وہ کیوں آئے
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو کے ریلوے اسٹیشن کا واقعہ پیش آیا، اور اس کے بعد احمدیوں کے خلاف خونی فسادات کی خبریں آنے لگیں۔ اسی سال پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اور ملک کے اندر جماعت کے خلاف مہم پہلے ہی جاری تھی۔
راستہ انہوں نے خود نکالا
انہوں نے پڑھ رکھا تھا کہ بین الاقوامی تحفظ کا نظام کیسے کام کرتا ہے: اقوامِ متحدہ کا رکن ملک اس شخص کو پناہ دینے کا پابند ہے جسے اپنے ملک میں مذہب، سیاست، رنگ یا نسل کی بنا پر ستایا جا رہا ہو۔ کمی صرف ایسے ثبوت کی تھی جسے کوئی جرمن وکیل استعمال کر سکے۔ ہیمبرگ کے ایک اخبار میں پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کی رپورٹ شائع ہوئی تھی، اور وہ اس کا تراشہ وکیل مسٹر ہوف مان کے پاس لے گئے۔
جوں ہی میں نے وہ وکیل کے سامنے رکھا، وکیل اسے دیکھ کر اچھل پڑا۔ اس نے کہا: "بس یہی چاہیے تھا، اب کوئی مسئلہ نہیں۔" اور آدھے گھنٹے کے اندر اس نے ویسا ہی خط تیار کر دیا جیسا وہ پہلے اس بنگالی نوجوان کے لیے تیار کر چکا تھا، وہ تراشہ اس کے ساتھ لگایا اور کہا: "یہ کل پولیس کے دفتر لے جائیں۔"
پھر وہ دوبارہ گئے اور وکیل سے پوچھا کہ اس طریق پر آنے والے یہاں کتنا عرصہ رہ سکیں گے، اور حساب لگایا کہ یہ برس ان پر کیا خرچ لائیں گے۔ بات پھیلی اور احمدی نوجوان روزانہ آنے لگے۔
مسجد مرکزِ استقبال بن گئی
بہرحال ہماری مسجد نور اس وقت تک پاکستان سے آنے والے احمدی دوستوں کے لیے پناہ کا مرکز بن چکی تھی۔ جو دوست بھی آتا، سیدھا مسجد کا رخ کرتا۔ پھر اس کا مقدمہ یہیں تیار ہوتا، اس کے کھانے اور رہائش کا بندوبست یہیں ہوتا، اور مترجم بھی یہیں سے مہیا کیے جاتے۔ پہلے ہر دوست کا مقدمہ تیار کیا جاتا، اس کے کوائف رجسٹر میں درج ہوتے، اور پھر احمدی ہونے کا سرٹیفکیٹ دے کر اسے کسی واقف کار جرمن دوست کے ساتھ وکیل کے پاس بھیج دیا جاتا۔ گویا یہ خاکسار کا روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔
وہ دن اور رات، ہر وقت ہوائی اڈے سے سیدھے پہنچتے، اور مسجد ان کا پہلا پڑاؤ ہوتی۔ درخواست پر پتہ لکھنا ضروری تھا اور مسجد کا پتہ کسی صورت نہیں دیا جا سکتا تھا، اس لیے سب سے پہلے مکان تلاش کرنا پڑتا۔
چار مسائل
خوراک
ہر پاکستانی پانچ سو ڈالر ساتھ لا سکتا تھا۔ پاکستان کے حساب سے یہ بہت بڑی رقم تھی اور جرمنی میں بمشکل ایک ہفتے کا خرچ۔ تاکہ یہ رقم ان کے پاس محفوظ رہے، انہوں نے مشن ہاؤس میں لنگر جاری کیا اور نہایت کفایت سے چلایا۔
ان کی اپنی تحریر میں: ¶544
زبان
جو دوست آ رہے تھے، ظاہر ہے انہیں یہ تک معلوم نہ تھا کہ جرمن میں روٹی اور پانی کو کیا کہتے ہیں۔ اور یہاں شروع سے آخر تک صرف جرمن ہی بولنی، سننی اور سمجھنی پڑتی تھی۔
ابتدا میں وہ خود ساتھ جاتے، وکیل سے پولیس تک، اور مسجد میں ٹھہرے دوستوں کے لیے انہوں نے کلاسیں شروع کیں۔
کام
ایک غیر جرمن، خواہ ایم اے یا پی ایچ ڈی ہو، بیرونِ ملک آ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے گونگا بہرا ہو۔ اور گونگے بہرے کو کام کون دیتا ہے؟
انہوں نے ہر وہ کام کیا جو زبان کے بغیر ہو سکتا تھا، برتن دھونے اور دیگیں صاف کرنے سے لے کر سخت سردی میں اینٹیں لگانے اور راتوں کو گلی گلی اخبار بیچنے تک۔ جہاں ممکن ہوا انہوں نے ان کے لیے کام تلاش کیا، جس میں جنوبی جرمنی میں برطانوی فوج کے ایک یونٹ کی وہ ملازمت بھی شامل تھی جہاں انگریزی جاننے والوں کی ضرورت تھی۔
اپنائیت
انہوں نے دوستوں کو تاکید کی کہ جہاں تک ہو سکے مقامی لوگوں سے تعلق پیدا کریں، انہیں اپنے گھر بلائیں اور ان کے تہواروں پر انہیں مبارکباد دیں۔ جنہوں نے اس پر عمل کیا، انہیں اسی سے رہائش اور بہتر کام ملا۔
ان کی اپنی تحریر میں: ¶554
یہ کیا بن گیا
گویا ایک گھر جیسا ماحول بن گیا تھا، اور نئے آنے والوں کو یوں لگتا جیسے ایک حلقۂ احباب چھوڑ کر دوسرے حلقے میں آ گئے ہوں۔
انفرادی طور پر بھی ہر ممکن رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی گئی: تعلیم یافتہ دوستوں کو تاکید کی کہ خواہ اپنا خرچ کر کے سہی، جرمن زبان باقاعدہ سیکھیں، اور بعض نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ میں باقاعدہ داخلہ لیا۔ شادیاں ہوئیں اور انہوں نے میں نکاح پڑھائے۔
تعداد
۱۹۷۶ء میں کے دورے تک پاکستان سے تقریباً پانچ سو دوست جرمنی پہنچ چکے تھے، اور فرانکفورٹ اور اوفن باخ میں رہنے والوں کو آٹھ حلقوں میں تقسیم کیا جا چکا تھا۔
ان کی اپنی تحریر میں: ¶715
جو احتیاط انہوں نے برتی
ان حالات میں میں نے یہ احتیاط ضرور کی کہ پولیس کے دفتر جانا کم کر دیا، تاکہ کم از کم مقامی پولیس کو یہ تاثر نہ ہو کہ احمدیہ مسجد کا امام لوگوں کو بلا رہا ہے۔
ان کی اپنی تحریر میں: ¶543
اور پھر معاملہ پلٹ گیا
۱۹۸۹ء میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ جرمنی آئے اور خود اسی عمل سے گزرے۔ انہیں معلوم ہوا کہ ان کے اپنے زمانے کا نظام بدل چکا ہے: درخواستیں اب فرانکفورٹ پولیس میں نہیں بلکہ فرانکفورٹ کے قریب قصبے شوالباخ کے ایک میں دی جاتی تھیں، جہاں تمام مراحل طے ہوتے اور درخواست دہندگان کو ٹھہرایا جاتا۔ خاندان جنوری تا مئی ۱۹۸۹ء، پانچ ماہ شوالباخ میں رہا، پھر فرانکفورٹ سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور زیلیگن شٹاٹ کے ایک ہوٹل میں، جہاں اطلاع ملی کہ مقدمہ منظور ہو گیا ہے اور نیلے پاسپورٹ وصول کیے جا سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ منظوری کے بعد بھی الگ مکان نہیں ملتا تھا، اور خاندان برسوں ہوٹلوں یا پناہ گزینوں کی مشترکہ رہائش گاہوں میں رہتے تھے۔