Acceptance of Islam
ڈاکٹر محمد عبد الہادی کیوسی صاحب کا قبول اسلام
جس دن خاکسار جرمنی میں اپنی آمد پر فرانکفورٹ پہنچنے کے بعد ہمبرگ کے لئے روانہ ہوا ، اس دن( گیسٹ بک میں موجود ریکارڈکے مطابق) شام کے وقت ایک اطالوی دوست ،ڈاکٹر اطالو کیوسی ،مسجد میں تشریف لائے۔ مکرم محمود احمد صاحب چیمہ نے ان کا استقبال کیا۔ اور ان کے اندر تشریف لانے پر انہیںجماعت کا مختصر تعارف کرایا۔ وہ غالباًچند منٹ ہی مسجد میں ٹھہرے ہو ں گے۔ جاتے ہوئے وہ ہمارے دارالتبلیغ کی گیسٹ بک پر اپنا نام و پتہ اور مندرجہ ذیل جملہ اطالوی زبان میں لکھ کر چلے گئے :
’آج میں نے اس مسجد کو دیکھا ہے‘
ان کا یہ تھوڑی دیر کے لئے مسجد میں آنا کس طور پر ان کی زندگی کی کایا پلٹنے کا موجب ہوا، یہ ایک دلچسپ قصہ ہے۔ میرے فروری ۱۹۶۵ئ میں فرانکفورٹ کی مسجد کے امام کے طور پر چارج لینے کے تھوڑے عرصہ بعد مکرم چیمہ صاحب تو پاکستان چلے گئے اور چلنے سے پہلے مجھے انہی اطالوی دوست سے متعارف کرا گئے کہ یہ دوست ہفتہ میں ایک بار مسج د میںآ کر یسرنا القرآن پڑھتے ہیں، انہیں عربی پڑھنے اور سیکھنے کا شوق ہے۔ میں نے کہا، کیا مسلمان ہو چکے ہیں؟انہوں نے کہا، نہیں۔ ویسے ہی وہ چاہتے ہیں کہ عربی زبان سیکھ لیں۔یہ بھی بتایا کہ چونکہ میرے پاس عربی کی کوئی کتاب نہیں تھی، میں نے انہیںیسرنا القرآن پڑھانا شروع کر دیا ہے۔
مکرم چیمہ صاحب کے پاکستان تشریف لے جانے کے بعد مکرم ڈاکٹر اطالو کیوسی صاحب (یہ ان کا نام تھا) باقاعدہ ہفتہ اور اتوارکے روزتشریف لاتے، مجھ سے یسرنا القرآن پڑھتے، کچھ غیر رسمی گفتگو بھی ہو جاتی اور بس۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ مسجد کے اَس وقت کے معروف دستور کے مطابق انہیں چائے کی ایک پیالی ضرور پیش کی جاتی، جسے وہ بخوشی قبول کرتے اور ہمیشہ ہی کہتے کہ آپ کی چائے بہت لذیذ ہوتی ہے۔ اس کا بدلہ اتارنے کے لئے انہوں نے بھی اپنا ایک دستور بنا لیا اور وہ یہ کہ وہ مشروبات کا ایک کریٹ لاکر مسجد میں رکھ دیتے اور کہتے کہ یہ آپ کی جماعت کے دوستوں کے لئے میری طرف سے ایک ادنیٰ سا نذرانہ ہے۔ پھربوتلیں خالی ہو جانے پروہ کریٹ وہ واپس لے جاتے اور اسکی جگہ مشروبات سے بھرا ایک اور کریٹ آ جاتا۔ اس دستور میں انہوں نے کبھی ناغہ نہ کیاتھا۔
چند مہینوں کے اندر اندر انہوں نے یسرنا القرآن ختم کر لیا۔ اب سوال پیدا ہوا کہ عربی کی کونسی کتاب شروع کی جائے۔ وہ خود ہی کہنے لگے، قرآن کریم سے بہتر اور کون سی کتاب ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اب انہوں نے قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔ میں یہ لکھنا بھول گیا کہ قاعدہ یسرنا القرآن پڑھانے کے دوران میں نے ان کی خواہش پر انہیں عربی گرائمر کے اسباق بھی دینے شروع کر دئے،کیونکہ،جیسا کہ انہوں نے ظاہر کیا تھا، ان کا اصل مدعا عربی پڑھنے کا تھا۔قاعدہ یسرنا القرآن ختم کرنے اور قرآن پڑھنا شروع کرنے کے وقت تک وہ عربی گرائمر پر اچھی خاصی دسترس حاصل کر چکے تھے۔ چنانچہ جونہی انہوں نے قرآن کریم پڑھنا شروع کیا، تو کہنے لگے مجھے ساتھ ساتھ معنی بھی بتاتے جائیں۔ اس طرح پر انہیں ناظرہ پڑھنے کی مشق کے علاوہ معانی پر بھی عبور حاصل ہوتا گیا۔ مشکل الفاظ کو وہ اپنی کاپی میں لکھ لیتے۔ میں لفظ کا مادہ بھی بتا دیتا اور یہ بھی کہ وہ لفظ اس مادے سے کیسے اور کس اصول پر بنا ہے۔ گویا میں عربی گرائمر کے قواعد سے بھی انہیں روشناس کراتا جا رہا تھا۔،جس سے ان کی دلچسپی اور قرآن سے ان کی لگن میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔
کچھ سورتیں ترجمہ کے ساتھ پڑھ لینے کے بعد ڈاکٹر کیوسی صاحب ایک دن کہنے لگے کہ میں اب ترجمہ تو کسی حد تک خود ہی پڑھ سکتاہوں،کیونکہ کئی زبانوں میں تر اجم قرآن میرے پاس موجود ہیں،تاہم قرآن کریم کے معانی پر اچھی طرح عبور حاصل کرنے کے لئے میں اس کا کسی ایسی زبان میں ترجمہ کرنا چاہتا ہوں، جس میں پہلے ترجمہ نہ ہوا ہو۔ انہیں چھ زبانیں آتی تھیں۔ ان میں سے پانچ میں یا تو ہماری جماعت کی طرف سے تراجم چھپ چکے تھے یا ترجمہ تیار تھا۔ البتہ ایک زبان اسپرانٹو Esperanto ایسی تھی جو انہیں آتی تھی، مگر اس میں ترجمہ اب تک نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اسپرانٹو زبان میں قرآن کا ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم پڑھنے کی مشق بھی ہفتہ واری اسباق کی صورت میں جاری رکھی۔ اب معانی کے ساتھ میں نے انہیں کسی قدر تفسیر بھی بتانی شروع کر دی، تا کہ آیات کا مفہوم اچھی طرح ان پر واضح ہو جائے۔
قرآن کریم کا اسپرانٹو زبان میں ترجمہ کرتے وقت وہ ہمارے جرمن، انگریزی اور فرانسیسی زبان میں تراجم اور پانچ جلدوں والی انگریزی تفسیر کو سامنے رکھتے ۔ مجھے ہر ہفتہ آ کر بتاتے کہ اب میں نے اس قدر ترجمہ مکمل کر لیا ہے۔ ترجمہ بھی کرتے جاتے اور ساتھ اسے اسپرانٹو زبان میں ٹائپ بھی کرتے جا رہے تھے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثالثؒ کے پہلے دورۂ یورپ کے وقت جو غالباً جولائی ۱۹۶۷ئ میں ہوا، وہ بیس پاروں تک ترجمہ مکمل کر چکے تھے۔ ترجمہ کے دوران ان پر اسلام کی حقیقت کس طور پر کھلی اور کس طرح انہوں نے دل ہی دل میں اسلام قبول کر کے نماز کی مشق بھی شروع کر دی، اسکی دلچسپ تفصیل انکی جرمن زبان میں تصنیف Haus in Mekka
میں چھپ چکی ہے اور طوالت کے خوف سے اسے یہاں درج نہیں کیا جا رہا۔
جس طریق پر انہوں نے شراب پینے سے کلیتہً کنارہ کشی اختیار کی، اس کا دلچسپ اور ایمان افروز تذکرہ بھی خاکسار نے اس کتاب کے اردو ترجمہ ’’میرا حج بیت اللہ‘‘ میں درج کر دیا ہے۔ یہاں اس ضمن میں ان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کے خیالات کا ذکرضروری معلوم ہوتا ہے تاکہ قارئین اندازہ لگالیں کہ اہل مغرب کے لئے مذہب کو تبدیل کرنا اور بالخصوص اسلام قبول کرناکس قدر مشکل ہے۔ ہوا یہ کہ جب ابھی وہ یسرناالقرآن پڑھ رہے تھے، تو ۱۹۶۶ئ کا ماہ صیام آ گیا۔ مجھے ایک پاکستانی دوست ،مسٹرخورشید اکبر صاحب ،نے کہہ رکھا تھا کہ میں سارے روزے ان کے ہاں افطار کروں۔ ان کا مکان اَس وقت مسجد سے زیادہ دور نہیں تھا،یعنی مسجد سے شہر کو جاتے ہوئے بسکے تیسرے یا چوتھے سٹاپ، وینڈل چوک (Wendels Platz) پر واقع ایک عمارت میں تھا۔ ایک دن میں ان کی اجازت سے مکرم ڈاکٹر کیوسی صاحب کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ مکان میں داخل ہونے سے قبل مکرم ڈاکٹر صاحب مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ میرا تعارف ان سے (یعنی اکبر صاحب سے) کیسے کروائیں گے۔ میر ے منہ سے جلدی میں ایک ایسا جملہ نکل گیا، جس کی سنجیدگی کا میں اس وقت تو اندازہ نہ لگا سکا، البتہ بعد میں مکرم ڈاکٹر صاحب کے خط سے اس کا احساس ہوا۔ میں نے کہا، میں کہوں گا، ’یہ ہمارے ایک بھائی ہیں‘۔ وہ یہ سن کر خاموش رہے۔
خورشید اکبر صاحب کی ڈاکٹر صاحب موصوف سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ دونوں نے باہم مل کر خوشی کا اظہار کیا۔ پہلے افطاری ہوئی۔ پھر میں اور اکبر صاحب نے با جماعت نماز پڑھی (اکبر صاحب باوجود احمدی نہ ہونے کے میری اقتدائ میں نماز پڑھ لیتے تھے)۔ اس کے بعد کھانا کھایا اور یوں یہ مختصر سی تقریب ختم ہوئی۔
اگلے روز مجھے ایک طویل خط مکرم ڈاکٹر صاحب کی طرف سے موصول ہوا، جس میں انہوں نے پہلے کل کی دعوت کے لئے شکریہ ادا کیا، پھر لکھا کہ انوری صاحب! مجھے اپنا دوست سمجھیں یا بھائی۔ جو آپ مناسب جانتے ہوں سمجھتے رہیں۔ لیکن اگر آپ کا یہ خیال ہو کہ میں کسی وقت اپنا مذہب تبدیل کر کے آپ کے مذہب میں داخل ہو جاؤں گا، تو یہ ناممکن ہے۔ اور پھر کسی قدر اختصار کے ساتھ اس میں انہوں نے اپنی وہ خاندانی، معاشرتی اور محکمانہ وجوہات لکھیں ،جن کے ہوتے ہوئے ان کا اپنا عیسائی رومن کیتھولک دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لینے کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ میں نے خط پڑھا اور فائل میں لگا دیا۔ اس کے بعد اس موضوع پر ہماری آپس میں اشارۃً بھی گفتگو نہ ہوئی ۔ روزمرہ کی آمدورفت، اوردرس و تدریس اور ہنسی و مزاح کا سلسلہ البتہ حسب معمول جاری رہا۔ لیکن پھر کس طرح کچھ عرصہ بعد انہوں نے میرے سامنے مگر دوسرے دوستوں سے پوشیدہ طور پر میرے سامنے انہوں نے بالجہرکلمہ پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کیا(، اور پھر اس کے کچھ عرصہ بعدمیرے واپس مرکز سلسلہ میں چلے جانے کے بعدمیرے خلف رو،برادرم مسعود احمد صاحب جہلمی مرحوم،کے سامنے علی الا علان ا حمدیت قبول کی،) ایک خارق عادت معجزہ ہے جسکی پوری کیفیت خاکسار قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کا دل اسلام کے لئے کھول دے تو پھر کس طرح اس کے لئے اس راہ میں آنے والی مشکل آسان ہو جاتی ہے ۔
The complete story of how Dr. K.C. Sahib accepted Islam
ڈاکٹر کیوسی صاحب کے اسلام قبول کرنے کی پوری کہانی
کہتے ہیں عشق اور مشک چھپے نہیں رہ سکتے۔ڈاکٹر کیوسی صاحب بھی اپنے قلبی ہیجان کی اِس کیفیت کو زیادہ دیر تک اپنے سینے میں چھپا نہ سکے۔چنانچہ ایک دن جب حسب معمول مسجد میں تشریف لائے تو کہنے لگے:
’’انوری صاحب!آج میںایک راز کی بات کہنی چاہتا ہوں بشرطیکہ وہ میرے اور آپ کے درمیان صیغہ راز میں رہے۔وہ یہ ہے کہ میں سچے دل سے تسلیم کر چکا ہوں کہ اسلام ہی وہ حقیقی مذہب ہے جو مجھے قلبی سکون عطا کر سکتا ہے۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر میں ایمان لاتا ہوں اور ایک مسلمان کے طور پر اپنی زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں۔نماز میں کافی عرصہ سے پڑھ رہا ہوں ۔ ( اور فی الواقعہ جیسا کے انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر کِیا ہے، پنج وقتہ نماز کی مشق انہوں نے ترجمہ قرآن کے دوران ہی شروع کر دی تھی۔ناقل)۔لیکن مجھے اطمینان ہونا چاہئے کہ میری حرکات و سکنات درست ہیں۔اسلئے آئندہ ایک تو میں مسجد میں بھی مگر دوسرے دوستوں سے مخفی نماز پڑھ لیا کروںگا۔دوسرے ،ارکان نماز کے بارے میں جو کئی قسم کے سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں،وہ آپ سے پوچھ لیا کروں گا‘‘
ڈاکٹر کیوسی صاحب کی اس گفتگو سے میرے اندر خوشی کی ایک بے پناہ لہر دوڑگئی۔چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق میں نے یہ راز اپنے تک محدود رکھنے کے وعدہ کے ساتھ ان سے حضرت اقدس امیر المؤمنین پر اس کا انکشاف کرنے کی اجازت لے لی۔اس کے بعد وہ جب بھی مسجد میں تشریف لاتے تو نماز کا وقت ہو جانے پر کمرے کادروازہ بندکر کے نماز پڑھ لیتے۔
ڈاکٹر صاحب موصوف کے شراب ترک کرنے کا قصہ بھی جتنا دلچسپ ہے،اتنا ہی ایمان افروزبھی ہے۔غالباً دسمبر ۱۹۶۶ئ کی بات ہے کہ وہ ایک دن حسب معمول مسجد میں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اسلام کا شراب کی تحریم کے بارے میں حکم مجھے بڑی حکمت پر مبنی نظر آتا ہے۔شراب ایسی چیز ہے جس کا ضرر فی الواقعہ اس کے نفع سے زیادہ ہے۔اور اس لئے بھی کہ میں اللہ کی کتاب قرآن کریم پڑھ رہا ہوں،میں شراب کو کلیۃً ترک کرنا چاہتا ہوں(اَس وقت تک انہوں نے اپنی اسلام سے وابستگی کا حال خاکسار پر ظاہر نہیں کِیا تھا)۔ اس کے لئے مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔میں بڑی دلچسپی کیساتھ ان کی بات سنتا رہا۔کہنے لگے،اگرچہ شراب ہمارے گھر میں پہلے ہی بہت کم پی جاتی ہے تاہم یکم جنوری ۱۹۶۷ئ سے میں عہد کرنا چاہتا ہوں کہ میں آئندہ اس کا ایک قطرہ بھی منہ کو نہیں لگاؤں گا۔فرمانے لگے،مگر چونکہ یورپی ماحول میں شراب بڑی کثرت سے پی جاتی ہے اور خود مجھے کاروباری سلسلے میں کئی ایسی مجالس میں شریک ہونا پڑتا ہے جہاں آغاز بھی شراب سے ہوتا ہے اور آخر تک شراب ہی شراب چلتی ہے،اس ماحول اور اس فضا کے اندر رہتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ میں کسی وقت کمزوری دکھاؤں اور اپنا عہد توڑ بیٹھوں۔اس لئے آپ کبھی کبھار مجھ سے پوچھ لیا کریں کہ آیا میں اپنے عہد پر قائم ہوں۔اور یہ خوف کہ اگر آپ پوچھیں گے تو میں کیا جواب دوں گا،مجھے اپنے عہد کو توڑنے سے باز رکھے گا۔کیونکہ اگر میں نے کبھی کمزوری دکھائی اور آپ کے پوچھنے پر میں نے اس کا اقرارکر لیا تو یہ بدعہدی ہوگی جو مجھے پسند نہیں۔اور اگر میں نے اپنی بد عہدی کو چھپایا تو یہ جھوٹ ہوگا اور جھوٹ سے مجھے نفرت ہے۔ میں ڈاکٹر کیوسی صاحب کے اس جوش استقامت اور خلوص نیت پر عش عش کر اٹھا۔اور پھر اپنے اس وعدے کے مطابق ان سے کبھی کبھی پوچھ لیا کرتا ۔وہ بھی مسکرا کر جواب دیتے کہ کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔چند ما ہ گزرنے پر کہنے لگے،میں سمجھتا تھا کہ میں نے بڑا تیر مارا ہے حالانکہ کبھی کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آئی۔اسی طرح دن گزرتے چلے گئے۔
کچھ عرصہ بعدڈاکٹر کیوسی صاحب کو اپنے وطن اٹلی جانے کا اتفاق ہوا۔جب واپس آئے تو میں نے پوچھا کہ آپ کا عہد کیسا رہا۔فرمانے لگے،بس ایک بار ایسی نوبت آئی کہ اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ آپ پوچھیں گے تو کیا جواب دوںگا تو میں غلطی کر بیٹھتا۔میرے پوچھنے پر کہنے لگے کہ وہاں ایک فیملی نے جس کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات تھے، میری دعوت کی اور بڑا پر تکلف کھانا پکایا۔کھانے کے بعدجیسا کہ ان کا دستور ہے، صاحب خانہ نے شراب پیش کی اور کہا کہ یہ خاص طور پر آپ کے لئے منگائی گئی ہے۔میں نے عذر کِیا مگر گھر کی مالکہ اصرار کرنے لگی کہ تھوڑی سی چکھ تو لیں۔اور قریب تھا کہ میں اس کا دل رکھنے کی خاطر ایک آدھ گھونٹ پی لیتا مگر مجھے آپ کا خیال آیا کہ اگر آپ پوچھیں گے تو کیا جواب دوں گا۔چنانچہ وہ اصرار کرتی رہی اور میں معذرت کرتا رہا یہاں تک کہ بالآخر وہ خود ہی خاموش ہو گئی۔
جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے،اسلام کا خفیہ اظہار کرنے کے بعد سے مکرم ڈاکٹر کیوسی صاحب نے باقاعدہ پنجوقتہ نماز شروع کر دی تھی۔دن کی نمازیں وہ دفتر میں پڑھ لیا کرتے اور رات کی یعنی نماز مغرب و عشائ گھر میں سونے سے پہلے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے پڑھ لیتے۔اسی طرح صبح کی نماز گھر یا دفتر جہاں موقع ہوتا ،پڑھ لیتے۔اب جب اَس سال دسمبر میں ماہ رمضان آیا تو وہ روزے رکھنا چاہتے تھے۔مگر انہیں ایک اور فکر لاحق ہوئی۔وہ یہ کہ ہفتہ اور اتوار کو جب گھر میں ہوں گے تو روزے کیسے رکھ سکیں گے۔کیونکہ گھر میں دن کو بچوں کے ساتھ کھانا نہ کھانے سے ان کا راز افشا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ بڑے متفکر ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے،میں کیا کروں۔جہاں تک عام دفتری دنوں کا تعلق ہے،روزہ رکھنے میں مجھے کوئی مشکل نہ ہوگی۔موسم کے لحاظ سے صبح کا ناشتہ میں گھر میں اَس وقت کرتا ہوں جب ابھی سحری کا وقت ہوتا ہے(جرمنی میں دسمبر وغیرہ میں سورج ۹ بجے طلوع ہوتا ہے اور دفاتر سات آٹھ بجے کھل جاتے ہیں)۔دوپہر کا کھانا میں دفتر میں کھایا کرتا ہوں جو روزہ ہونے کی صورت نہیں کھاؤں گا۔شام کا کھانا گھر پر کھانے سے پہلے ہی روزہ افطار ہو چکا ہوگا۔مشکل یہ نظر آ رہی ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو جب دفتر بند ہوتا ہے،مجھے دوپہر کا کھانا لازماً اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانا ہوگا۔اگر نہ کھاؤں گا تو راز کھلتا ہے۔اب میں کروں تو کیا کروں۔میں نے کہا کہ میرے خیال میں قرآن کریم میں جو فدیہ دینے کا جواز آیا ہے کہ روزہ نہ رکھ سکنے کی صورت میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے ،وہ آپ پر بھی منطبق ہو سکتی ہے ۔ اورفدیہ نقدی کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔وہ یہ سن کر بہت خوش ہو گئے اور اگلے ہی روز رمضان شریف میں آنے والی چھٹیوں کا حساب کر کے رقم لا کر مجھے دے دی کہ میں ان کی طرف سے کسی غریب کو فدیہ میں دے دوں۔
میرے اَس سال دسمبر میں واپسی تک ان کا یہ راز سربستہ ہی رہا۔اور مزید کچھ عرصہ تک وہ پوشیدہ طور پر اسلام پر عمل پیرا رہے۔یہاں تک کہ وہ وقت بھی آ گیا جب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق وہ خود ہی اس سے پردہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔میں اس وقت اپنے مشن پر نائجیریا میں تھا کہ ان کی یہ خوش کن چھٹی ملی کہ اب وہ اعلانیہ طور پر مسلمان ہو چکے ہیںنیز باقاعدہ طور پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں اوریہ کہ ان کا اسلامی نام محمد عبدالہادی رکھا گیا ہے۔’’محمد‘‘ نام انہیں بہت ہی پیارا ہے۔اور عبدالہادی اس لئے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فضل سے ان کی ا سلام کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔میرے لئے اس سے زیادہ خوشی اور کیا ہو سکتی تھی۔
اسی اثنا میں قرآن کریم کا اسپرانٹو میں ترجمہ مکمل ہو کرانہی کے زیر اہتمام چھپ کر شائع ہو چکا تھا۔آپ نے مجھے لکھا کہ انہوں نے پبلشنگ کمپنی کو آرڈر دے کر تین خصوصی نسخے تیار کروائے ہیں۔ ان میں سے ایک وہ حضرت امیرا لمؤمنین خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بطور تحفہ بھجوا رہے ہیں،دوسرا اس عاجز کے لئے ہے اور تیسرا وہ خود اپنے پاس رکھیں گے۔چنانچہ کچھ عرصہ بعد ان کا یہ ہدیہ مجھے خوبصورت جلد میں لیگوس پہنچ گیا۔اس کے دیباچہ میں انہوں نے از راہ تلطف اِس عاجز کا نام بھی بغرض دعادرج کِیا ہے۔
افسوس ہے کہ ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور اسلام کا یہ سچا فدائی اور سلسلہ کا بے لوث خادم خاکسار کے ستمبر۱۹۷۲ئ میں دوبارہ بطور مبلغ انچ ارج جرمنی پہنچنے کے چند ماہ بعد ہی اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔انا للہ و انا الیہ راجعون !اِن کی قبرفرانکفورٹ کی ذیلی آبادی ساخسن ہاؤزن (Sachsenhausen) میں ان کے مکان اور مسجد نور فرانکفورٹ کے درمیان واقع ’’جنوبی قبرستان‘‘ Süd Friedhof میں موجود ہے۔ حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ۱۹۷۶ئ میں جرمنی کے دورہ کے وقت ازراہ شفقت ڈاکٹر موصوف کی قبر پر تشریف لے جاکر دعا بھی کروائی تھی۔
ڈاکٹر کیوسی صاحب کے پسماندگان میں ان کی بیوی ،ایک لڑکی باربرا (Barbara) اور ایک لڑکا سٹیفانو(Stefano) موجود ہیں۔باربرا کی شادی ان کی زندگی میں ہی مگر ان کے قبول اسلام سے پہلے ایک جرمن سے ہو چکی تھی۔بیوی اور بیٹا تاحال اپنے سابقہ مذہب پر قائم ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے دین اسلام کی طرف ہدایت کے سامان پید ا فرمائے۔آمین!