حضورپور اور بھیرہ
ابتدائی امتحان انہوں نے حضورپور کے لوئر مڈل سکول سے پاس کیا، جو سے پانچ کلومیٹر مشرق میں تھا اور جہاں آپ کے والد صاحب ہیڈ ماسٹر تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے ۱۹۴۴ء میں آپ پورے سکول میں اول آئے اور ۶۳۴ نمبر حاصل کیے۔
وہ کون تھےتیرہ پہلو، ان کے اپنے الفاظ میں ❖ طالبِ علمان کی تعلیم حضورپور سے دمشق تک مسودات میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جو ان ہوں نے خود درج کیے۔ حضورپور اور بھیرہابتدائی امتحان انہوں نے حضورپور کے لوئر مڈل سکول سے پاس کیا، جو سے پانچ کلومیٹر مشرق میں تھا اور جہاں آپ کے والد صاحب ہیڈ ماسٹر تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے ۱۹۴۴ء میں آپ پورے سکول میں اول آئے اور ۶۳۴ نمبر حاصل کیے۔ تعلیم الاسلام کالج، قادیانمیٹرک کے بعد آپ کا ارادہ نہ تھا کہ مزید تعلیم حاصل کریں، کیونکہ والدین کے مالی وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ پھر میں اعلان شائع ہوا کہ میں کالج قائم ہوا ہے اور میٹرک پاس کرنے والے احمدی طلبہ کو مدعو کیا جا رہا ہے۔ آپ نے والدین سے مشورہ کیا اور جون ۱۹۴۴ء میں وہاں پہنچے۔
رول نمبر ایککالج کے پہلے سال آپ کا نام رجسٹر میں سب سے پہلے درج ہوا۔ ابتدائی اکاون طلبہ کو میٹرک کے نمبروں کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا تھا اور آپ کے نمبر سب سے زیادہ تھے۔ بعد میں زیادہ نمبر لانے والے طلبہ کے داخل ہونے کے باوجود آپ کا رول نمبر ایک ہی رہا۔ ہاسٹل اور مجلسِ عرفانقادیان میں آپ فضلِ عمر ہاسٹل میں مقیم رہے۔ آپ نے ہاسٹل کے دن، وہاں تقریر کے لیے بلائے گئے صحابہ اور مسجد مبارک میں نمازِ مغرب کے بعد ہونے والی مجلسِ عرفان درج کی ہے، جہاں حضرت الثانی رضی اللہ عنہؓ تقریباً روزانہ احباب کے درمیان تشریف رکھتے تھے۔
ہجرت کے بعد لاہورہجرت کے بعد کالج لاہور منتقل ہوا۔ آپ تقریباً چھ ماہ اس کی پہلی عمارت میں رہے، پھر ڈی۔اے۔وی کالج کی تباہ شدہ عمارت میں، جہاں دروازے، کھڑکیوں کے چوکھٹے، الماریاں، فرنیچر، لیبارٹری کا شیشہ اور کتب خانے کی جلدیں غائب تھیں۔ بی۔ایس سی اور جامعۃ المبشرین۱۹۵۰ء میں آپ نے لاہور سے بی۔ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ میں آپ کا تعلیمی عرصہ پانچ سال رہا اور ۱۹۵۶ء میں آپ فارغ ہوئے۔ دمشق میں عربی کا مطالعہ، ۱۹۵۶ءگھانا جانے سے پہلے آپ کو دمشق میں عربی سیکھنی تھی۔ آپ فروری ۱۹۵۶ء میں سے روانہ ہوئے، زاویہ الحسنی، دمشق کی شہری لائبریری اور امریکن لائبریری میں مطالعہ کیا اور عربی اخبارات پڑھے۔ آپ تقریباً نو ماہ وہاں رہے اور نومبر ۱۹۵۶ء میں اکرا پہنچے۔ بیٹابطور بیٹا اپنے بارے میں آپ نے کم لکھا۔ جو کچھ چھوڑا، وہ واضح ہے۔ ماسٹر امام علی صاحبآپ کے والد ماسٹر امام علی صاحب حضورپوری ثم بہیروی تھے اور ضلع بورڈ سرگودھا کے محکمہ تعلیم میں ماسٹر تھے۔ حضورپور میں ہیڈ ماسٹروہ اسی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے جہاں سے آپ نے ابتدائی امتحان پاس کیا، یعنی لوئر مڈل سکول حضورپور۔ ان کی اپنی تحریر میں¶4 دعا کی قبولیتسالم سکول میں تدریس کے دنوں کی ایک بات آپ کے والد نے دعا کی قبولیت کے بارے میں سنائی۔ آپ لکھتے ہیں کہ اس کا گہرا اثر صرف والد پر ہی نہیں رہا بلکہ سب بچوں پر بھی مستقل قائم ہو گیا۔
ان کی اپنی تحریر میں¶8 باپ بیٹاآپ دونوں بھیرہ سے ربوہ میں ہونے والے پہلے میں شامل ہوئے اور ریل کے ذریعے ملک وال سے گزر کر گئے۔
ان کی اپنی تحریر میں¶114 گھانا کے چار سالگھانا میں گزارے گئے چار سالوں کے دوران آپ کے والد، جو ریٹائرمنٹ کے بعد ربوہ میں رہ رہے تھے، گھر آتے اور آپ کی اہلیہ کو تسلی دیتے اور واپسی کے سال گنتے۔ ان کی اپنی تحریر میں¶21 مبلغکی حیثیت سے آپ نے خدمت کی جگہ خود منتخب نہیں کی بلکہ جہاں تقرر ہوا وہاں گئے۔ نوے سالہ زندگی میں یہ خدمت آپ کو چار براعظموں تک لے گئی۔ دمشق اور پہلی بیرونِ ملک تقرریگھانا کی تقرری سے پہلے آپ نے عربی سیکھنے کے لیے تقریباً نو ماہ دمشق میں گزارے۔ نومبر ۱۹۵۶ء میں اکرا پہنچے اور ۱۹۶۰ء تک گھانا میں خدمت کی۔ یہ آپ کی پہلی بیرونِ ملک تقرری تھی۔ مسجد نور سے باہرجرمنی کے پہلے دور میں سکولوں، کالجوں اور گرجا گھروں سے دعوتیں اتنی آئیں کہ سے باہر کی سرگرمیاں مسجد کے اندر کی سرگرمیوں سے بڑھ گئیں۔ ایک یومِ اسلام میں ایک پادری نے قرآن کریم کا جرمن ترجمہ پڑھ کر آپ کا تعارف کرایا۔ آپ نے اس کا شکریہ ادا کیا، ارکانِ اسلام بیان کیے، ٹیپ ریکارڈر پر اذان سنائی اور ساتھ ساتھ ترجمہ کیا، پھر انجیل کی پیشگوئیوں کی روشنی میں آمدِ ثانی پر گفتگو کی۔ عوامی مقامات پر کتبآپ نے جامعہ فرینکفرٹ کی لائبریری سے آغاز کرتے ہوئے جماعتی لٹریچر یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں رکھوایا۔ ۱۹۷۳ء میں فرینکفرٹ کتاب میلے میں جماعت کا ایک ہال بھی تھا۔ بعد کی ذمہ داریاں۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۶ء تک آپ نے جرمنی میں اور کی حیثیت سے خدمت کی۔ بعد میں نائیجیریا میں انہی ذمہ داریوں پر دو ادوار خدمت کی۔ گیمبیا میں امیر اور مشنری انچارج ہوتے ہوئے نے مارچ ۱۹۸۳ء میں آپ کو نائیجیریا کا چارج سنبھالنے کی ہدایت دی۔ اپریل ۱۹۸۶ء میں آپ پاکستان واپس آئے۔ استادبطور استاد آپ کی خدمت ایک ایسے ادارے سے شروع ہوئی جسے سنبھالنے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا، اور اس میں ایک ایسی ناکامی بھی شامل تھی جسے آپ نے بلا پردہ درج کیا۔ سویڈرو کا مدرسہآپ کو گھانا میں سویڈرو کے جماعتی عربی مدرسے کو چلانے کے لیے بھیجا گیا اور دمشق کا قیام اسی تیاری کا حصہ تھا۔ آپ کی آمد تک گھانا کے امیر مولانا نذیر احمد صاحب مبشر اس مدرسے کو پہلے ہی ایک بوجھ سمجھتے تھے۔ مسجد کے کمرے میں مدرسہآپ کا تعارف مقامی افریقی احباب اور مدرسے کے بچوں سے کرایا گیا، مگر عمارت تیار نہ تھی۔ پہلے پانچ یا چھ ماہ مسجد کا ایک کمرہ مدرسہ بنا رہا۔ آپ کو ہدایت تھی کہ جو ذرائع میسر ہوں انہی سے مدرسہ چلائیں۔ سویڈرو کی ناکامیمدرسے کا مطالبہ مرکزی انتظامیہ کی طرف سے نہیں آیا تھا، اس لیے پہلے سے کچھ طے نہ تھا، حتیٰ کہ یہ بھی نہیں کہ مدرسہ کتنے سال چلے گا۔ جب آپ سویڈرو سے اکرا روانہ ہوئے تو نہ کوئی طالب علم اور نہ کوئی بزرگ الوداع کہنے آیا۔ ان کے نزدیک آپ ان کا عربی مدرسہ تباہ کر کے جا رہے تھے۔ جامعہ کے طالب علم سے جامعہ کے استاد تکفروری ۱۹۶۰ء میں واپسی کے بعد تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے ہیڈ ماسٹر نے آپ کو سائنس پڑھانے کے لیے بلایا۔ رخصت ختم ہونے سے پہلے تحریک جدید نے ہدایت دی کہ میں پرنسپل سید میر داؤد احمد صاحب کے تحت بطور استاد حاضر ہوں۔ جس ادارے میں آپ نے پانچ سال تعلیم پائی تھی اسی نے اب تدریس کے لیے بلایا۔ مترجمآپ کے ترجمے کے کام کی دو صورتیں تھیں۔ ایک کا تعلق کتابوں اور عوامی تقاریر سے تھا۔ دوسری نے ان لوگوں کو ایک ایسے ملک میں زندگی گزارنے میں مدد دی جس کی زبان وہ ابھی نہیں جانتے تھے۔ میرا حج بیت اللہآپ نے ڈاکٹر محمد عبد الہادی اٹالو چیوسی کی کتاب میرا حج بیت اللہ کا اردو ترجمہ کیا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶311 قرآن کریم کا ایسپرانتو ترجمہڈاکٹر چیوسی نے جرمن، انگریزی اور فرانسیسی تراجم اور پانچ جلدوں پر مشتمل انگریزی تفسیر کی مدد سے قرآن کریم کا ایسپرانٹو ترجمہ کیا تو آپ ان کے ساتھ کام کرتے اور ہر ہفتے پیش رفت کی رپورٹ دیتے تھے۔ بعد میں ڈاکٹر چیوسی نے احادیث کے ایک مجموعے کے لیے بھی یہی طریق اختیار کیا۔ تقریری اور اشاعتی ترجمہیومِ اسلام میں آپ نے ریکارڈ شدہ اذان کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کیا۔ آپ کی پہلی کتاب انگریزی میں لکھی گئی اور دوسروں نے اس کا جرمن ترجمہ کیا۔ روزمرہ زندگی کے لیے ترجمہجب پاکستانی جرمنی آنے لگے تو آپ ہر شخص کا کیس تیار کرتے، اسے وکیل کے پاس لے جاتے، اگلے دن پولیس کے دفتر لے جاتے اور خود ترجمانی کے فرائض ادا کرتے۔ یہاں ترجمہ ادبی کام نہیں تھا۔ یہ ان لوگوں کی عملی مدد تھی جن کی جرمن زبان ابھی روزمرہ زندگی کے لیے کافی نہ تھی۔ ان کی اپنی تحریر میں¶537 آئندہ زندگی کے لیے زبانہدایت اللہ ہیوبش کی آمد سے جرمن خط و کتابت ممکن ہوئی۔ انوری صاحب نے نئے آنے والے احباب کو تاکید کی کہ اپنے خرچ پر بھی جرمن زبان سیکھیں، کیونکہ اس کے بغیر ان کی اسناد کی کوئی قدر نہ تھی۔ شوہرازدواجی زندگی کا آپ کا بیان رخصتی، خاندانی خدمت اور بیماری سے جدا نہ تھا۔ آپ کی اہلیہ عائشہ صدیقہ تھیں۔ پہلی روانگیپہلی روانگی سے پہلے گھر بھیرہ سے آنے والے رشتہ داروں سے بھر گیا۔ ان کی موجودگی نے قریب آتی جدائی کے غم کو کچھ دیر کے لیے ہلکا کر دیا۔ پہلی رخصتی سے حاصل سبقجامعہ سے فراغت کے بعد اگلی روانگی آئی تو آپ نے ربوہ کے بجائے لاہور اسٹیشن سے سفر شروع کیا، کیونکہ پہلی رخصتی کے وقت اپنی اہلیہ اور کم سن بیٹی کی حالت دیکھ چکے تھے۔ ان کی اپنی تحریر میں¶247 نائیجیریا میں ساتھنائیجیریا آپ کی پہلی بیرونِ ملک تقرری تھی جس میں خاندان ساتھ تھا۔ آپ کے ہمراہ اہلیہ عائشہ صدیقہ، بیٹی حفصہ انوری اور بیٹا زکریا اسماعیل انوری تھے۔ ان کی اپنی تحریر میں¶353 عائشہ صدیقہ کی آنکھنائیجیریا پہنچنے کے چند ہفتوں کے اندر ان کی دائیں آنکھ میں شدید درد ہوا اور پتلی پھیل گئی۔ یونیورسٹی ہسپتال عبادان میں گلوکوما کی تشخیص ہوئی اور آنکھ ضائع ہو گئی۔ آپ نے لکھا کہ تب اس درد کی اصل وجہ سامنے آئی جو وہ ڈھائی سال سے برداشت کر رہی تھیں، اور مناسب طبی سہولت بروقت میسر نہ آ سکی تھی۔ جرمنی میں علاجآپ نے جرمنی میں انہیں ملنے والی طبی مدد کو وہاں کی برکات میں شمار کیا۔ انہیں پاکستان کے زمانے سے دمہ برونکائٹ س تھا اور گولیوں سے خاص فائدہ نہ ہوتا تھا۔ علاج کے دوران آپ کمرے میں ان کے ساتھ رہے اور وہ لمحہ بھی درج کیا جب پٹی کھلی اور خون بہنے لگا۔ دونوں کی ادا کردہ قیمتآپ کے بیان نے اس قیمت کو واضح کر دیا۔ وقف کے ساتھ بسر ہونے والی ازدواجی زندگی کی قیمت دو انسانوں نے ادا کی۔ امامبرسوں تک آپ کے کام کا ایک ہی پتہ رہا، مسجد نور فرانکفورٹ۔ مسجد کے بارے میں آپ کا بیان دراصل اُس منصب کا بیان ہے جو آپ کو وہاں سونپا گیا۔ مسجد نور آمد، جون ۱۹۶۴ءجرمنی میں آپ کی پہلی منزل مسجد نور فرانکفورٹ تھی، جہاں آپ ۲۰ یا ۲۱ جون ۱۹۶۴ء کو پہنچے۔ اُس وقت مسجد کے امام مکرم چودھری محمود احمد صاحب چیمہ تھے۔ ایک دو راتیں گزار کر آپ ہمبرگ روانہ ہو گئے۔ ان کی اپنی تحریر میں¶25 ہمبرگ میں سات ماہ، پھر تقرریآپ نے سات ماہ ہمبرگ میں جرمن زبان سیکھی اور پھر فرانکفورٹ تبدیل ہو گئے۔ آپ کے اپنے الفاظ میں یہیں سے آپ کی عملی تبلیغی زندگی کا آغاز ہوا۔ آپ ابھی یونیورسٹی کے انتظام کے تحت جرمن سیکھ رہے تھے کہ مکرم چودھری عبداللطیف صاحب نے بتایا کہ مرکز کی طرف سے آپ کا تقرر مسجد نور کے امام کے طور پر ہو گیا ہے۔ فروری ۱۹۶۵ء میں آپ ہمبرگ سے فرانکفورٹ پہنچے۔ سبز دروازے پر کلمہجب آپ پہلی بار امام مقرر ہوئے تو مسجد کے بڑے سبز دروازے کے اوپر کلمہ باریک حروف میں لکھا ہوا تھا۔ آپ نے اسے موٹے حروف میں از سرِ نو لکھوایا، اور آپ کی خواہش رہی کہ اس کی جگہ روشن ہونے والا بورڈ لگے، حالانکہ آپ جانتے تھے کہ ایسے بورڈ پر کئی ہزار مارک خرچ ہوں گے۔ جرمنی کا پہلا اجتماعِ خدام، ۱۹۷۳ءمجلس جرمنی کا پہلا سالانہ تین روزہ ۹ تا ۱۱ جون ۱۹۷۳ء مسجد نور فرانکفورٹ میں منعقد ہوا، جس میں سارے ملک سے پچاس خدام شریک ہوئے۔ آپ نے اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کا موصول ہونے والا پیغام بھی درج کیا ہے۔ ان کی اپنی تحریر میں¶627 نمازِ جنازہ کی امامتاس منصب میں نمازِ جنازہ بھی شامل تھی۔ آپ نے ایک ایسے جنازے کا ذکر کیا ہے جو قبرستان کے اندر مرکزی دروازے کے قریب کھلی جگہ پر پندرہ بیس احباب کے ساتھ پڑھایا گیا، یعنی اُس وقت فرانکفورٹ میں موجود تقریباً پوری جماعت کے ساتھ۔ ان کی اپنی تحریر میں¶460 وقفان کی زندگی کا سارا رخ ایک فیصلے پر مڑا جو ۱۹۴۶ء میں بھیرہ کے گھر میں ہوا۔ آپ نے اسے سادگی سے بیان کیا، اُس لمحے سمیت جب آپ کو تردد ہوا۔ بھیرہ میں سنا ہوا خطبہ، ۱۹۴۶ء۱۹۴۶ء میں انٹرمیڈیٹ سائنس کرنے کے بعد آپ اپنے وطن بھیرہ واپس آئے۔ والدین مزید تعلیم کے اخراجات نہ اٹھا سکتے تھے، اس لیے آپ اسی قدر تعلیم پر قناعت کر کے کام کی تلاش میں لگ گئے۔ انہی دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ایک خطبہ آپ تک پہنچا جس میں رضی اللہ عنہ نے وقفِ زندگی پر خاص زور دیا تھا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶6 قادیان، ۱۹۴۷ءآپ تقریباً اپریل یا مئی ۱۹۴۷ء میں قادیان پہنچے، یعنی تقسیم کے سال۔ تحریکِ جدید نے حضرت رضی اللہ عنہ کی منظوری سے آپ کے بارے میں فیصلہ کیا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶7 وقف کہاں لے گیا، ۱۹۵۶ء۱۹۵۶ء میں آپ نے جامعہ کا آخری امتحان پاس کیا اور اسی کے ساتھ آپ کی عملی زندگی شروع ہوئی۔ وکالتِ تبشیر نے آپ کو گولڈ کوسٹ کے شہر سویڈرو میں احمدیہ عربک سکول کا پرنسپل مقرر کیا، مگر پہلے دمشق میں عربی زبان میں مہارت کے لیے قیام کی ہدایت ہوئی۔ ان کی اپنی تحریر میں¶8 زبان پر جاری ہونے والا ایک جملہ، دمشقربوہ سے روانگی سے پہلے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ عربی میں مہارت کے لیے قصوں اور کہانیوں کی کتابیں بڑے پیمانے پر پڑھیں۔ دمشق میں آپ نے ایسا ہی کیا اور زاویۃ الحسنی کا مجموعہ، شہر کا کتب خانہ، دمشق کی امریکی لائبریری اور عربی اخبارات کا مطالعہ کیا۔ ایک رات آپ زاویۃ الحسنی کے کتب خانے کے ہال میں سو رہے تھے کہ ایک جملہ بڑے زور اور وضاحت کے ساتھ آپ کی زبان پر جاری ہوا۔ آنکھ کھلی تو ان الفاظ کی حلاوت اب بھی محسوس ہو رہی تھی اور دل چاہا کہ یہ الفاظ پھر جاری ہوں۔ آپ نے اسے اپنا پہلا روحانی تجربہ قرار دیا، اسے الہام کی وہ کیفیت پہچانا جو حضرت علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے، اور اسے تسلی سمجھا: وہ کام جاری رکھیں جس کے لیے آئے تھے اور ویزا اللہ پر چھوڑ دیں۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک۔
واقفِ زندگی اور سفارت خانے کی ملازمتویزا بالآخر پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے حل ہوا: تجویز یہ ہوئی کہ آپ وہاں ملازمت اختیار کر لیں۔ اسی سے وہ تردد پیدا ہوا۔ آپ کو ہچکچاہٹ ہوئی اور آپ نے اسے اپنے ہی سوال کی صورت میں لکھا، واقفِ زندگی اور سفارت خانے کی ملازمت؟ آپ نے یہ سارا معاملہ وکالتِ تبشیر اور حضور کی خدمت میں لکھ بھیجا۔ ایک ماہ کے اندر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا جواب آیا کہ اگر اس طرح رہنے کی اجازت مل سکتی ہے تو ایسا کر لیں۔ گھر میں اس کی قیمتآپ نے اپنی اہلیہ اور ننھی بیٹی کو محلہ دارالبرکات میں چھوڑا، ایک ایسی جگہ جسے آپ نے ہر لحاظ سے ویرانہ قرار دیا۔ وہاں چند ہی مکا ن بنے تھے اور باقی سارا محلہ سنسان پڑا تھا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶18 باپآپ کے بچے آپ کی غیر حاضری میں پلے بڑھے۔ آپ نے واپسی سے زیادہ رخصتی کے لمحوں کے بارے میں لکھا۔ گھانا کے چار سال کے بعد واپسیگھانا میں چار سال گزار کر جب آپ دوبارہ گھر پہنچے تو بیٹی حفصہ انوری آٹھ برس کی اور بیٹا زکریا اسماعیل انوری چار برس کا ہو چکا تھا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶21 لاہور سٹیشن، جون ۱۹۶۴ءجون ۱۹۶۴ء میں جرمنی روانگی کے وقت آپ اہلیہ اور دونوں بچوں کو ساتھ لے کر لاہور پہنچے، اور ابا جان بھی ہمراہ تھے تاکہ اہل خانہ واپس ربوہ جا سکیں۔ ٹرین سے لاہور کا منظر اوجھل ہوا تو بچے کی حالت کا تصور کر کے آپ کا دل بوجھل ہو گیا۔ یہ کیفیت کراچی تک آپ پر طاری رہی اور جب بھی وہ منظر سامنے آتا، لوٹ آتی۔ نائیجیریا میں بچےنائیجیریا پہلا تقرر تھا جہاں بچے بھی ساتھ گئے۔ حفصہ انوری، جو اُس وقت سولہویں سال میں تھیں، میٹرک کے بعد پہنچیں، اور زکریا اسماعیل انوری بارہ برس کی عمر میں چھٹی جماعت چھوڑ کر آئے۔ آپ نے لکھا کہ وہاں دونوں کی مزید تعلیم کا انتظام نہ ہو سکا اور یہ کمی بعد میں ان کے لیے طرح طرح کی دشواریوں کا سبب بنی۔ ہجرت کرنے والوں کے سرپرست۱۹۷۴ء کے بعد مسجد اُن لوگوں سے بھر گئی جو پاکستان سے یوں نکلے تھے کہ کچھ طے نہ تھا۔ آپ جس کام کا ذکر کرتے ہیں وہ ہر ایک کو سہارا دینے کا روزمرہ کام تھا۔ ۱۹۷۴ء کے فسادات کے بعد۱۹۷۴ء میں پاکستان کے اندر جماعت کے خلاف اٹھنے والے فسادات کے بعد بہت سے احمدی احباب جرمنی پہنچے اور وہاں پناہ کی بنیاد پر تحفظ حاصل کرنے لگے۔ ان کی اپنی تحریر میں¶773 مسجد نور بطور مرکزِ استقبالمسجد نور پناہ گزینوں کا مرکز بن گئی۔ جو بھی پہنچتا، سیدھا مسجد آتا۔ کیس وہیں تیار ہوتا، کھانے اور رہائش کا انتظام وہیں ہوتا اور ترجمانی کے لیے بھی وہیں سے بندوبست ہوتا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶774 وکیل، پھر پولیس دفترآپ ہر شخص کا کیس خود تیار کرتے، اسے وکیل کے پاس لے جاتے اور اگلے دن پولیس کے دفتر لے جا کر خود ترجمانی کرتے۔ ساتھ ہی آپ نے پولیس دفتر کے اپنے چکر کم کر دیے تاکہ مقامی پولیس کو یہ تاثر نہ ہو کہ احمدیہ مسجد کا امام لوگوں کو بلا رہا ہے۔ احباب کو ہمبرگ بھیجناجب فرانکفورٹ بھر گیا تو آپ نے احباب کو ہمبرگ بھیجنا شروع کیا، جہاں مسجد بھی تھی، مشن ہاؤس بھی اور مہمانوں کے لیے فرانکفورٹ کی نسبت زیادہ گنجائش بھی۔ ان کی اپنی تحریر میں¶555 زبان سیکھیےآپ نو وارد احباب پر زور دیتے کہ جرمن پڑھیں اور سیکھیں، خواہ اپنے خرچ پر ہی سہی، کیونکہ اس کے بغیر ان کی اسناد خواہ کتنی ہی اعلیٰ ہوں، بے کار تھیں۔ ان کی اپنی تحریر میں¶607 بھائیمسودات میں آپ کے اپنے بھائی بہن زیادہ تر اُس خاندان کے طور پر آتے ہیں جو ہر الوداعی موقع پر موجود ہوتا۔ لفظ برادرم آپ نے جس محبت سے استعمال کیا وہ ہدایت اللہ ہیوبش کے لیے تھا، وہ جرمن شاعر و صحافی جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ دینی اخوت ہے، نسبی رشتہ نہیں۔ ہر الوداع پر خاندانبیرونِ ملک روانگی کی خبر بھیرہ پہنچی تو والدین، بھائی اور بہنیں سب مقررہ وقت پر ربوہ پہنچے تاکہ آپ کو رخصت کریں، اور محلے کے لوگوں نے بھی اپنے اپنے انداز میں الوداعی تقریبات کا اہتمام کیا۔ پیرس، اپریل ۱۹۷۳ءاپریل ۱۹۷۳ء میں دونوں پیرس گئے تاکہ وہاں کی بڑی مسجد دیکھیں۔ آپ نے پہلے وہاں کے امام کو فون کیا کہ دو آدمی آ رہے ہیں، ایک فرانکفورٹ کی پہلی مسجد کا امام اور دوسرا ہمارا جرمن نو مسلم بھائی۔ ان کی اپنی تحریر میں¶481 ایک انٹرویو جس نے راہ کھولیجرمن ٹیلی وژن نے ہدایت اللہ ہیوبش کو بطور جرمن مسلمان انٹرویو کے لیے بلایا اور انہیں وضو کرتے، اذان دیتے اور نماز پڑھتے دکھایا، ساتھ مسجد نور کی تصاویر بھی نشر ہوئیں۔ اس کے بعد جرمن باشندوں کی جانب سے معلومات اور کتب کے لیے خطوط اور فون کالیں کثرت سے آنے لگیں۔ ان کی اپنی تحریر میں¶492 آپ کے بعد گفتگوآپ کی ایک تقریر کے بعد ہدایت اللہ ہیوبش نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا کہ انہوں نے عیسائیت کیوں چھوڑی اور اسلام کیوں قبول کیا۔ آپ نے لکھا کہ سامعین نے دونوں سے بہت اچھا اثر لیا۔ ان کی اپنی تحریر میں¶659 شاعر اور معروف ادیبہدایت اللہ ہیوبش شاعر بھی تھے اور بلند پای ہ ادیب بھی، اور جرمن صحافت و نشریات میں ایک معروف شخصیت تھے۔ ان کی وفات پر سولہ جرمن اخبارات میں ان کا ذکر ہوا۔ وفات، ۲۰۱۱ءہدایت اللہ ہیوبش کی وفات ۲۰۱۱ء میں دل کی حرکت بند ہو جانے کے باعث ہوئی۔ جرمن جماعت کی ایک کثیر تعداد نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی، جس کے بعد وہ فرانکفورٹ کے جنوب میں واقع ایک قبرستان میں دفن ہوئے۔
ان کی اپنی تحریر میں¶496 مصنفآپ نے اپنی خدمت کے آغاز ہی سے لکھنا شروع کیا۔ شائع شدہ تصانیف کی مکمل فہرست الگ درج ہے۔ اے ٹاک بٹوین اے مسلم اینڈ اے کرسچنگھانا کے پہلے چار سالہ قیام کے دوران آپ نے عیسائیت کے موضوع پر انگریزی میں سوال و جواب کی صورت میں ایک مختصر کتاب تیار کی۔ یہ مکرم پرنسپل صاحب کی منظوری سے جامعہ کی جانب سے شائع ہوئی، اور آپ نے لکھا کہ یہ بہت مقبول ہوئی۔ دیگر مشنوں نے اپنی زبانوں میں اس کے تراجم شائع کیے اور انگلستان کے مشن نے دو تین ایڈیشن نکالے۔ جرمن ایڈیشنڈاکٹر محمد عبدالہادی اٹالو چیوسی کو آپ کی یہ پہلی تصنیفی کوشش اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے اپنے شوق سے اس کا جرمن ترجمہ کیا، اور جرمن مشن نے اسے Ein Gespräch zwischen ein Muslim und Christ کے نام سے شائع کیا۔ دادا اور نانااس کا نشان ایک کتاب میں محفوظ ہے۔ آسان اردو، دو بچوں کے نامآپ نے آسان اردو اپنے دو بچوں کے نام معنون کی، اپنے نواسے مبشر احمد طارق اور اپنے پوتے عطاء النصر انوری، اور لکھا کہ ان دونوں کو اردو پڑھاتے ہوئے یہ اسباق تیار ہوئے، جنہیں پھر کتابی شکل دی گئی تاکہ دوسرے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ |