خاکسار کی پیدائش ،احمدیت سے وابستگی اور ابتدائی تعلیم
خاکسار ۱۹۲۷ئ میں بھیرہ(ضلع شاہ پور۔حال سرگودہا) میں پیدا ہوا۔یہیں خاکسار کے ننھال تھے جو پیشہ کے لحاظ سے کاشتکار تھے ۔اس کے برعکس والد صاحب ،ماسٹر امام علی صاحب حضور پوری ثم بھیروی، ڈسٹرکٹ بورڈ سرگودہاکے محکمہ تعلیم میںمدرس تھے۔جہاں تک احمدیت کا تعلق تھا تو ابا جان کے سب سے بڑے بھائی، ماسٹر محمد زمان صاحب،مدفون بہشتی مقبرہ قادیان،ہمارے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئے جو اگرچہ جوانی میں ہی فوت ہو چکے تھے مگر ان کی وجہ سے گھر میں احمدیت کی چرچا ہوتا رہتا تھا۔چنانچہ خاکسار کے چھوٹے تایامنشی محمد سلطان کاتب اسی اثر کے نتیجے میں احمدی ہو چکے تھے۔ان کے بڑے بھائی یعنی خاکسار کے بڑے چچا جن کا نام محمد رمضان تھا البتہ آخردم تک احمدی نہ ہوئے۔ خودخاکسار کے ابا جان نے بھی بہت بعد میں یعنی اندازاً ۳۱؍۱۹۳۰ ئ میں احمدیت قبول کی۔اَس وقت خاکسار کی عمر ۳یا۴ سال تھی۔خاکسار اپنے والدین کا دوسرا بچہ تھا۔خاکسار سے بڑی خاکسار کی ہمشیرہ اقبال بیگم صادقہ خاکسار سے دوسال بڑی تھیں۔خاکسار سے چھوٹی دوسری بہن رابعہ بیگم ناصرہ تھی۔بس ہم اَس وقت اپنے والدین کے تین ہی بچے تھے ۔ہم دیکھا کرتے کہ والدہ صاحبہ بعض اوقات اپنے آپ کو پیٹنے لگتیں،اپنے بال نوچ لیتیں اور رو رو کر براحال کر دیتیں۔ بڑے ہونے پر معلوم ہوا کہ ان کا یہ رونا پیٹنا ابا جان کے احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے تھا۔دراصل والدہ صاحبہ اپنے غیر احمدی والدین کے اثر کے تحت شروع شروع میں سخت مخالفانہ رنگ رکھتی تھیں مگر جلد بعدیعنی ۱۹۴۰ئ کے لگ بھگ انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی اور پھر ایسا اخلاص دکھایا کہ گھر میں مالی قربانی کی ایک بہترین مثال قائم کر دی۔احمدیت قبو ل کرنے کے جلدبعد انہوں نے وصیت بھی کر دی۔والد صاحب تو پہلے ہی موصی تھے۔
اب ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ ابا جان اَ س وقت جبکہ انہوں نے احمدیت قبول کی، کس سکول میں پڑھا رہے تھے مگر اس قدر یاد ہے کہ جن دنوں خاکسار موضع سالم،ضلع سرگودھا کے ورنیکلر مڈل سکول کی د وسری یا تیسری جماعت میں پڑھتا تھا جہاں ابا جان بطور سیکنڈ ماسٹر ملازم تھے تو گھر میں اکثراحمدیت کا چرچا ہوتارہتا۔اَس وقت والدہ صاحبہ اگرچہ ابھی تک احمدی نہیں ہوئی تھیں تاہم ان کی وہ کیفیت نہیں رہی تھی جو اس سے قبل ہم گھر میں دیکھا کرتے تھے ۔ اَ س وقت سکول میں اباجان کے علاوہ دوتین اور مدرس بھی احمدی تھے جن کے ساتھ جمعہ کی نمازیں باجماعت ادا ہوتی تھیں۔اور یہ بھی کہ دوسرے غیر احمدی ٹیچر جن کی سکول میں اکثریت تھی،ابا جان کے ساتھ احمدیت کے موضوع پر اکثربحث کیاکرتے ۔خاکسار کو اپنی کم سنی کے باعث موضوع بحث کے بارے میں تو کچھ علم نہیں تاہم جب ہم بہن بھائی بڑے ہوئے تو گھر میں احمدیت پر گفتگو کرتے ہوئے ابا جان اپنے سالم کے زمانے کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے کہ احمدیت کے ابتدائی زمانے میں آپ کی غیر احمدی ٹیچروں کے ساتھ کس قسم کی بحثیں ہوا کرتی تھی۔چونکہ ابا جان اَن دنوں نئے نئے احمدی ہوئے تھے،اس لئے بتاتے کہ غیر احمدی ٹیچروں کے اعتراضات کا جواب تلاش کرنے کے لئے آپ کو کس قدر تگ و دو کرنی پڑتی۔مثلاًبتایا کرتے کہ میں اخبار الفضل منگایا کرتا تھا جبکہ دوسرے ٹیچر اخبار زمیندار منگایا کرتے۔اَن ایام میں اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان صاحب کا مرغوب مشغلہ احمدیت پر نت نئے اعتراضات شائع کرنا تھا۔چنانچہ جونہی اس میں کوئی نیا اعتراض شائع ہوتا،غیر احمدی ٹیچر فوراً اباجان کو لے کر بیٹھ جاتے کہ اچھا جی،بتائیں ،اس کا کیا جواب ہے۔اَس وقت اخبار الفضل کا بھی ایک نمایاں کردار ہوا کرتا تھا یعنی جب بھی اخبار زمیندار یا کسی اور غیر احمدی اخبار میں احمدیت پر کوئی اعتراض شائع ہوتا تو کچھ دنوں کے بعد بلا تاخیراس کا جواب شائع ہو جاتا اور اس طرح پر جہاں آپ خود مطمئن ہو جاتے،وہاں اعتراض کرنے والے ٹیچروں کا بھی گھر پورا کر دیتے۔
اخبار الفضل کے حوالے سے اپنے ابتدائے احمد یت کے زمانے کی باتوں میں سے ابا جان نے ایک ایسی بات بتائی جس نے ایک مستقل اثر نہ صرف آپ پر چھوڑا بلکہ ہم بچوں پر بھی ہمیشہ کے لئے قائم کردیا۔وہ دعا کی قبولیت کے بارے میں تھی۔فرماتے تھے کہ جب آپ سالم سکول میں پڑھاتے تھے تو ایک بار ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ میں نے تبادلہ کی ضرورت محسوس کی اور اس کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔مگر تبادلہ کی درخواست محکمہ میں بھیجے ہوئے کافی عرصہ گزر گیا اور کوئی جواب نہ آیا۔اس پر فرماتے ہیں کہ میرے دل میں دعا کے بارے میں کچھ بدظنی پیدا ہونی شروع ہو گئی۔اس اثنا میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ایک خطبہ شائع ہوا جس میں دعا ہی کا مسئلہ بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ دعا کے بارے میں کبھی ناامید نہیں ہونا چاہئے۔یہ کہ بعض دعائیں ایسی ہوتی ہیں جن کو قبولیت کی حد تک پہنچنے کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔اور مثال بھی وہی دی ہوئی تھی جس سے خود میں دوچار تھا۔یعنی فرمایا کہ مثلاً ایک ٹیچر ہے،وہ اپنے تبادلے کے لئے دعا کرتا ہے۔اب یہ چیز ایسی نہیں جس کا ایک فرد واحد سے تعلق ہو۔ تبادلے کا خواہشمند ٹیچرآخر کسی دوسرے ٹیچر کی جگہ جائے گا اور تب جائے گا جب وہ دوسرا ٹیچر بھی تبدیل ہوگا۔یعنی وہ کسی تیسرے ٹیچر کی جگہ جائے گا۔اس طرح پر ایک ٹیچر کی تبدیلی کئی دوسرے ٹیچروں کی تبدیلی کے بعد عمل میں آئے گی اور اس کے لئے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔پس دعا کرنے والے کو اپنی دعا کے قبول ہونے کے لئے جلدی نہیں کرنی چاہیئے۔ابا جان فرماتے تھے کہ حضور کی یہ بات پڑھ کر میری ساری کوفت دَور ہو گئی کیونکہ وہ مثال ایسی تھی جو خود مجھ پر صادق آ رہی تھی۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد فی الواقعہ میراتبادلہ عمل میں آگیا۔
موضع سالمؔ سے اباجان کا تبادلہ اپنے آبائی وطن حضورپورمیں ہوا۔یہ گاؤں یعنی حضور پور، بھیرہ سے ۵ کلومیٹرجانب شرق ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔یہیں خاکسار نے پرائمری کا امتحان پاس کیا۔یہ ۱۹۳۸ئ کی بات ہے۔اباجان ہی ہمیں چوتھی کلاس میں پڑھایا کرتے تھے۔چنانچہ اَس سال جب ضلعی بنیادوں پر وظیفہ کے امتحان کا وقت آیا تو خاکسار سمیت ہماری کلاس کے چار لڑکے اس امتحان میں شامل ہوئے۔ وظیفہ کا یہ امتحان ضلعی ہیڈکوارٹرسرگودھا میں ڈسٹرکٹ بورڈ کے ڈسٹرکٹ انسپکٹر فضل الٰہی چشتی لیا کرتے تھے۔ ابا جان ایک لائق ٹیچر تھے۔چنانچہ انہوں نے چند ماہ قبل اسی ڈسٹرکٹ انسپکٹر کے زیر اہتمام ضلع ملتان میں ہونے والے وظیفہ کے امتحان کے پرچے منگوا لئے۔ان میں حساب کا ایک ایسا سوال تھا جو بظاہر کچھ پیچیدہ سا تھا مگر اباجان نے وہ سوال بار بار بطور مشق کر اکر ہمیں اس کا جواب زبانی یاد کرادیا کہ ممکن ہے یہی سوال ہمارے وظیفہ کے امتحان میں بھی آ جائے۔ اور فی الواقعہ یہی ہوا۔ اور ہم چاروں نے وہ سوال بالکل ٹھیک ٹھیک حل کر دیا ۔چنانچہ ہم چاروں یعنی محمد یونس،عنایت اللہ، لعل خان اور خاکسار وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔
ہائی سکول کی تعلیم کے لئے خاکسار دوسرے طلبہ کے ساتھ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں داخل ہوااوروہیں سے دسویں کا امتحان پاس کِیا۔خاکسار کا یہ چھ سالہ تعلیمی زمانہ اس لحاظ سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ خاکسار پانچویں کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔سکول میں مسلمان ٹیچروں کے علاوہ بعض ہندو ٹیچر بھی تھے مگر اکثریت مسلمان ٹیچروں کی تھی جن میں ہیڈماسٹرصاحب میاںمحمد شفیع کے علاو ہ ایک اور ٹیچرجن کا میاں فضل الٰہی تھا اور وہ ڈرائنگ ماسٹرتھے، احمدی تھے۔دوسال کے بعد میاں محمد شفیع صاحب ہیڈ ماسٹر تو قضا الٰہی سے فوت ہو گئے اور ان کی جگہ ایک اور ہیڈماسٹرمفتی محمد اسلم صاحب آ گئے۔اور پھر خاکسار کے دسویں کا امتحان دینے تک وہی ہیڈ ماسٹر رہے۔
ہائی سکول کی تعلیم کے دوران کی بعض تلخ اور بعض پر مزاح یادوں کا ذکرقارئین کی دلچسپی کا موجب ہوگا۔ پَرمزاح یادوں میں سب سے پہلے ایک ہندو ٹیچر کا ذکر کِیا جاتا ہے۔ دراز قد کے اس لحیم و جسیم ٹیچرجن کا نام ماسٹر دیوی داس تھا،سکول کے سیکنڈ ماسٹر تھے اورعموماً بڑی کلاسوں میں انگریزی اور سائنس وغیرہ پڑھاتے تھے ۔ ان کے بارے میں سکول میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ہم طلبہ کو پتہ چل گیا کہ انہیں از راہ تفنن’’ ماسٹر شرلی داس‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔اب ہمیںیہ تو معلوم نہیں کہ اپنے ا س nick name کے بارے میں انہیں بھی علم تھا یا نہیں مگر سکو ل بھر میں ان کا یہ نام ایسا مشہور تھا کہ طلبہ نے شاید ہی انہیںان کے اصل نام سے پکارا ہو۔ اس نام کی وجہ تسمیہ جو طلبہ میں مشہور تھی،یہ تھی کہ کسی وقت انگریزی پڑھاتے ہوئے انہوں نے لفظ surely کو’’ شرلی ‘‘پڑھ دیا تھا۔بس اس وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے لڑکوں میں’’ شرلی داس‘‘ مشہور ہو گئے۔ایک بار لطیفہ یہ ہوا کہ ہماری چھٹی کلاس میں ہماری کلاس کا انگریزی ٹیچر چھٹی پر چلا گیا، ان کی جگہ پڑھانے کے لئے ماسٹر دیوی داس آ گئے۔ وہ سٹیج کے اوپر کرسی پر آکر بیٹھے ہی تھے کہ لڑکوں کو کیا سوجھی کہ اَن میں ایک اٹھااور سٹیج کے اوپر جاکراپنی انگریزی کتاب کھولی اور جہاں لفظ surely لکھا تھا،وہاں انگلی رکھ کر دبی زبان سے ان سے پوچھنے لگا،ماسٹرجی،یہ کیا لفظ ہے؟وہ کہنے لگے:’’ surely‘‘یعنی اس کا اصل تلفظ بتایا۔وہ دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے واپس اپنے ڈیسک پر آکر بیٹھا ہی تھا کہ ایک دوسرا لڑکا اٹھا اور اسی طرح سٹیج پر جاکر اسی لفظ پر انگلی رکھ کران سے پوچھنے لگا،ماسٹر جی،یہ کیا لفظ ہے؟انہوں نے اسے بھی اس کا صحیح تلفظ بتایا اور وہ بھی اسی طرح اپنے چہرے کے اوپر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرے اپنی کرسی کے اوپرواپس آگیا۔ ابھی وہ اپنے ڈیسک پرآیا ہی تھا کہ ایک تیسرا اٹھااور وہ بھی اسی طرح لفظ surely پرانگلی رکھ کر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا،ماسٹرجی ،یہ کیا لفظ ہے؟ اس طرح پرلڑکوں کا ایک تانتا سا بندھ گیا تو ماسٹر دیوی داس صاحب اونچی آواز سے کہنے لگے،بھئی یہ لفظ surely ہے surely۔وہ اپنے اوپر اس مذاق کو سمجھ تو گئے مگر انہوں نے کسی لڑکے کواس پر نہ جھاڑا اور نہ مارا۔
انہی کے بارے میں اسی طرح کا ایک اورلطیفہ ہماری کلاس میں یوں رونما ہوا کہ ہمارے انگریزی کے استادچند دنوں کے لئے رخصت پر چلے گئے۔چنانچہ اس بار بھی اتفاق سے ماسٹر دیوی داس ہمیں انگریزی پڑھانے کے لئے آ گئے اور کچھ دنوں تک پڑھاتے رہے۔ان کا طریق تھا کہ ایک دن جو سبق پڑھاتے،دوسرے دن سن لیا کرتے۔ایک دن جب وہ ایک لڑکے سے سبق سن رہے تھے تو وہ لفظ reply کاتلفظ اس بھول گیا۔چنانچہ اس نے ’’ریپلائی‘‘ کو’’ ریپلی ‘‘پڑھا۔ اس پر جواَس کے اور ماسٹر دیوی داس صاحب کے درمیان جو مکالمہ ہوا،وہ ہم مدتوں مزے لے لے کر دہراتے رہے۔ وہ کچھ اس طرز کا تھا:
لڑکا:’’رِیپلی‘‘
ماسٹر دیوی داس صاحب:(بڑے زور سے گویا چِلُاکر)’’رِیپلی دا بچہ!‘‘
لڑکا(تلفظ کو درست کرتے ہوئے):’’ریپلی‘‘
ماسٹر دیوی داس صاحب:(پہلے سے بھی زیادہ زور سے چِلُاتے ہوئے):’’ریپلی دا بچہ!سَور دا بچہ!، (اور پھر ذرا لمبا کھینچ کر)’’رِی ، پلا ، ئی!‘‘
اسی طرح جب ہم ساتویں کلاس میں پہنچے تو ایک ٹیچر جو ہمیں اردو پڑھایا کرتے تھے(ان کا نام بھولتا ہے)،اتنی سخت طبیعت کے مالک تھے کہ یوں لگتا تھا،غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سارے کلاس یوں سہم جاتی جیسے کوئی آفت نازل ہوگی ہو۔ویسے چونکہ ہمیں پتہ تھا کہ وہ ایک لمحہ بھی تاخیر برداشت نہیں کرتے،اس لئے ہم سب طلبہ اپنی اردو کی کتاب ان کے پہنچنے سے پہلے ہی بستوں میں سے نکال کر اپنے ڈیسکوں کے اوپر رکھ لیا کرتے تھے۔ ایک دن یوں ہوا کہ ماسٹر صاحب(ان کا نام بھولتا ہے مگر تھے وہ مسلمان اور جسم کے لحاظ سے بھی کافی مضبوط بلکہ پہلوان لگتے تھے)اپنی کتاب لانابھول گئے ۔چنانچہ کلاس میں آکر سٹیج کے اوپر بیٹھتے ہی منہ نیچا کرکے نہایت دھیمی آواز میں بولے:’’کتاب دیں‘‘ ۔یعنی لڑکوں سے پڑھانے کے لئے کتاب مانگی۔مگر اس قدر دھیمی الفاظ میں یہ جملہ کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیا کہا ہے۔تاہم سب لڑکے سرآگے کرکے ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔انہوں نے دوبارہ وہی جملہ مگر پھر اسی قدردھیمی الفاظ سے بولا:’’کتاب دیں‘‘۔اب بھی ہم کچھ نہ سمجھے کہ کیا کہا ہے،تاہم سب نے اپنے سروں کوذرا اورآگے کر لیا۔اب جو ماسٹر صاحب کو غصہ آیاتوبڑے زور سے مندرجہ ذیل جملہ ان سے منہ سے نکلا:’’اوکھچردے بچیو،کتاب بھی دیوو!‘‘۔ ان کے یہ جملہ بولتے ہی سب لڑکے اپنی اپنی کتاب اٹھا کران کی طرف بڑھے۔جب وہ ماسٹر صاحب گھنٹی بجنے پر کلاس چلے گئے تولڑکوں کو ایک اورشغل ہاتھ آ چکا تھا۔وہ بار بارماسٹر صاحب کا یہ جملہ دہرانے لگے:’’اوکھچردے بچیو،کتاب بھی دیوو!‘‘
پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ خاکسار کے گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں داخل ہونے کے وقت احمدی ہیڈماسٹرصاحب میاںمحمد شفیع صاحب تھے جو دو سال بعد ہی قضا الٰہی سے فوت ہو گئے ۔ ان کی جگہ کو ہیڈماسٹرصاحب آئے اور جن کا نام مفتی محمد اسلم صاحب تھا،وہ نظم و ضبط کے لحاظ سے تو کافی سخت گیر واقع ہوئے تھے، ہمیشہ اپنے ہاتھ میںبید رکھتے۔اوراگر انہیں کوئی لڑکا کلاس روم سے باہرشورکرتا ہوا یاسکول گراؤنڈ میں آوارہ پھرتا ہوا نظرآ جاتا توفوراًاسے دو بید لگا کرکلاس روم میں بھجوا دیتے۔دوسری بات انہوں نے سکول میں آتے ہوئے یہ کی کہ سکول میں جاری شدہ ایک دیرینہ رسم کو انہوں نے بند کروا دیا۔وہ رسم یہ تھی کہ ہر سال جب دسویں کلاس کے سکول سے فارغ ہونے کا وقت آتاتونویں کلاس کے طلبہ کی طرف سے انہیں ایک الوداعی پارٹی دی جاتی جس میں ہر دو کلاس کے طلبہ کے علاوہ تمام اساتذہ بھی شامل ہوتے ۔اس طرح پر بیس پچیس طلبہ کو قریبًا ستر،اسی لوگوں کی مہمان نوازی کا خرچ برداشت کرنا پڑتا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب موصوف نے اس رسم کو طلبہ پر غیر ضروری مالی بوجھ سمجھتے ہوئے ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔
وہ دسویں کلاس کوعموماً انگریزی پڑھایا کرتے تھے، تاہم چونکہ ہم ابھی نچلی کلاسوں میں پڑھتے تھے،ا ن کی بطور ٹیچرخوبیوںکا علم اَس وقت تک نہ ہو سکا جب ہم خود دسویں کلاس میں نہ پہنچ گئے ۔اس سلسلہ میں اپنی ذات کے ساتھ بیتا ہوا ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں ۔ وہ ہمیں پوئٹری(انگریزی کی نظموں کی کتاب)پڑھا تے ہوئے ہرلفظ اور ہر شعر کی خوب تشریح کرتے۔پھر دوسرے روزطلبہ سے وہ ضرور سنتے۔جو طلبہ ان کی بتائی ہوئی تشریح کے مطابق جواب نہ دے سکتے،انہیں کھڑا کر دیتے اور پھر ایک ایک کودو ،دو بید لگاتے۔یہ ان کا روز مرہ کا معمول تھا۔خاکسارچونکہ مانیٹر بھی تھا جس کا ہیڈ ماسٹر صاحب کو علم تھااورعموماً ان کا پڑھایاسبق باقاعدہ یاد کرکے آتا تھا ،اسلئے انہوں نے خاکسار سے اپنا پڑھا یا ہوا سبق بہت کم سنا کرتے تھے۔ ایک دن خاکسار نے سستی کی اور سبق یاد نہ کیا۔کچھ یہ بھی خیال تھا کہ مجھ سے تو وہ سنتے ہی نہیں۔لیکن ہوا یہ کہ انہوں نے مجھ سے ہی سن لیا اور غلط سنانے پر مجھے بھی دوسرے طلبہ کے ساتھ کھڑ ا کر دیا ۔اب جب سزا دینے کا وقت آیا تو یہ کہہ کر کہ آج سب بیٹھ جائیں،انہوں نے کسی کو سزا نہ دی۔اَس دن سب لڑکوں نے میرا شکریہ ادا کِیا کہ آج تمہاری وجہ سے ہم سب سزا سے بچ گئے ہیں۔
دسویں کلاس کا یونیورسٹی کا امتحان مارچ ۱۹۴۴ئ میں ہوا۔خاکساراس امتحان میں ۶۳۴ نمبر لے کر سکول میں اوُل آیاجس کے نتیجے میں خاکسار کا نام جیسا کے دستور تھا،سکول کے بورڈ پر لکھا گیا۔فالحمد للہ علیٰ ذٰلک