وہ 4 مارچ 2017ء کو 90 برس کی عمر میں جرمنی میں وفات پا گئے۔ جمعہ 17 مارچ 2017ء کو بیت الفتوح مسجد لندن میں حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، نے خطبۂ جمعہ کے اختتام پر ان کا ذکر فرمایا اور نمازِ جمعہ کے بعد ان کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔ ان کا جنازہ تین میں سے دوسرا تھا۔
دوسرا جنازہ مکرم فضل الٰہی انوری صاحب ابن مکرم ماسٹر امام علی صاحب کا ہے جو 4؍مارچ 2017ء کو 90 سال کی عمر میں جرمنی میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
16؍اپریل 1927ء کو یہ بھیرہ میں پیدا ہوئے اور 1946ء میں تعلیم الاسلام کالج قادیان سے ایف۔ ایس۔ سی کا امتحان پاس کیا۔ 1947ء میں اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بی۔ ایس۔ سی میں داخلہ لیا اور 1950ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔ ایس۔ سی کی۔ 1951ء میں جامعۃ المبشرین میں داخل ہوئے اور پھر اس کے بعد آپ کی خدمات کا سلسلہ کافی لمبا ہے۔
1956ء میں بطور مبلغ گھانا بھجوایا گیا۔ 1960ء تک آپ وہاں رہے۔ 1960ء سے 1964ء تک جامعہ احمدیہ ربوہ میں استاد رہے۔ 64ء سے 67ء تک مغربی جرمنی کے مبلغ رہے۔ پھر 68ء میں افریقہ میں نائیجیریا بھیجے گئے۔ 1972ء تک وہاں رہے۔ 1972ء میں پھر جرمنی آئے اور 1977ء تک وہاں خدمات انجام دیں۔ 1979ء میں حدیقۃ المبشرین میں بطور سیکرٹری کام کیا۔ ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن بھی مقرر ہوئے۔ اور 1982ء میں گیمبیا مبلغ کے طور پر گئے۔ 1983ء تک پھر وہاں رہے۔ پھر بطور مبلغ ان کا نائیجیریا تبادلہ ہو گیا اور 1986ء تک وہاں رہے۔ 1986ء میں پاکستان واپس گئے تو جامعہ احمدیہ میں بطور استاد خدمت کی توفیق پائی اور پھر 1988ء میں آپ کا تقرر وکالت تصنیف میں ہوا۔ 1988ء تک خدمت سلسلہ کی توفیق پائی۔ اس کے بعد آپ کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔ اس کے بعد سے آپ جرمنی میں ہی تھے۔
1974ء کے حالات کے بعد آپ نے جرمنی میں احمدیوں کو وہاں منگوانے کا اور امیگریشن دلوانے کا بڑا کام کیا جس کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے بڑا سراہا اور وہاں رہنے والے جو بعض پرانے احمدی ہیں انہوں نے مثلاً عرفان خان صاحب نے مجھے لکھا کہ باپ کی طرح انہوں نے ہمیں وہاں رکھا اس وقت جماعت کے مالی حالات بھی ایسے نہیں تھے تو یہاں تک احتیاط کرتے تھے کہ ہم پانی نہ ضائع کریں اور وضو کرتے ہوئے ہمارے پیچھے کھڑے ہو جایا کرتے تھے کہ پانی تو ضائع نہیں کر رہے۔
اس وقت وہاں اکثریت نوجوانوں کی ہی آئی تھی تو ان کو آپ نے باقاعدہ جماعت کے ساتھ منسلک رکھا اور ان کی تربیت بھی کرتے رہے۔ بڑے قناعت پسند تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے درویشان کی مختلف خصوصیات پہ بعض کتب بھی لکھی ہیں۔
اردو متن ۱۷ مارچ ۲۰۱۷ء کے خطبے کا وہی شائع شدہ متن ہے جو alislam.org پر موجود ہے۔ یہ حصہ دوسری نمازِ جنازہ کے ذکر کے آغاز سے تیسری کے ذکر کے آغاز تک ہے۔
خطبے میں ۱۹۵ ۰ء کے بی ایس سی کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور کا ذکر ہے۔ ان کی اپنی تحریر میں تعلیم الاسلام کالج لاہور مذکور ہے، جو تقسیم کے بعد وہاں منتقل ہوا تھا۔ اقتباس اسی طرح رہنے دیا گیا ہے جیسے شائع ہوا۔ لائف ہسٹری ¶۱۰۴
وہ لمحہ دیکھیں جہاں ان کا نام آتا ہے
سنیں اور پڑھیں
- جہاں ان کا نام آتا ہے وہاں سے دیکھیں (47:44)
- خطبے کا مکمل اردو متن
- انگریزی خلاصہ
- آڈیو، اردو
- آڈیو، انگریزی
- آڈیو، جرمن
یہ خطبہ اردو میں دیا گیا۔ ان سے متعلق حصہ 47:44 سے 51:34 تک ہے۔ پورے خطبے کا عنوان "Extremism and Persecution of Ahmadis" ہے۔