میرے دور تبلیغ کا آ غاز
جامعہ ۱سے فراغت کے معا ًبعد ہمارے لئے اب ایک نئے دور کا آ غاز ہوا۔ ہماری کلاس چھ طلبہ پر مشتمل تھی۔ (۱) صاحبزادہ مرزا حنیف احمدصاحب ۲ (۲) سید عبدالحی صاحب ۳ (۳) برادرم سلطان محمود انور صاحب ۴ (۴)برادرم بشیر احمد صاحب شاد ۵ (۵) شیخ رشید احمد صاحب ۶ اور خاکسار فضل الٰہی انوری۔ ان میں سے تین طلبہ صدرانجمن ۷ کے لئے مخصوص کئے گئے تھے۔ اور مؤخرالذکر تین انجمن تحریک جدید کے لئے۔ اس اعتبار سے گویا خاکسار منجملہ دیگر دو طلبہ کے تحریک جدید کے ماتحت تھا۔ چنانچہ جامعہ کی اس وقت کی آخری کلاس درجہ رابعہ کا امتحان دینے کے بعد ہم تینوں دفتر وکالت دیوان کے توسط سے دفتر وکالت تبشیر میں بھجوا دئے گئے۔ اب ہم گویا باقاعدہ ،،مبلغ،، بن چکے تھے یا یہ کہ ،،مبلغ،، کہلائے جانے کے مستحق قرار پا چکے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ دفتر وکالت تبشیر میں میرے دونوں دوستوں کے سپرد کیا کام ہوا، مگر میرے سپرد جو پہلا کام کیا گیا وہ یہ تھا کہ میں جا کر ڈاکخانہ سے تبشیر کی ڈاک لے آؤں۔ غالباً مددگار کارکن جو بھی تھا کسی اور کام کے لئے گیا ہوا تھا۔ اس وقت دفتر تبشیر تو اپنی مستقل موجودہ عمارت میں آ چکا تھا مگر ڈاکخانہ ابھی تک اپنی پرانی ، سب سے پہلی کچی اینٹوں سے تعمیر شدہ عمارت میں ہی تھا۔ جو تقریباً اس جگہ واقع تھی جو دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ (حال پاکستان) کے سامنے ہے اور جہاں اس وقت انس مارکیٹ بنی ہوئی ہے۔
وکالت تبشیر کا عملہ اس وقت وکیل التبشیر (مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) اور دو نائبین پر مشتمل تھا جن میں سے ایک حسن محمد خان صاحب (حال امریکہ) اور دوسرے مولوی بشارت احمد صاحب (المعروف سندھی) سابق مبلغ مغربی افریقہ تھے۔ ان میں سے اول الذکر یورپین اور امریکن مشنوں کے نگران تھے اور ثانی الذکر افریقن اور انڈونیشین مشنوں کے نگران تھے۔ ہمارے زیادہ تر مشن انہی ممالک میں تھے۔ میرے وکالت تبشیر میں پہنچنے کے چند دن بعد ہی میری تعیناتی غانا میں ہو گئی۔ تحریراً جو حکم ملا وہ تو صرف اتنا تھا کہ میں غانا جانے کے لئے تیار ہو جاؤں۔ زبانی یہ بھی علم ہوا کہ وہاں کوئی عربی سکول ہے جس کا میں نے وہاں جا کر چارج لینا ہے۔ چونکہ تفصیل نہیں بتائی گئی تھی اس لئے طبعاً مجھے تجسس پیدا ہوا کہ معلوم کروں وہ کس قسم کا سکول ہے۔ کہاں ہے۔ اس کا کیا معیار تعلیم ہے۔ کیا صرف عربی کی تدریس کے لئے مخصوص ہے یا کوئی اور مضمون بھی نصاب میں شامل ہو گا، وضیرہ۔ چنانچہ خاکسار نے یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ایک چٹھی مکرم وکیل التبشیر صاحب کو لکھی۔ اس کا جواب ملا کہ وہ سکول غانا میں بمقام ،،سویڈرو،، (swedro) ہے۔ باقی تنصیلات میں دفتر میں خود پہنچ کر حاصل کروں۔جب اس غرض کے لئے میں دفتر میں پہنچا تو مجھے مکرم مولوی بشارت احمد بشیر صاحب سے ملنے کو کہا گیا۔ ان سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ دیکھیں وہ سکول سویڈرو میں ہے۔ وہ بڑی اچھی جگہ ہے۔ وہاں پر ہماری جماعت بھی قائم ہے۔ اور باقی سکول کے متعلق آپ کو وہاں پہنچ کر سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ یہ تھیں ،،تفصیلات،، جو مجھے دفتر میں دی گئیں۔ دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا، خود دفتر کو بھی اس سے زیادہ کچھ علم نہ تھا۔ بہر حال مجھے جلد سے جلد سفر کی تیاری کے لئے کہہ دیا گیا۔ اسی دوران دفتر تبشیر نے مجھے سفر کے سلسلے میں ایک اضافی اطلاع دی۔ یہ کہ میں غانا (مغربی افریقہ) پہنچنے سے پہلے ۶ ماہ دمشق میں ٹھہروں گا تا کہ وہاں عربی زبان میں مہارت پیدا کروں۔ یہ کہ کراچی سے دمشق تک کا سفر خشکی کے راستہ ہو گا، جس کے لئے مجھے ایران اور عراق میں سے بذریعہ بس یا ریل کرنا ہوگا۔ اس کے لئے سارا انتظام کرنے کے لئے کراچی میں متعین مبلغ انچارج صاحب کو لکھا جا رہا ہے۔ یہ راستہ میرے لئے کیوں تجویز کیا گیا۔،نہ اس کے بارہ میں مجھے کچھ بتایا گیا، نہ مجھے دریافت کرنے کی جرائت ہوئی۔ میں واقف زندگی تھا اور مجھ سے امید کی جاتی تھی کہ میں سمعاً و طاعۃً کا نمونہ پیش کروں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ثا لثہ کے دور میں حدیقۃ المبشرین کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے یہ صورت نہیں رہی۔
میرے بیرون ملک جانے کے اس پروگرام کی اطلاع میرے والدین (جو ابھی تک بھیرہ میں مقیم تھے) میرے بھایئوں ، بہنوں، میرے اہل خانہ کے علاوہ میرے دوستوں اور اہل محلہ سب کو ہو گئی۔ اور یہ سب اپنے اپنے رنگ میں مجھے الوداع کہنے کی تیاری کرنے لگے۔ سب سے پہلی الوداعی پارٹی جو اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی تھی کہ اس میں حضرت المصلح الموعودؓ نے بھی شرکت فرمائی، جامعۃ المبشرین کی طرف سے تھی۔یہ پارٹی جو دریائے چناب کے پل کے پاس اس کے مغری کنارے کے اوپر ریتلے حصہ پر منعقد ہوئی، دراصل ایک پکنک کی صورت میں تھی جو اس وقت کے پرنسپل جناب مولٰنا ابوالعطائ صاحب جالندھری (مرحوم) کی خواہش اور انتظام کے مطابق دریائے چناب پر منعقد ہونی قرار پائی۔ دراصل اس پکنک کا پروگرام بہت پہلے سے طے قرار پا چکا تھا اور مکرم پرنسپل صاحب کا خیال یہ تھاکہ یوں ایک کھلی فضا میں جامعہ کے طلبہ کو جن کے سر پر مستقبل قریب میں دنیا کی قوموں کی اصلاح کا بار رکھا جانے والا ہے، حضرت المصلح الموعودؓ کے جسمانی اور روحانی قرب کا موقع میسر آ جائے۔ جب خاکسار کے بیروں ممالک روانہ ہونے کے پروگرام سے مکرم پرنسپل صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ تم بھی آ جانا،یوں تمہاری الوداعی پارٹی بھی ہو جائے گی۔
اس پارٹی کے پروگرام کی تفصیل تو اس وقت ذہن سے محو ہو گئی ہے مگر اس قدر یاد ہے کہ تکلفات سے بالکل مبرا ۳۔۴ گھنٹے کا یہ مرنجان مرنج قسم کا پروگرام ادب و مزاح کا ایک حسین امتزاج اپنے اندر رکھتا تھا۔ ْفجی(؟) کے ایک طالبعلم جمن بخش نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو زبان میں چند ایک لطیفے سنائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ چین میں لوگ اپنے بچوں کے نام کیسے رکھتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو تین لوہے کی سلائیاں آگ میں رکھ دیتے ہیں۔ جب وہ اچھی طرح گرم ہو کر لال ہو جاتی ہیں تو انہیں پکڑ کر پانی میں ڈبوتے ہیں۔ پھر جس قسم کی آواز ان میں سے نکلے وہی نام نچے کا رکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً چوں، چاں، چی وغیرہ۔ یہ لطیفہ سنانے کا مقصد دراصل ایک چینی طالبعلم برادرم عثمان چینی صاحب ۱ کے ساتھ مزاح کرنا تھا۔ طلبہ تو خیر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ حضور بھی خوب تبسم فرماتے رہے۔ اسی طرح خود عثمان چینی صاحب سے اردو میں ایک تقریر کروائی گئی۔ چونکہ ان کا اردو کا مخصوص تلفظ جو سننے والے کے لئے ایک عجیب حظ پیدا کرتا تھا، بجائے خود ایک لطیفہ تھا۔ ان کی ساری تقریر جملہ حاضرین کے لئے ہنسی کا گول گپا ثابت ہوئی۔ جن دوستوں نے انہیں دیکھا ہوا ہے وہ جانتے ہوں گے کہ وہ ابھی تک، گ، اور، ڑ، ادا نہیں کر سکتے۔ ان کی تقریر کا موضوع غالباً ،،دعا،، تھا۔، جس میں،، گڑ گڑانے،، کا لفظ بار بار آتا تھا۔ مگر ان کی زبان سے ،کرکرانا،،ہی نکلتا تھا۔ جس نے خوب حظ پیدا کیا۔ سب سے زیادہ دلچسپ حصہ برادرم قریشی ناصر احمد (شہید مرحوم) کی ایک تقریر تھی جس میں انہوں نے بعض علمائے سلسلہ کی تقریروں کے حصے خود انہی کے مخصوص لب و لہجہ میں بول کر سنائے۔ اور اس مہارت سے سنائے کہ خود بخود معلوم ہو جاتا تھا کہ کن صاحب کی تقریر ہے۔ ان میں مکرم حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ ، جامعہ کے بعض اساتذہ اور خود پرنسپل صاحب کے علاوہ خود حضرت المصلح الموعودؓ کی تقریر کے حصے (حضور کی اجازت سے) شامل تھیں، جنہیں حضور بھی سن کر بہت محظوظ ہوئے اور قریشی صاحب کی مہارت کی تعریف کی۔
دوران پروگرام ہی کسی وقت مکرم پرنسپل صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ (خاکسار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) عنقریب دمشق کے لئے روانہ ہونے والا ہے۔ حضور کچھ نصائح فرمادیں۔ اس پر حضورؓ نے جو فرمایا، اسے خاکسار اختصار کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
،،تم وہاں زبان سیکھنے کے لئے جا رہے ہو، وہاں ایک تو اپنے لوگوں (مراد اپنے اردو یا پنجابی بولنے والوں سے) نہ ملنا، زیادہ سے زیادہ عربوں کے ساتھ میل جول رکھنا ،ورنہ سالہا سال بھی رہو تو تمہیں زبان نہیں آئے گی۔ دوسرے بڑی بڑی ادبی کتابوں کی بجائے ہلکی قسم کا لٹریچر از قسم قصص پڑھنا۔ ادبی کتاب ذہن کو جلدی تھکا دیتی ہے اور انسان پڑھتے ہوئے نہیں تھکتا۔ تیسرے ایسی کتابوں کو ایک دفعہ نہیں، کئی کئی بار پڑھنا۔ پہلی دفعہ تو انسان دلچسپی